ایاز ’’صادق‘‘ ہوگئے

Posted on November 13, 2015



”ایاز صادق نے دو تہائی اکثریت سے دوبارہ اسپیکر کا انتخاب جیت لیا۔“

اس کا مطلب ہے محمود و ایاز ایک ہوگئے ہیں۔

محمود کا تو پتا نہیں لیکن ایاز کا پتا ہے کہ وہ اب صادق ہوگئے ہیں۔

یہ صداقت کی سند انہوں نے کہاں سے حاصل کی ہے؟

عوام اور پارلیمنٹ نے انہیں یہ سند جیت کی صورت میں دی ہے۔

تمہارا مطلب ہے ووٹ کے نتیجہ میں ایاز صادق ہوگئے ہیں۔

صادق ہی نہیں ہوئے دو بار ایک ہی پارلیمنٹ سے اسپیکر بننے والے پہلے پاکستانی بھی بن گئے ہیں۔

تم نوٹ کی بات کررہے ہو یا ووٹ کی کھل کر کہو۔

کھل کر کیسے کہوں جب پارلیمنٹ والے کھل کر نہیں بول سکتے اور انہیں بھی ووٹ پر سچ لکھنا پڑتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ عوام نوٹ پر لکھتے ہیں اور پارلیمنٹ والے ووٹ پر۔

ایسا کیا لکھا ہے ووٹ پر اور کس نے لکھا ہے ؟

سرخ روشنائی سے کسی نے اپنا کلیجہ نکال کر خون میں ڈبو کر لکھا ہے کہ ،

’’یہ پارلیمنٹ ملک دشمن، عوام دشمن اور کسان دشمن ہے اس لیے اسے ووٹ دینا جرم ہے‘‘۔

اس کی تو تحقیقات ہونا چاہیے کہ یہ پارلیمنٹ کا خفیہ راز کس نے افشا کیا ہے۔

یہ کون سا خفیہ راز ہے جو عوام کو پتا نہیں تھا۔ عوام تو پہلے ہی اس طرح کی باتیں نوٹوں پر تحریر کرتی رہتی ہے۔ لگتا ہے اس طرح کی تحریروں کا سرغنہ پارلیمنٹ میں بھی پہنچ گیا ہے۔
یہ تو بہت خطرناک بات ہے لیکن یہ کون ہوسکتا ہے؟

جمشید دستی کا نام سننے میں آرہا تھا لیکن انہوں نے یہ کہہ کر جان چھڑائی کہ جس نے بھی لکھا ہے سچ لکھا ہے، لیکن میں نے یہ سچ لکھنے کی غلطی نہیں کی۔

اس کے علاوہ اور کون ہوسکتا ہے؟ یہی شخص پارلیمنٹ کے راز افشا کرتا رہتا ہے۔

اس کو تو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا انچارج بنا دینا چاہیے۔

دماغ خراب ہوا ہے، بجائے سزا دینے کے انعام دینے کی بات کررہے ہو۔

ہمارے ملک میں تو ایسا ہی ہوتا ہے کہ جس کو سزا دینی ہو اسے وزیر بنا دیا جاتا ہے اور جسے انعام دینا ہو اسے او ایس ڈی بنا دیا جاتا ہے۔

پارلیمنٹ میں اسی لئے ملک دشمن، عوام دشمن اور کسان دشمن بڑی تعداد میں پہنچ گئے ہیں۔

رینجرز والے تو پہلے ہی ان کی تلاش میں عوام میں مارے مارے پھر رہے ہیں، ان کو کیا پتہ کہ وہ یہاں پارلیمنٹ میں چھپے ہوئے ہیں۔

پارلیمنٹ ملک دشمنوں کے چھپنے کی محفوظ پناہ گاہ تو نہیں ہوسکتی البتہ عوام دشمن اور کسان دشمن کے بارے میں نہیں کہہ سکتے کیونکہ عوام کے دشمن عوام سے ووٹ لے کر یہاں آجاتے ہیں اور پھر عوام انہیں اپنے علاقوں میں تلاش ہی کرتے رہ جاتے ہیں۔

وہ ان کے دیے گئے نوٹوں پر پھر ان کی یاد میں اکثر محبت بھرے پیغامات لکھ کر بھیجتے ہیں لیکن وہ راستے ہی میں کہیں اسٹیٹ بینک والے اچک لیتے ہیں اور ان تک بات نہیں پہنچ پاتی جہاں تک پہنچنی چاہیے۔

”چٹھی نہ کوئی سندیس ۔۔۔۔ جانے وہ کون سا دیس جہاں تم چلے گئے!“

Source: – http://www.express.pk/story/406328/