ایران سے مصالحت کا بے سُود نظریہ!

Posted on October 23, 2015



عبدالرحمان الراشد العربیہ نیوز چینل
عرب خلیجی ممالک کے لیے یہ مشکل نہیں ہے کہ وہ ایرانی صدر حسن روحانی سے مصافحہ کر لیں،ایران کے ساتھ دوستی کے ایک سمجھوتے پر دستخط کریں اور گذشتہ تیس سال سے جاری باہمی عدم موافقت اور عداوت کو ختم کردیں۔نظری طور پر تو یہ بہت ہی آسان ہے لیکن اگر کوئی ضمانتیں نہیں دی جاتی ہیں تو پھر اس کی اہمیت اس روشنائی سے بھی زیادہ نہیں ہوگی جو اس سمجھوتے پر دستخط کرنے کے لیے استعمال ہوگی۔
میرے دوست اور ساتھی طراد العمری نے ایک مضمون لکھا ہے۔اس کو میرے اور ایک اور ساتھی دوست کے نام معنون کیا ہے۔اس میں انھوں نے ایک نقشہ راہ (روڈ میپ) کا وژن پیش کیا ہے اور اس پر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے جو ہمارے ایران سے متعلق انتباہوں کے بالکل منافی ہے۔
اگرطراد العمری ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے دیوان میں مقبول ہوتے یا پھر ان کے الفاظ وائٹ ہاؤس میں گنے جاتے تو شاید میں اپنا ذہن تبدیل کر لیتا اور ان کی ایران کے لیے کھلے پن کی تجویز کو تسلیم کر لیتا لیکن میرے اور دوسرے لکھاریوں کی طرح ان کے الفاظ بکنے کے لیے ہیں۔عرب خلیجی حکومتیں محض نیک ارادوں اور واقعات کے ذاتی تجزیوں کی بنیاد پر تین کروڑ شہریوں کی زندگیوں کو داؤ پر نہیں لگا سکتی ہیں۔
انھوں نے ویب سائٹ http://www.an7a.com پر شائع ہونے والے اپنے مضمون میں ”خلیجی اقدام برائے امن” کے بارے میں گفتگو کی ہے۔مگر ہماری نظر میں یہ محض ”طراد اقدام برائے امن” ہی ہے۔ایسے اقدام کی اس صورت میں تو کوئی قدروقیمت ہوسکتی ہے کہ اگر علاقائی حکومتیں اس بات کو یقینی بنا لیں کہ ایران نے فی الواقع ان کے بارے میں اپنی پالیسی تبدیل کر لی ہے۔ان کے خلاف اپنی فوجی صلاحیتوں کو محدود کر لیا ہے یا سپر پاورز کو ایرانی خطرات کے مقابلے کے لیے فوجی ضمانتیں دینے کی ضرورت ہے۔فی الوقت تو ایسی کوئی شرائط پوری نہیں کی گئی ہیں اور حقیقی دنیا میں محض نیک ارادے ہی کافی نہیں ہوتے ہیں۔
ڈیل پر دستخط آسان ،مگر۔۔۔۔
امریکا ایسی سپر پاورز کے لیے ایران کے ساتھ ایسی ڈیل پر دستخط کرنا آسان ہے جو اس سے سات ہزار کلومیٹر سے بھی زیادہ فاصلے پر واقع ہے مگر اس کے پاس وافر مقدار میں ٹیکنالوجی،عسکری اور مالیاتی انٹیلی جنس یونٹس موجود ہیں اور وہ ان کو جارحیت کو روکنے اور اس خطرے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔
مگر خلیجی ریاستیں ایرانی ساحل سے اس پار واقع ہیں اور وہاں سے تو پھینکا ہوا پتھر بھی ادھر آ سکتا ہے۔ہمیں اپنی محدود صلاحیتوں کے ساتھ صرف خالی خولی نیک ارادوں ہی سے یقین دہانی نہیں کرائی جاسکتی ہے۔خلیجی ممالک کو اس بات کے ثبوت اور ضمانتیں دینے کی ضرورت ہے کہ ایران مغرب کے ساتھ جوہری سمجھوتے پر دستخط کرنے کے بعد تبدیل ہوچکا ہے ،نہیں تو وہ خود کو قلعوں میں بند کرنے میں مجبور ہوں گے۔
ریاستیں بھی افراد کی طرح ہوتی ہیں۔آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ اپنی سوانح عمری میں کیسے رہے ہیں۔ان کا کردار کیا رہا ہے۔ان کے ارادوں کا تجزیہ محض اس ایک بات کی بنیاد پر کرنا ہی کافی نہیں ہے کہ ایران کا مغرب کے ساتھ ڈیل پر دستخط کرنے کا مقصد اپنے خلاف محاصرے کا خاتمہ اور اپنے وجود کے تحفظ کو یقینی بنانا تھا۔حقیقت تو یہ ہے کہ ایران پر پابندیوں کا نفاذ اس کے مخالفانہ رویے کی بنا پر کیا گیا تھا اور اس کی کوئی اور وجہ نہیں تھی۔
1980ء کے عشرے سے اب تک ایران کے فلپائن سے ارجنٹینا تک جارحانہ اقدامات کی ایک لمبی فہرست ہے۔اس لیے ایران نے خود اپنا محاصرہ کروایا اور پابندیاں لگوائیں۔ایران کی جانب سے اسرائیل کی دشمنی فلسطینیوں کے دفاع کے لیے نہیں ہے جیسا کہ طراد یقین رکھتے ہیں بلکہ یہ علاقائی توسیع پسندی کے لیے جدوجہد کا حصہ ہے۔
ایران فلسطین کے نام پر شام میں بشارالاسد کی شکل میں اپنا ایک نظام قائم کرنے میں کامیاب ہوچکا ہے،وہ حسن نصراللہ کی صورت میں لبنان ،محمود الزہار اور رمضان شلح کی شکل میں غزہ ،نایف حواتمہ کی شکل میں شام ،محمد بدیع مصر ،واثق البطاط کی شکل میں عراق اور عبدالملک الحوثی کی شکل میں یمن میں موجود ہے۔ان تمام کا دفاعِ فلسطین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اس کا ادراک کرنے کے لیے شام کے دارالحکومت دمشق کے نواح میں واقع فلسطینی مہاجرین کے یرموک کیمپ پر نظر ڈال لینا ہی کافی ہے جہاں ایران اور فلسطینی جماعتوں سے وابستہ گروپ سنگین جرائم کے مرتکب ہورہے ہیں۔
ایران یا اس کے گماشتہ گروپوں کی ہمارے خلاف مخالفانہ فوجی اور سیاسی کارروائیوں کی ایک لمبی فہرست ہے۔یہ کارروائیاں انقلاب ایران کے دنوں سے کی جارہی ہیں۔ایسی کارروائیاں اسرائیل یا مغرب کے خلاف نہیں کی گئی تھیں۔میں عمری کے مضمون کی تفصیلات میں جا کر آپ کو اکتاہٹ کا شکار نہیں کرنا چاہتا ہوں کیونکہ وہ بالکل غیر متعلقہ ہیں۔طراد بھائی ! ہمارے لیے ایران کے ساتھ تنازعے کو سمجھنا اور اس کا تجزیہ کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔خلیجی ممالک کو پہلے یہ یقین ہو چلا تھا کہ تہران شاید ان کی جانب اپنا ہاتھ بڑھا رہا ہے۔انھوں نے اس کے لیے اپنی سرحدیں اور دارالحکومت کھول دیے لیکن انھیں بعد میں پتا چلا کہ ایرانی رجیم کی ان کے لیے مخالفت تو بڑھتی ہی چلی جارہی ہے۔
1990ء کے عشرے میں انھوں نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے متعدد ادوار کیے تھے اور انھوں نے سنہ 2001ء میں اس کے ساتھ ایک اہم تفصیلی سمجھوتے پر دستخط کیے تھے لیکن ایران نے اس تمام سمجھوتے اور اس میں کیے گئے وعدوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی۔
سنہ2008ء میں سعودی عرب نے شیخ ہاشمی رفسنجانی کی میزبانی کی اور یہ کسی ایرانی لیڈر کا سعودی عرب کا سب سے طویل دورہ تھا۔انھوں نے دوہفتے تک سعودی عرب میں قیام کیا۔اس دوران وہ جدہ ،الدمام ،الخبر ،القطیف ،مکہ مکرمہ ،مدینہ منورہ اور ینبع گئے۔ایرانی سفارت خانے اور قونصل خانے کھول دیے گئے اور ایرانی فضائی کمپنیوں کو بھی اپنے دفاتر کھولنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔الریاض نے ایرانی کاروباری شخصیات کا استقبال کیا،ان کی شورومز میں میزبانی کی گئی اور شہزادوں ،وزراء اور فوجی شخصیات نے بھی دوروں کے تبادلے کیے۔اس ساری مشق کے بعد بالآخر سعودی عرب کو یہ پتا چلا کہ ایرانی رجیم میں کوئی نیک نیتی اور اچھے تعلقات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلحہ اسمگل کرنا چاہتا ہے،حزب اختلاف کو بھرتی کرنے میں لگا ہوا ہے اور سعودی مملکت کے خلاف سازش کے تانے بانے بُن رہا ہے۔
قصہ مختصر یہ کہ بعض لوگوں کی جانب سے ایران کے ساتھ مصالحت کی اہمیت سے متعلق تجاویز دراصل عمومی احساس کی مظہر ہیں لیکن جب تک ایران کے معاندانہ طرزعمل سے خلیجی عرب ممالک کو تحفظ کی یقین دہانی نہیں کرادی جاتی ہے تو ان تجاویز کا کچھ فائدہ نہیں ہے اور ایران کی جانب سے یہ معاندانہ طرز عمل خلیجی ممالک کے ارد گرد عراق ،شام ،لبنان ،بحرین ،یمن اور سوڈان میں موجود ہے۔
میں بھائی طراد سمیت خلیج میں موجود ”امن کی فاختاؤں” کو یہ یقین دہانی کرانے کے لیے تیار ہوں کہ تہران کے ساتھ ہمارے تنازعے کے باوجود ہمارے ایران میں موجود بھائیوں کے ساتھ روایتی تعلقات برقرار ہیں اور بڑے اچھے ہیں۔ایران اور خلیجی ممالک کے سفارت خانے اور سفیر ایک دوسرے کے ملک میں موجود ہیں۔سعودی ایران کے دورے کرتے رہتے ہیں اور ایرانی حج اور عمرے کے لیے حجاز مقدس آتے رہتے ہیں۔تاہم ایران کے بارے میں تشویش اس کے خلاف مالیاتی ،فوجی اور سفارتی پابندیوں کے خاتمے کے بعد سے بڑھتی ہی چلی جارہی ہے۔
————————————————
(عبدالرحمان الراشد العربیہ نیوز چینل کے سابق جنرل مینجر ہیں۔وہ قبل ازیں لندن سے شائع ہونے والے عربی روزنامے الشرق الاوسط کے ایڈیٹَر رہے تھے۔وہ تجربے کار صحافی اور عرب امور کے ایک ماہر تجزیہ کار ہیں۔ ان کے غیر جانبدارانہ اور جاندار سیاسی تجزیوں کی گیرائی اور گہرائی کے پیش نظر انھیں عرب دنیا کا ایک سرکردہ مبصر مانا جاتا ہے۔تاہم ان کے نقطہ نظر سے العربیہ نیوز چینل کا متفق ہونا ضروری نہیں)