سیاسی طوائف : پوچھا فائدہ کس میں ہے؟

Posted on October 29, 2015



Dated: October 28, 2015
Siyasi Tawaif: Poocha Faida Kis Mein Hai
By: Syed Anwer Mahmood
سیاسی طوائف : پوچھا فائدہ کس میں ہے؟
تحریر: سید انور محمود

سیاسی نظریات تو ہمارئے ملک میں ناپید ہوچکے ہیں، کسی زمانے میں جب کسی سیاسی پارٹی کے بارئے میں بات کی جاتی تھی تو ساتھ ہی یہ بھی ذکر ہوجاتا تھاکہ فلاں جماعت دائیں بازو کی ہے اور فلاں جماعت بائیں بازو کی ہے(عام طور دائیں بازو سے مراد قدامت پرست اور بائیں بازو سے مراد ترقی پسند لیا جاتا ہے)، مثلاً جماعت اسلامی، پاکستان تحریک انصاف ، پاکستان مسلم لیگ اور جمیت علمائے اسلام دائیں بازو کی جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی ، عوامی نیشنل پارٹی بائیں بازو کی جماعتیں کہلاتی ہیں، ان جماعتوں کے کارکنوں یا اُنکے حامیوں کے بارئے میں کہا جاتا ہےکہ اُن کے خیالات یا اُن کی سوچ دائیں بازو یا بائیں بازوکی ہے (ان لوگوں کو رائٹسٹ اور لیفٹسٹ کہہ کر بھی پکارا جاتا ہے)۔ سابق صدر غلام اسحاق خان کے دست راست روئیداد خان نے ایک ٹی وی پروگرام میں بتایا تھا کہ غلام اسحاق خان محترمہ بینظیر بھٹو کو اس وجہ سے بھی نااہل قرار دلوانا چاہتے تھے کہ مرحومہ لیفٹسٹ تھیں جبکہ غلام اسحاق خان رائیٹسٹ تھے، اس لئے وہ کسی مخالف نظریے والے کے ساتھ اشتراک عمل پر آمادہ نہیں ہوتے تھے۔ اب اسے آپ کیا کہنگے کہ قیام پاکستان سے ابتک اختیارات کا اصل منبع رائیٹسٹ ہی رہے ہیں۔ یہ اپنی نجی زندگی میں تو اسقدر لبرل ہوتے ہیں کہ حقیقی لبرل بھی شرما جائیں، لیکن جب قوم کے سامنے آتے ہیں تو انتہائی قدامت پسند ہوتے ہیں۔

مفاد پرستی تو پاکستان میں شروع سے ہی تھی لیکن پھر بھی کچھ نہ کچھ نظریاتی سیاست موجود تھی۔ جنرل ضیا ءالحق کے زمانے سے نظریاتی سیاست کا خاتمہ شروع ہوا اور پھر لوٹا یا لوٹی کریسی شروع ہوئی۔ لوٹا اورلوٹی تو ہمیشہ سے ہیں بس ہم نے لوٹا کہنے کی عادت ڈالی ہوئی ہے، آسان سی بات ہے لوٹا مذکر ہے اور لوٹی مونث۔ اس کی مثال یوں لے لیں کہ منظووٹو جو کبھی مسلم لیگی تھےاور جناع مسلم لیگ بھی بناچکے ہیں آجکل پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر ہیں اور ماروی میمن جو پرویزمشرف کی بہت قریبی ساتھی تھیں وہ اب مسلم لیگ ن میں شامل ہیں تو ہم کہہ سکتے ہیں منظور وٹو لوٹا ہیں تو ماروی میمن لوٹی ہیں۔ آغا شورش کاشمیری مرحوم نےمولانا کوثر نیازی کے بارئے میں کہا تھا کہ یہ شخص موقعہ پرست ہے جو پہلے جماعت اسلامی میں رہا اوربعد میں کنونشن لیگ میں اور اب پیپلزپارٹی میں وہ بھٹو سے کیا وفا کرے گااور ایسا ہی ہوا جب ضیاءالحق نے مارشل لاءنافذ کیا تومولانا کوثر نیازی اور غلام مصطفی جتوئی نے لوٹا بنکرسب سے پہلےاُس کے دربار میں حاضری دی۔ ان سیاستدانوں نے فوراً اپنا الگ پارٹی دھڑا بنا لیا یعنی جب مصیبت کا وقت آیا تو اپنی پارٹی سے یوں منہ پھیر لیا، گویا کبھی اس کے ساتھ نہ تھے۔ ضیاءالحق کے بعد اس کے دربار کےلوٹے اپنے اپنے مفاد کی تلاش میں نکلے۔ نواز شریف جو جونیجو کو اپنا عظیم قائد اور خود کو ضیاء الحق کا بیٹا قرار دیتے تھے سب سے پہلے لوٹا بنکر غلام اسحق خان کے ساتھ مل کرجونیجو کا پتہ صاف کیا اور 1990ء میں ملک کے وزیر اعظم بنے۔

جنرل مشرف کے دور میں تو لوٹوں کے کاروبارمیں ایسی ترقی ہوئی کہ اس وقت نہ صرف مفاد پرست بلکہ سیاسی جماعتوں تک نے لوٹوں کا کردار ادا کیا۔ نواز شریف نے جونیجو سے جو مسلم لیگ چھینی تھی مشرف کے آنے بعد اس میں سے ق لیگ نے جنم لیا اور ری پبلکن پارٹی کی یاد تازہ کر دی اور پوری ق لیگ لوٹا بنکر مشرف کو اتنی مرتبہ وردی میں صدر بنانا چاہتی تھی جس کی خود مشرف کو بھی شاید تمنا نہ ہو۔ جولائی 2001ء میں پاکستان کی چھ مذہیو سیاسی جماعتوں نے ایک نئے اتحاد ”متحدہ مجلس عمل“ کا اعلان کیا اورپھر کچھ عرصے بعد متحدہ مجلس عمل نے بھرپور لوٹے کا کردار ادا کیا، 19دسمبر 2003ء کو حکومت سے “ایل ایف او” پر تمام معاملات طے کرکے سودے بازی کرلی۔28دسمبر 2003ءکوقاضی حسین احمد ،مولانا فضل الرحمن و دیگر قائدین کی موجودگی میں متحدہ مجلس عمل نے آئین میں 17ویں آئینی ترمیم کا بل منظور کرکے پرویز مشرف کی حکمرانی کو آئینی و قانونی جواز فراہم کردیا ، اس زمانے میں ایم ایم اے کی جگہ ملاملٹری اتحاد بہت مشہور ہوا تھا ۔ پیپلز پارٹی کے سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی بھی مفاد پرست لوٹا ہیں، موصوف ضیاء الحق کی کابینہ میں تھے۔

سیاستدان قوم کی رہنمائی کے دعویدار ہوتے ہیں اور حقیقتاً بھی یہ ان کا فرض منصبی ہے، لہٰذا قومی سطح پر مہذب اور شائستہ رویوں اور ذمہ دارانہ طرز گفتگو کی ترویج کیلئے انہیں عوام کیلئے مثال بننا چاہئے۔ قومی اسمبلی کے حلقہ 122 لاہور کے ضمنی انتخاب کے بعد بھی تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشیوں کی مہم میں ہر گزرتے لمحے کے ساتھ تندی و تیزی بڑھ رہی ہے ۔ عمران خان مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو بدترین کرپشن اور اپنے تجارتی مفادات کیلئے پاکستان کو کمزور کرنے کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں تو تحریک انصاف کے خلاف مسلم لیگ (ن) کے لیڈروں کا لب و لہجہ بھی تلخ ترین ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کچھ روز قبل تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو چور، پاکستان کا دشمن اور غدار قرار دیتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ تحریک انصاف نے منتخب جمہوری حکومت کے خاتمے کی سازش اور پارلیمنٹ پر حملے کیلئے یہودی اور ہندو لابی کے فنڈز استعمال کیے۔ بدنصیبی سے ہمارئے ملک کی ہر سیاسی جماعت میں بدتمیز رہنماوں کی کوئی کمی نہیں۔

دوستوں یہ ارض پاکستان ہے! انشا جی تو اس سوال کے جواب میں کہ”پاکستان کیوں بنایا تھا؟”لکھ گےغلطی ہوگئی آئندہ نہیں بنایں گے، لیکن اب کوئی دوسرا پاکستان بنے یا نہ بنے ہم تو اسی پاکستان میں رہ رہے ہیں جہاں ہر روز شام کو ہمارا میڈا ٹاک شوز کے نام پرسیاسی دوکانیں سجاتا ہے اور ان دوکانوں پر آنے والے 95 فیصد افراد کا تعلق کسی نہ کسی سیاسی جماعت سے ہوتا ہے، ان میں ہر قسم کے رہنما شامل ہوتے ہیں، یوں سمجھ لیں کہ آپکو اس میں سنجیدہ ، لوٹے اوربدتمیز ہر قسم کے سیاستدان ملینگے۔ یہ ٹاک شوز عام طور پر پرائم ٹا ئم میں براہ راست نشر ہوتے ہیں، میڈیا کی زبان میں پرائم ٹا ئم وہ وقت ہوتا ہے جس میں زیادہ ناظرین ٹی وی چینل کے سامنے موجود ہوتے ہیں۔ ان ٹاک شوز میں لوگوں کی پگڑی اچھالنا ایک عام بات ہے۔اس میدان کے لوگ بڑے بے رحم، بڑے بے لحاظ اور منہ پھٹ ہیں، ان ٹاک شوز میں وہ وہ اوچھے وار کیے جاتے ہیں کہ شاید جس کا تصور بھی نہ ہو، نہ عورت کا لحاظ ہے، نہ کسی کے مرتبے کا۔ یہاں جس کا جو دل چاہے وہ کہہ دیتا ہے۔

نجی ٹی وی چینل کے ایک ٹاک شوز میں تحریک انصاف کےرہنما شوکت یوسفزئی اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما دانیال عزیز موجود تھے، شوکت یوسفزئی نے دانیال عزیز کے بارئے میں کہا کہ” تم ایک سیاسی طوائف ہو،بھنگی تیرا خاندان ہی کیا ہے”۔ دونوں ہی پرانے لوٹے ہیں ، شوکت یوسفزئی ایک زمانے میں پیپلز اسٹوڈینٹ فیڈریشن کے صدر تھے، 1996 ء میں انہوں نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔ یہ وہی شوکت یوسفزئی ہیں جنہوں نے صوبہ خیبر پختونخواہ کے وزیراطلاعات ہوتے ہوئے صوبائی اسمبلی میں کہا تھا کہ دھماکے ہورہے ہیں تو کونسی قیامت آگی ؟ جبکہ دانیال عزیز سابق صدر پرویز مشرف کے تمام دور اقتدار میں اُنکے ساتھ تھے اور پرویز مشرف کے بڑئے دبنگ ترجمان تھے، آجکل مسلم لیگ (ن) کےرہنما کہلاتے ہیں اور اکثر ٹاک شوز میں مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف کے بھی بڑئے دبنگ ترجمان ہیں، ہم کہہ سکتے ہیں کہ پکے مفاد پرست ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ ‘سیاسی طوائف’ کا لفظ پہلی مرتبہ استمال ہوا ہے، ہوسکتا ہے پہلے بھی ہوا ہو، لیکن سوشل میڈیا پر 24 اکتوبر 2014ء کو پی ٹی آئی کے ایک حامی حاشر ابن ارشاد نے اپنے ٹویٹ میں جمیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو سیاسی طوائف لکھا تھا۔

مفاد پرست کب نہیں ہوتے اور کہاں نہیں ہوتے ہر وقت ہوتے ہیں اور ہرجگہ ہوتے ہیں ۔ ان ہی مفاد پرستوں کےلیے ہم لوٹے کا لفظ استمال کرتے ہیں ، یہ ہی لوٹے اپنے مالکان کو جو ان کے سیاسی سربراہ بھی ہوتے ہیں اُن سے زیادہ سے زیادہ اپنا مفاد حاصل کرنے کےلیے مخالف سیاسی جماعتوں کے سربراہوں پرمختلف الزام لگاتے ہیں اور اُن کی پارٹی کےرہنماوں کو بہودہ نام دیتے ہیں جیسے “سیاسی طوائف یا بھنگی”، اگر یہ رسم چل ہی نکلی ہے تویہ بات شوکت یوسفزئی کو ضرور معلوم ہوگی کہ اگرمسلم لیگ (ن) میں سیاسی طوائف اور بھنگی موجود ہیں تو تحریک انصاف میں بھی موجود ہیں۔ شوکت یوسفزئی کو عمران خان نے پاکستان آرمی کے بچوں کے چہلم کے موقعہ پراُسکے ایک بیان کے سبب محفل سےباہر نکال دیا تھا۔ ایک اور پروگرام میں جب پرانے کلپ چلائے گےرتو دانیال عزیز بوکھلاگے کیونکہ یہ اُنکے مفاد کے خلاف تھا، انہوں نے بڑی ہی سختی سے اس بات کی تردید کی کہ انہوں نے کبھی نواز شریف کےخلاف کچھ کہا ہے۔ پاکستان کی ہر اُس سیاسی جماعت میں جسکا ذرا بھی حکومت میں اور خاصکر مرکزی حکومت میں آنے کا چانس ہے اُس میں یہ مفاد پرست لازمی موجود ہیں۔ بہتر ہوگا کہ پارٹی سربراہان اپنے لوگوں کو تلقین کریں کہ وہ جب سیاست پر بات کررہے ہوں تو شرفا کی طرح بات کریں کیونکہ سیاست مزدوروں، کسانوں اور غریبوں کے درمیان کی جاتی ہے اور ٹاک شوز عام طور پر گھروں میں دیکھے جاتے ہیں، کسی طوائف کے کھوٹے پر نہیں جہاں بازاری زبان بولی جاتی ہے۔ مفاد پرست پہلے بھی تھے اور اب بھی ہیں لیکن پہلے والے مفاد پرست کم از کم اسقدر گری ہوئی زبان استمال نہیں کرتے تھے، ہاں اپنا مفاد ضرور سامنے رکھتے تھے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت تھی، ذوالفقار علی بھٹو ملک کے وزیراعظم تھے۔ مفاد پرست دھڑا دھڑ پیپلز پارٹی میں شامل ہورہے تھے، جو بھی شامل ہوتا وہ یہ اعلان ضرور کرتا کہ وہ اپنے سینکٹروں یا ہزاروں ساتھیوں کےساتھ پیپلز پارٹی میں شامل ہورہا ہے۔ ابھی ٹی وی ہر گھرمیں موجود نہیں تھا اس لیے ریڈیو کی افادیت باقی تھی۔ ریڈیو پاکستان سے روزانہ صبح کو ایک پروگرام “صبح نو” آیا کرتا تھا، اُسکا اناونسر پہلے کوئی واقعہ سناتا پھر کوئی گانا سنواتا۔ ایک دن اناونسر نےایک واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ” ایک اخبار کے دفتر میں ایک صاحب آئے اور اخبار کے ایڈیٹر کو ایک پرچہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ خبر چھپوانی ہے۔ پرچے میں لکھا ہوا تھا کہ ‘تابش دہلوی کو صدمہ، کل رات جناب تابش دہلوی کی خوشدامن صاحبہ کا انتقال ہوگیا’، ‘جناب تابش دہلوی جو ایک اچھے شاعر بھی ہیں اب تک اُنکی شاعری کے چار مجموعے شایع ہوچکے ہیں’، ‘جناب تابش دہلوی اپنے ہزار ساتھیوں کے ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوگے ہیں’۔ اخبار کے ایڈیٹر نے کہا جناب اس میں تو تین خبریں ہیں آپ کونسی خبرشایع کروانا چاہتے ہیں؟ تابش دہلوی نے پوچھا فائدہ کس میں ہے؟ ایڈیٹر نے جواب دیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہونے والی خبر میں، تابش دہلوی جھٹ سے بولے تو پھر وہ ہی چھاپ دیں “۔ اس کے ساتھ ہی اناونسر نے کہا کہ”ملکہ ترنم نوجہاں کی آواز میں ایک گانا سنیے”۔