کردار اور قوت فیصلہ

Posted on November 3, 2015



کردار اور قوت فیصلہ
جب جنرل ضیاء کا طیارہ حادثہ ہوا تو اس وقت میں گیاروہیں جماعت کا طالب علم تھا۔ حادثے کی خبر کے وقت میں اپنے ماموں کے گھر باہر والے صحن میں کھڑا تھا۔ ان کے ٹی وی لاونج میں اونچی آواز میں لگے ٹی وی پر طیارہ حادثے کے بارے میں بتایا جا رہا تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جیسے ہی جنرل ضیاء کی موت کی خبر میرے کانوں تک پہنچی تو بے اختیار موٹے موٹے آنسو میری آنکھوں سے گرنے لگے۔ اور ہمارے گھرانے میں جرنل ضیا سے نفرت کا دیوہیکل استعارہ اس وقت اتنا مضبوط تھا کہ ہمارے گاوں میں ہمارے لوگ اس کی تصویر اخبار سے کاٹ کر اس پر اس وقت تک تھوکتے اور جوتے برساتے کہ جب تک وہ پھٹ کر مٹی میں تحلیل نہ ہو جاتی۔ ایسی طاقتور نفرت کے باوجود جنرل ضیاء کی موت پر آنسو ایک عرصہ تک میری سمجھ باہر رہے۔ کبھی سوچتا کہ شاید وہ آنسو جنرل ضیاء کے طیارے کے کو پائلٹ فلائٹ لیفٹیننٹ ساجد کی وجہ سے آئے ہونگے جو میرے بہت شفیق اور قریبی دوست تھے۔ پھر سوچا کہ نہیں ان کی موت کی خبر تو مجھے بعد میں معلوم ہوئی۔ پھر سوچا کہ نہیں وہ شاید جنرل ضیا کے مرنے کی خوشی کے آنسو رہے ہونگے۔ پھر سوچا کہ کسی انسان کے مرنے پر خوشی کے آنسو کیسے ہو سکتے ہیں؟ نہیں نہ وہ خوشی کے آنسوس تھے نہ وہ غم کے آنسو تھے۔ وہ جبر سے نجات کے آنسو تھے۔ اور مجھے تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ یہ چھوٹی سی حقیقت پہچانتے مجھے برسوں لگے۔ باقی جنرل ضیاء کی نفرت کے استعارے نے جو اس دور دیوہیکل شکل اختیار کی، بھٹو صاحب کی پھانسی کے علاوہ وہ بھی آج بہت حد تک بحث طلب محسوس ہوتی ہے۔ یہ درست ہے کہ پاکستان میں طالبانائزیشن، بنیاد پرستی، فرقہ پرستی اور تشدد نے ضیا دور مین عملی شکل اختیار کی مگر اس فکر کی بنیاد تو بہر حال بھٹو صاحب کے دور میں ہی رکھی گئی تھی۔
یہ سب لکھنے یا بتانے کا مقصد محض اتنا سا ہے کہ بعض اوقات ہم جزبات، عقائد اور محبتوں اور نسل در ندسل چلتی آ رہی عداوتوں اور تعصبات کا شکار ہو کر کسی ایک مقام پر ٹھہر جاتے ہیں۔ بہت سی باتوں اور تصورات کی درست فہم تک پہنچتے وقت لگتا ہے۔ زندگی ارتقا کا عمل ہے۔ کچھ لوگ اپنی سمجھ سے اس عمل کو تیز کر لیتے ہیں اور کچھ ضدوں کا شکار ہو کر جوہڑ کے پانی طرح ٹھہرے رہ کر خود کو گدلا کرتے رہتے ہیں۔
عمران خان کی طلاق کی خبر پر میڈیا اور عوامی حلقوں میں جاری بحث پر ان کے اکثر خیر خواہوں کا ردعمل کچھ ایسا ہے کہ جیسے وہ کہنا چاہ رہے ہوں کہ “مہربانی فرما کر تنویر زمانی، ایان علی، زرداری، حنا ربانی کھر، بلاول، عائشہ احد ملک، حمزہ شہباز، شہباز شریف اور ڈی پی او قصور کی سابقہ بیوی تک محدود رہیں خان کی طلاق ٹائگرز کا زاتی معاملہ ہے”۔ پی ٹی آئی ٹائگرز کا یہ مطالبہ اتنا ہی زاتی ہے جتنی ان کی مندرجہ بالا شخصیات پر تنقید زاتی ہوا کرتی تھی۔ آجکل پی ٹی آئی کے ہمدردوں اور بعض دوسرے قابل قدر دوستوں کی طرف سے بھی یہ مطالبہ سامنے آ رہا ہے کہ کسی کی زاتی زندگی میں مداخلت نہیں ہونی چاہیے، عمران اور ریحام کی طلاق ان کا نجی معاملہ تھا۔ لہذا عوامی حلقوں یا میڈیا پر اس حوالے سے کوئی بحث کوئی بات نہیں ہونی چاہیے۔ بعض معتدل دوستوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ مندرجہ بالا شخصیات پر تحریک انصاف والوں کی تنقید بھی غیر مناسب تھی اور اب جو عمران خان کی طلاق کو لے کر بحث ہو رہی ہے یہ بھی غلط ہے۔ تاہم میری ناقص رائے میں دوستوں کی یہ تمام تاویلیں اخلاقی میزان پر ایک حد تک درست ہونے کے باوجود بحث طلب ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ نہ پی ٹی آئی کے مخالفین پر پی ٹی آئی کی طرف سے سوال اٹھانا غلط تھا اور نہ یہ بحث غلط ہے جو اب عمران خان کی طلاق کو لے کر کی جا رہی ہے۔ ہاں البتہ بات کرتے کم سے کم تہزیب اور اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹنا چاہیے۔ کردار اور قوت فیصلہ، قومی لیڈران، ہیروز یا celebrities کے معاملے میں قطعی غیر اہم نہیں ہے۔ یہ سب کردار معاشرتی کردار پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ لوگ انھیں پسند کرتے ہیں، انھیں اپنی زاتی زندگیوں میں فالو کرتے ہیں۔ رہی بات کردار کے علاوہ کسی کی انتظامی صلاحیتوں کی تو وہ تو بڑے بڑے جابر و فاسق حکمرانوں کی بھی بہتر تھیں مگر کیا ہم انھیں درست خیال کرتے ہیں؟ اس ضمن میں انتہائی مثال کے طور پر یزید کا کرداربھی زیر بحث لایا جا سکتا ہے کہ بعض لوگوں کے مطابق اس کی انتظامی صلاحیتیں بہتر تھیں۔ تاہم واضع کرتا چلوں کہ میں یہاں خدا نخواستہ عمران خان یا کسی بھی دوسرے سیاستدان کے لیے یزید کی تشبیح پیش نہیں کر رہا۔ میں اس علمی بحث کو محض لیڈرشپ میں کردار اور قوت فیصلہ ضروری یا غیر ضروری ہونے کو زیر بحث لا رہا ہوں۔ اور ویسے بھی عمران خان کا معاملہ انتہائی سطح والا نہیں ہے۔ تاہم ان کے معاملے میں فیصلے اور مردم شناسی کی کمی بہت واضع ہے۔ ان کی شادی کا سارا سلسلہ جس طرح پایہ تکمیل تک پہنچا اور جس طرح ختم ہوا اس میں پوشیدہ کیا ہے؟ اگر یہ خان کی پہلی طلاق ہوتی تو بھی کچھ خاص بات نہ ہوتی اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ عمران خان نے آنکھوں دیکھی مکھی نگلی تھی۔ تو اب یہ کیسے مان لیا جائے کہ ان کی اس فکر، اس فیصلے سے نوجوان نسل متاثر نہیں ہو گی؟ ایسا قومی ہیرو یا لیڈر جس کی فالونگ آسمان تک پہنچی ہو اس کے اتنے غیر سنجیدہ فیصلے کو ایسے ہی ذاتی معاملہ کہہ کر چھوڑ دیا جائے؟ آرمی پبلک کے بچوں کی چالیسویں سے پہلے شادی عوام الناس کو کیا پیغام ملا؟ اور لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ نکاح کنٹینر میں سات محرم کو ہوا تھا۔ کردار کو نہ لبرل ازم سے جوڑا جا سکتا ہے نہ مذہب کی اس پر اجارہ داری ہے مگر یہ کسی کے طرز حکمرانی اور معاشرے پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ تاہم ہمارے معاشرے میں کردار وہ غیر اہم خوبی سمجھی جاتی ہے جسے ہم معاشرے میں ہر روز محض مخالفیں کے لیے زیر بحث لاتے ہیں۔ جدید معاشرے بھی اپنی قیادتوں کے کردار اور فیصلہ سازی کی قوت کو پرکھتے ہیں۔ لہذا پاکستانی عوام کو بھی چاہیے کہ معاشی حیثیت اور ہیروازم ڈھونڈنے سے زیادہ قیادت کا چناو میں لوگوں کی فکری پختگی کو ذہن میں رکھا کریں۔ آخر میں دوستوں اور معترضین کو ایک بار پھر یاد کرواتا چلوں کہ عوامی لوگوں کی زندگیاں پبلک پراپرٹی ہوتی ہیں۔ ان پر اخلاقی حدود میں رہتے بات کرنے سے کوئی اخلاقیات متاثر نہیں ہوتی۔ باقی ایسی اخلاقیات کو اب مسترد ہی کر دینا چاہیے جو محض مخالفین کے لیے پیش کی جاتی ہوں۔
عمار کاظمی