”اقبالـؒ اور خودی”

Posted on November 4, 2015



”اقبالـؒ اور خودی”

شاعرمشرق علامہ محمد اقبال کی شاعری کا بنیادی مرکز ومحور ان کا فلسفہ خودی تھا۔۔۔اقبال نے خودی کے فلسفے کو جس خوبصورتی سے پیش کیا اس سے پہلے کبھی کسی مفکر نے اس انداز میں پیش نہیں کیا تھا۔۔۔۔۔
پیر رومیؒ کی قیادت میں عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی عظیم دولت سے مالا مال ہو کر اقبالؒ جب عرفانِ ذات کے سفر پر روانہ ہوا تو اُس پر وسیع و جمیل کائنات کے راز کچھ اس طرح منکشف ہونا شروع ہوئے’جیسے عجائبات کا دبستاں کھل گیا ہو۔اُس کا ذوقِ جمال اُسے سرُور و وجدان کی منزلیں طے کراتا ہوا بارگاہِ حُسنِ مطلق تک لے آیا۔کائنات اُسے مرقعِ جمال نظر آئی۔اُس نے دیکھا ‘غور سے دیکھا اور دیکھ کر محسوس کیا کہ موتی، قطرہ، شبنم، آنسو، ستارے’سب ایک ہی جلوے کے رُوپ ہیں۔ اُسے قطرہ، دریا، بادل، جھیلیں، سمندر ایک ہی وحدت میں نظر آئے۔اُسے ذرّے میں صحرا اور قطرے میں دریا نظر آیا۔ اُس نے فرد اور معاشرے کی وحدت دیکھی’ بِھیڑمیں تنہائی دیکھی اور تنہائی میں ہجوم نظر آیا۔

اقبالؒ کو یہ کائنات ایک عظیم دھڑکتے ہوئے دل کی طرح محسوس ہوئی۔اُس کے اپنے دل کی دھڑکن ‘کائنات کی دھڑکنوں سے ہم آہنگ ہو گئی۔اُس نے جلوۂ جاناں کو ہر رنگ میں آشکار دیکھا۔اقبالؒ کو عشق نے اُس مقام تک پہنچا دیا ‘جہاں انسان کو غیر از جمالِ یار کچھ نظر نہیں آتا۔اُس مقام پر انسان کہہ اٹھتاہے:

؎اب نہ کہیں نگاہ ہے ‘اب نہ کوئی نگاہ میں

محو کھڑا ہوا ہوں میں’ حُسن کی جلوہ گاہ میں

اقبالؒ نے خودی کو اتنی وسعت عطا کر دی ہے کہ اس کو کسی ایک حوالے سے سمجھنا مشکل ہے۔قاری کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اسے کہا جا رہا ہے لیکن ایسا نہیں ہے۔ اقبالؒ بہر حال اقبالؒ ہے۔وہ فقیر ہے،عارفِ حق ہے،مفکرِ فِکرصالح ہے، ملّتِ اسلامیہ کا ایک غیور فرزند،پیرِ رومیؒ کا مریدِ با وقار ہے۔ فلسفۂ شرق وغرب سے آشنا ہونے والا اقبالؒ خودی کے تصور سے جو پیغام دے رہا ہے وہ ایک عظیم پیغام ہے۔ اقبالؒ خودی کے بحرِ بے پایاں سے افکار کے گوہرِ تابدار نکالتا ہے اور قاری کے دل و دماغ کو دولتِ لا زوال سے مالا مال کر دیتا ہے۔ اقبالؒ کی خودی کو سمجھنے..