ایران میں ایڈز کے موذی مرض میں اضافے پر انتباہ

Posted on October 23, 2015



صالح حمید ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ
ایرانی وزارت صحت نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں آبادی کی شرح میں تیزی سے ہونے والے اضافے کے ساتھ ایڈز جیسے موذی مرض میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ جب سے مرشد اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے آبادی کا ہدف 80 ملین کرنے کی ہدایت کی ہے تب سے آبادی میں اضافے کے ساتھ ایڈز کے کیسز کی تعداد بھی بڑھنے لگی ہے۔
خبر رساں ایجنسی’’فارس‘‘ نے وزارت صحت میں ایڈز کے ڈیسک کے سربراہ عباس صداقت کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک میں ایڈز کے 90 ہزار سے زاید مریض موجود ہیں جبکہ سرکاری اداروں میں اس بیماری کے رجسٹرڈ کیسز کی تعداد 30 ہزار سے زاید نہیں ہے۔ ایڈز کے ساٹھ ہزار مریض ایسے ہیں جن کی رجسٹریشن نہیں کی گئی ہے جبکہ ہزاروں ایسے بھی نہیں جن یہ بیماری موجود ہے لیکن اس کی تشخیص نہیں کی گئی۔
حکومتی عہدیدار کا کہنا ہے کہ ایڈز کے مرض کے پھیلائو کو روکنے کے لیے جنسی امور کے لیے حفاظتی تدابیر استعمال کرنے کی اشد ضرورت ہے، ورنہ ایڈز کے مرض میں مزید غیر معمولی اضافہ ہو سکتا ہے۔
عباس صداقت کا کہنا ہے کہ ایران میں زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرنے کا رحجان قابل تحسین ہے لیکن لوگ بچوں کی رجسٹریشن کے معاملے میں لاپرواہی برتے ہیں حالانکہ پارلیمنٹ نے بھی بچوں کی رجسٹریشن کے حوالے سے ایک قانون کی منظوری دے رکھی ہے۔ عوام کو اس پر سختی سے عمل کرنا چاہیے اور اپنے بچوں کی رجسٹریشن کرانی چاہیے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران کے نائب وزیر صحت علی اکبر سیاری نے گذشتہ برس دسمبر میں ایڈز کے عالمی دن کے موقع پر ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے ملک میں 15 فی صد افراد ایڈز کے مرض میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 15 سے 60 سال کی عمر کے 85 ہزار افراد ایڈز کے وائرس سے متاثر ہیں۔ خواتین میں اس ایڈز کے مریضوں کی شرح 35 فی صد جبکہ مردوں میں 65 فی صد بتائی جاتی ہے جس کی بنیادی وجہ غیر محفوظ قربت کے تعلقات اور منشیات کا استعمال ہے۔