موجودہ عدالتی نظام اور انصاف کا حصول

Posted on November 1, 2015



موجودہ عدالتی نظام اور انصاف کا حصول
الله تھانہ, کچہری اور ہسپتال سے بچائے!
کسی بھی معاشرے میں بولے جانے والے سادہ سے محاورے اس نظام کی عکاسی کرتے ہیں جو ان پر نافذ کیا جا رہا ہو- ہم سب کا اپنی زندگی میں کبھی نہ کبھی عدالتوں سے واسطہ رہتا ہے- اپنے ارد گرد بڑی آسانی سے ہم کسی ایسے شخص کو تلاش كر سکتے ہیں جو ہمارے نظام انصاف کا مارا ہو- اس نظام میں انتہائی پچیدہ, طويل اور مہنگا رستہ اختیار کرنے کے بعد بھی انصاف ملنے کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی- حتى کہ ایک پڑھا لکھا باعزت شخص سادہ سے عدالتی کام کے لیے بھی کچہری جانے سے پہلے دس بار سوچتا ہے-
ایسٹ انڈیا کمپنی کی شکل میں برطانیه نے برصغیر پر قبضہ کرنے کے بعد جو عدالتی نظام وضع کیا اس کا مقصد عوام کو انصاف فراہم کرنے سے زیادہ انہیں “کنٹرول” کرنا تھا- لھذا ایسا نظام قائم کیا گیا جو عوام کو تحفظ و انصاف کی جگہ ذلت, خوف اور غلامی کا احساس دلاتا رہے-
یہی نظام “لا الہ الا الله” کے نام پر حاصل کردہ ملک کو ورثہ میں ملا- آج بھی برطانیہ کی “ذهنى غلامی” اس وقت دیکھی جا سکتی ہے جب بڑے نامور دانشور اور جماعتیں اس بوسیدہ نظام کو مكمل “تبدیل” کرنے کی بجائے بہتر کرنے کی بات کرتے ديكهائى ديتے ہیں- اسی لیے آج تک اس نظام کو سرخی پاوڈر لگانے کے علاوہ تبدیل کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی- جيسا کہ اس “اعلى” انگریزی عقل کے بنائے قانون کے متبادل نظام موجود ہی نہ ہو-
آج اس نظام کی ناکامی میں انسانی عقل کے بنائے انتہائی ناقص و پچیدہ پروسجرل() اور سبسٹينٹو() قانون کے ساتھ نا اہل انتظامیہ بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہے- اپنا حق حاصل کرنے عدالت جانا اپنا مال و عزت گوانے کے مترادف بن چکا ہے-
بحیثیت “شريعة اینڈ لاء” کے طالبلم میں اس نظام میں موجود چند ناقص قوانین کے متبادل اسلامی قانون پیش کرتا ہوں جس سے واضع ہو گا کہ اسلامی نظام کس طرح سستا اور فوری انصاف یقینی بناتا ہے-
عدالتی استثنیٰ:
عدالتی استثنیٰ سے مراد ہے كہ جج کو دوران کيس کوئی غلطی کرنے یا غلط فیصلہ کرنے کے باوجود کوئی سزا نہیں دی جا سکتی- کہنے کو تو یہ استثنیٰ صرف دیوانی مقدمات( سول کيسز) میں حاصل ہوتا ہے لیکن عملا کسی بھی کيس میں غلطی یا کسی دوسرے سبب غلط فیصلہ کرنے کے باوجود جج کو کچھ نہیں کہا جا سکتا-
یہ انگلش قانون کا تصور ہے جو کہ “کنگ کن دو نو رونگ” () سے نکلتا ہے- اس استثنیٰ کے سبب جج (خصوصا نچلی عدالتوں کے جج) انصاف مہیا کرنے کی بجائے فریقین کے وکلا کے درمیان “ریفری” کا کردار ادا کرتے ہیں- اور ہمیشہ “تکڑے” وکیل کے حق میں ہی فیصلہ ہوتا ہے- اس کے ساتھ جج رشوت لے کر یا دوستی, رشتے داری میں آ کر بھی فيصلے کرتے ہیں اسی لیے “وکیل کی بجائے جج کروا لینا” کا محاورہ مشہور ہے-
اسلام میں جج کو کوئی استثنیٰ حاصل نہیں ہوتا- لہذا اگر جج خلاف قانون (شریت ) یا خلاف حقائق کوئی فیصلہ دے تو جج کے خلاف عدالت میں جایا جا سکتا ہے- جج کی طرف سے کسی قسم کی کوتاہی یا فراڈ کی صورت میں سخت سزا بھی دی جا سکتی ہے- اس لیے جج ہمیشہ حقائق کو سمجھ کر شریعت کے مطابق ہی فیصلہ کرتا ہے- جس سے سائل کو نچلی سطح پر انصاف ملتا ہے-
غیر ضرورى اپیل کا نظام:
موجودہ نظام میں ڈسٹرک کورٹ سے فیصلہ ہو جانے کے بعد مخالف فريق اپیل لے کر سیشن کورٹ پھر ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ تک جاتا ہے- سپریم کورٹ آخری كورٹ ہوتی ہے اور اس کے بعد فیصلہ حتمی تصور کیا جاتا ہے-
اپیل کا تصور جج کے استثنیٰ کے تصور سے ہی نكلتا ہے- یعنی جب جج غلط فیصلہ کرے تو بجائے جج کو پکڑنے کے آپ مخالف فريق کو عدالتوں میں گهسیٹو………..!
میرا سوال ہے اگر ڈسٹرک, سیشن اور ہائی کورٹ غلطی کر سکتی ہے تو پھر سپریم کورٹ کیوں نہیں؟! پھر سپریم کورٹ آخری کیوں؟ اس کے بعد بھی عدالتیں چلتی رہنی چاهيں جب تک کہ فریقین مر نہ جائیں-
اپیل کے چکر میں فریقین کے لاکھوں روپے اور دس دس سال لگ جانا عام سی بات ہے- جو کہ اس نظام میں حق حاصل کرنے کو مہنگا, طويل اور پچیدہ بنا دیتا ہے- اپیل کو ہی استعما ل کرتے ہوے اکثر مجرم اور جھوٹ پر کھڑا فريق کئی سال عدالتوں میں گزار کر مظلوم کو ذلیل کرتے ہیں جو اس نظام کو اور بھی بھيانک بنا دیتا ہے-
اسلام میں اپیل کا کوئی تصور نہیں- پہلے جج کا فیصلہ ہی حتمی ہوتا ہے- اگر کبھی فیصلہ حقائق يا قانون(شریت ) کے خلاف ہو جائے تو جج کے خلاف کيس ہوتا ہے نہ کے فريق مخالف-
اس طرح فریقین کے لاکھوں روپے اور قیمتی وقت ضائع ہونے سے بچتا ہے اور فوری و سستا انصاف مہیا ہوتا ہے-
شک یا ایف آئی آر کی بنیاد پر گرفتاری:
موجودہ نظام میں کسی بھی شخص کو شک کی بنیاد پر گرفتار کیا جا سکتا ہے- گو کہ جرائم كو “قابل دست دراندازی پولیس” اور ناقابل دست دراندازی پولیس میں تقسیم کیا گیا ہے, اس کے باوجود کسی بی بے گناہ کو با آسانی الزام لگا کر جیل بجھوایا جا سکتا ہے-
اسی سبب آج ہزاروں بے گتا ہ افراد پاکستانی جیلوں میں قيد ہیں- ایک حالیہ تحقيق کے مطابق پاکستانی جیلوں میں قيد اسی(80) ہزار افراد میں سے ستر(70) فیصد “انڈر ٹرائل” قیدی ہیں- یعنی ابھی تک ان کے مجرم یا بے گناہ ہونے کا فیصلہ نہیں ہوا……!
اگر پانچ یا دس سال قيد رہنے کے بعد کوئی شخص بے گناہ ثابت ہو جائے تو اس کے قيد میں کٹے سالوں کا بدلہ کون دے گا؟! اور اگر دس سال قد رہنے کے بعد ایک شخص کو پھانسی کی سزا ہو جاتی ہے تو جو سزا اس نے قدا کی صورت میں کاٹی وہ کس جرم کی تھی؟!
اور پھر سب جانتے ہیں کہ پوری دنیا میں جیل عموما مجرموں کی نرسریاں اور سکول بن چکی ہیں- حتى کہ همارى جیلوں کے اندر چرس, پوڈر وغيره کا کاروبار عروج پر ہے- جس پر سابقہ چیف جسٹس افتخار چوہدری ایکشن بھی لے چکے ہیں-
تو کیا ایسے میں ملزم کے غیب ہونے کی دلیل دے کر جيل بھرنا اور اربوں روپہ خرچ کرنا عقل مندی ہے؟!!
جبکہ ہم جانتے ہیں کہ بھاگنے والے پولیس کی تحویل سے بھی بھاگ جاتے ہیں اور کبهى تو عدالتیں خود بھی بھگا دیتی ہیں (ریمنڈ ڈيوس, جوئیل کوکس اور حالیہ زين قتل کيس )- پکڑے جاتے ہیں تو اكثر صرف کمزور اور معصوم لوگ-
اسلام میں شک کی بنیاد پر کسی کو سزا (قيد یا تشدد) دینا حرام ہے- گواہ و ثبوت لانا مدعی کا کام ہے- کيس ثابت ہونے پر ہی کسی کو سزا دى جا سكتى ہے-
اس طرح بے گناہ لوگوں کی عزت محفوظ رہتی ہے اور عوام تھانے, کچہری سے خوف کی بجائے تحفظ محسوس کرتی ہے!
گواہوں کا المیہ:
موجودہ نظام میں سچے گواہ کو کسی قسم کا کوئی تحفظ حاصل نہیں ہوتا- اگر جانی تحفظ حاصل ہو بھی جائے تو قانونی پچیدگیوں کے سبب ایک اچھا وکیل با آسانی سچے گواہ کو جھوٹا ثابت کر سکتا ہے- اس سب کے ساتھ روز روز کے عدالتی چکر لگوا کر یہ یقینی بنایا جاتا ہے کہ آئندہ كوئى کسی کی سچی گواہی دینے کا بھی نہ سوچے….!
جبکہ جھوٹے گواہوں کو عملا کوئی سزا نہیں دی جاتی- لہذا ہمارے پیشے (وکالت) میں ایک کيس میں چار, پانچ جھوٹے گواہ بنانا عام سی بات ہے-
اسلام سچے گواہ کو جان, مال اور عزت کا تحفظ فراہم کرتا ہے- اور جھوٹھے گواہوں کو با قاعدہ سزا دی جاتی ہے جس کی ایک مثال قذف (زنا کا جھوٹا الزام لگانے والے کو اسی کوڑے) ہے- سچے گواہ کو تحفظ حاصل ہونے کے سبب حقدار کو حق کا حصول یقینی ہو جاتا ہے- جبکہ کوئی بھی شخص جھوٹی گواہی دینے کی جرات نہیں کر سکتا جس کے سبب جھوٹا کيس بنانا تقریبا ناممکن ہو جاتا ہے-
————
یہ چند قواننں مثال کے ليے بيان کيے- جبکہ اسلام کا ایک مکمل عدالتی نظام ہے جو حقوق وفرائض, جزاء و سزا اور ضابطہ کار کے قوانين كے ذريعه سستا و فوری انصاف کو یقينی بناتا ہے- اس سب کے باوجود ہم اس بوسيدہ نظام کو تبدیل کيوں نہں کرنا چاہتے……؟!!
آج ہماری عدالتوں میں ستر لاکھ سے زیادہ کيس زير التوا ہیں- کیا موجودہ نظام کے ساتھ چلتے ہوئے یہ کيس ختم ہونا ممکن ہیں…!؟
نوٹ: مضمون کی طوالت كے پيش نظر کوئی حوالہ نہیں لکھا اگر کسی دوست کو کوئی ریفرنس یا سوال ہو تو وہ کر سکتا ہے-