ایران، اقوام متحدہ میں کم سنی کی شادی کا مخالف بن گیا

Posted on October 23, 2015



العربیہ ڈاٹ نیٹ ۔ صالح حمید
ایران نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی جانب سے تیار کردہ اس قرارداد پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا ہے جس میں 18 سال سے کم عمر لڑکیوں کی شادی کی مخالفت کی گئی ہے۔
ایرانی اخبار ’’اعتماد‘‘ کے مطابق 21 نومبر کو انسانی حقوق کمیٹی میں متذکرہ قانون پر رائے شماری کرائی تھی۔ ایران نے اس رائے شماری کی مخالفت کی۔ توقع ہے کہ رواں ماہ میں یہ قرارداد رائے شماری کے لیے جنرل اسمبلی میں پیش کی جائے گی۔
بعض ممالک کی سفارش پر اس قراداد میں ایک اضافی شق بھی شامل کرائی گئی ہےجس میں بچیوں کی جنسی تعلیم وتربیت پر بھی زور دیا گیا ہے۔
ایرانی اخبار کے مطابق تہران سمجھتا ہے کہ شادی کے لیے لڑکی یا لڑکے کی عمر کی کم سے کم حد 18 سال مقرر کرنا اسلامی شریعت کی رو سے درست نہیں کیونکہ اسلام شادی کے لیے ایسی کوئی قید نہیں لگاتا۔
ایرانی مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کی جوڈیشل کمیٹی کے رکن محمد علی اسفنائی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کا ملک کم عمری کی شادی سے متعلق اقوام متحدہ کی کسی قرارداد کی حمایت نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارہ سال سے کم عمری کی شادی کے امتناع کا کوئی قانون موجود نہیں۔ نیز اس قرارداد میں بہت سی دیگر پیچیدگیاں بھی ہیں۔
انہوں نے اسفتسار کیا کہ اگر 18 سال سے کم عمر کے لڑکی اور لڑکا شادی کرنے کے خواہش مند ہوں کیا ہمیں ان پر پابندی لگا دینی چاہیے؟۔ مسٹر اسفنائی کا کہنا تھا کہ بادی النظر میں اس قرارداد کی حمایت کرنے میں کوئی برائی نہیں۔ یہ انسانی حقوق کے نقطہ نظر سے تیار کی گئی ہے مگر کیا اٹھارہ سال سے کم عمر کے نوجوانوں کو شادی کا حق نہیں دیا جا سکتا؟ اگر اس عمر تک شادی کی حد مقرر کی جائے تو معاشرے میں برائی کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ ہمیں ایسی کسی بھی قرارداد کے نتائج اور مضمرات کو سامنے رکھنا چاہیے۔ ایران میں کوئی سترہ سال کی عمر میں شادی کرنا چاہے تو ہم اسے نہیں روک سکتے۔
اخبار ‘اعتماد’ کے مطابق سرکاری اعداد و شمار بتائے ہیں کہ گذشتہ ایک سال کے دوران 41 لڑکیوں کی 15 سال بھی کم عمر میں شادی کی گئی۔ ایک اندازے کے مطابق ایران میں 3.5 فی صد لڑکیوں کی شادی پندرہ سال سے کم عمر میں ہی میں ہو جاتی ہے جبکہ گذشتہ برس 30 فیصد لڑکیوں کی شادیاں پندرہ سے 19سال کے درمیان انجام پائیں۔