مولوی

Posted on November 3, 2015



مولوی۔۔۔۔۔۔۔ملک ریاست

ایک دفعہ میں کہیں سفر پر جا رہا تھا تو دوران گفتگو ایک شخص بار بار مولویوں کو برا بھلا کہہ رہا تھا۔۔۔ ملک کے اندر کوئی بھی خرابی ہو تو اس کا ذمہ دار صرف مولویوں کو ٹھہراتا تھا ۔۔مختصر یہ کہ بات ایران کی ہو یا توران کی اس کی تان آ کر مولوی پے ہی ٹوٹتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہاں سفر میں ایک مولوی صاحب بھی بیٹھے اس کی باتیں بہت غور سے سن رہےتھے لیکن اس کی کسی بات کا جواب دینا انھوں نے مناسب نہ سمھجا تھا۔۔۔۔ کچھ ہی دیر گزری تھی کہ وہ شخص براہ راست مولوی سے مخاطب ہو گیا۔۔۔مولوی سے کہنے لگا کہ تم لوگ بہت چھوٹی سوچ کے مالک ہو۔۔۔ تنگ نظر ہو۔۔۔ ملک میں ترقی نہیں چاہتے۔۔ اور پتہ نہیں کیا کچھ اس نے مولوی صاحب سے کہا۔۔۔۔ اگے سے مولوی صاحب نے کہا کہ بھائی صاحب غصہ کس لیے ہو رہے ہو اگر تم چاہتے کہ پاکستان میں عورتیں پینٹ شرٹ پہنیں۔۔۔۔۔ آزاد گھومیں ۔۔۔ ان سے کوئی باز پرس نہ کی جائِے تو گزارش ہے کہ تم اپنی بیٹی بہو اور بیوی کو پینٹ سمیت جو دل کرتا ہے پہناو۔۔۔ ہم ایسا نہیں کر سکتے۔۔۔ ہم تنگ نظر ہی ٹھیک ہیں۔۔۔اتنی بات تھی کہ وہ شخص غصے سے آگ بگولا ہو گیا اور اس پے چڑھ دوڑا کہ آپ نے میری بیوی اور بیٹی کے بارے کیوں ایسا کہا۔۔۔۔ لیکن گاڑی میں تھے اسلیئے پاتھا پائی کا کوئی خطرہ بہرحال موجود نہیں تھا۔۔ پھر سفر کے اختتام یک کوئی شخص دوبارہ نہ بولا۔۔۔۔
یہ قصہ سنانے کا مطلب یہ تھا کہ چند لوگ پاکستان میں بھی عورتوں کے حوالے سے مولویوں پر تنقید کرتے ہیں۔۔ انھین بنیاد پرست ، شدت پسند اور تنگ نظر کہتے ہیں ۔۔۔ تو ان سے گزارش ہے کہ اگر آپ کو کوئی تکلیف ہے تو آپ اپنی بیوی بیٹی کو جیسا مرضی ہے ڈریس پہناںیں مولویوں کو انشاءاللہ کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مولوی کا کام ہے لوگوں کو دین سکھانا تو ظاہر ہے وہ بے حیائی کا درس دینے سے رہے۔۔ وہ تو نہیں کہہ سکتے کہ آپ اپنی عورتوں کو جینز پہنائیں۔۔۔۔ آپ کی مرضی ہے کہ عمل کریں یا کریں۔۔۔ مولوی کا جو کام ہے وہ کرتا رہے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مولوی، مسجد ،مدارس اور اس سے منسلک طبقے پر تنقید کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔۔۔ یہ سچے پاکستانی ہیں۔۔۔۔ میڈیا ان کے بارے غلط پروگنڈے کرتا ہے۔۔۔۔ انشاءاللہ کسی بھی مشکل وقت میں یہ فوج سمیت دفاعی اداروں کے شانہ بشانہ نظر آئیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔