کامیاب سعودی سفارت کاری، افریقا سے ایران بے دخل

Posted on October 22, 2015



دبئی ۔ حسن مصطفیٰ
ایران نے دوسرے ملکوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور اپنی مفادات کے حصول کے لیے قرن افریقا میں طویل عرصے تک اپنے سینگ پھنسائے رکھے۔سعودی_عرب کی کامیاب سفارت کاری کے باعث ایرانیوں کو افریقی ملکوں میں مایوسی اور ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ایک تجزیاتی رپورٹ میں سعودی عرب کی قرن افریقا میں اپنی کامیاب حکمت عملی پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ رپورٹ کےمطابق سعودی عرب نے افریقا کے مسلمان ملکوں کے ساتھ صرف روایتی راہ و رسم ہی نہیں بڑھائی بلکہ حقیقی معنوں میں باہمی سیاسی، اقتصادی،سیکیورٹی اور ثقافتی تعاون کو فروغ دینے کے ٹھوس اقدامات کرکے ان ملکوں کے عوام اور قیادت دونوں کے دل جیت لیے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ افریقا کے ملکوں کی نظریں اب ایران پر نہیں بلکہ سعودی عرب پر مرکوز ہیں۔
پچھلے چند مہینوں کے دوران افریقی قیادت جس تواترکے ساتھ سعودی عرب کے دورے کرتے ہوئے شاہ سلمان سے قربت پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہے وہ سعودی عرب کی کامیاب سفارت کاری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ افریقی ملک ایتھوپیا کے وزیراعظم ھائیلی میریام دسالنی نے ریاض میں واقع الیمامہ شاہی محل میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات کی۔ سعودی عرب کی جانب سے ایتھوپیائی مہمان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ ملاقات کے موقع پر سعودی عرب کی صف اول کی قیادت موجود تھی۔انہوں نے اپنے ایتھوپیائی مہمانوں کی روایتی انداز سے ہٹ کرنہایت گرم جوشی سے آئو بھگت کی جس پر مہمان متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔
#جیپوتی کے صدر جمہوریہ اسماعیل عمر جیلہ نے 18 اکتوبر کر سعودی عرب کا دورہ کیا جہاں ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ اس موقع پر دونوں ملکوں کی قیادت نے دو طرفہ سیاسی، فوجی اور معاشی تعاون کے فروغ کے کئی معاہدوں کی منظوری دے کر تعلقات کے ایک نئے باب کا آغاز کیا۔
اس سے قبل اسی طرح کا شاندار استقبال اریٹیریا کے صدر اسیاس افورقی کا بھی کیا گیا جہاں نے #شاہ_سلمان کے زمام حکومت سنھبالنے کے محض تین ماہ کے اندر ان سے ملاقات کی تھی۔ ایتھوپیا، اریٹیریا اور جیبوتی کی قیادت کا سعودی عرب کی رہ نمائی میں آگے بڑھنے کا عزم اور ریاض پر اعتماد کا اظہار اس بات کا ثبوت ہے کہ قرن افریقا کے ممالک اب ایران کے چنگل سے نکل رہے ہیں۔
ایران کسی دور میں افریقا کو اپنا “باغیچہ” سمجھا کرتا تھا مگر اب وہ دن جا چکے ہیں۔ اب ایران کے لیے ماضی کی طرح افریقا کو انٹیلی جنس اور جاسوسی کے مقاصد کے لیے زیادہ دیر استعمال کرنا ممکن نہیں رہا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایران نے بحر ہند، خلیج عدن، اور بحر احمر کےآس پاس کے ملکوں کو اپنے مقاصد اور جاسوسی کے لیے خوب استعمال کیا۔ مگر اب ان خطوں کے عوام ایرانی مقاصد سے آگاہ ہوچکے ہیں۔
حالیہ چند برسوں کے دوران باب المندب گذرگاہ کے قریب ایران کا ایک بحری بیڑا موجود رہا۔ ایران نے افریقی ملکوں کے ساتھ اپنے سیکیورٹی تعلقات مضبوط بنانے کے لیے انہیں خوب بلیک میل کیا۔ حتیٰ کہ سوڈان جیسے اہم افریقی عرب ملک کو اپنے قریب لانے کی کوشش کرتا رہا۔ کچھ عرصے تک ایران اور سوڈان کے درمیان گہرے تعلقات بھی قائم رہے۔ انہی تعلقات کی بناء پر خرطوم نے ایران کو اپنے ہاں تربیت کے لیے فوجی اڈے بھی فراہم کیے۔ یوں ایران سے سوڈان اور وہاں سے مصر کے جزیرہ نما سینا سے ہوتے ہوئے غزہ کی پٹی میں فلسطینی مزاحمتی گروپوں تک ایرانی اسلحہ کی رسائی کا راستہ بنایا گیا۔
مگر جب سے سعودی عرب کی قیادت میں یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کے لیے آپریشن شروع کیا گیا سوڈان نے بھی ایران کے بجائے اس جنگ میں سعودی عرب اور یمن کا ساتھ دے کر تہران کو یہ پیغام پہنچایا ہے کہ اس کے ساتھ مزید فوجی اور سیکیورٹی میدان میں تعاون ممکن نہیں رہا ہے۔ سوڈان نے اس سے بھی ایک قدم اور آگے بڑھ کر اپنی فوج عدن میں سیکیورٹی فرائض کی انجام دہی کے لیے پہنچا دی ہے۔ یہ بھی سعودی عرب کی کامیاب سفارت کاری کی دلیل ہے۔
مبصرین کے خیال میں #ریاض اور قرن افریقا کے ملکوں کے درمیان ماضی میں بھی تعلقات دوستانہ اور برادرانہ ہی رہے ہیں۔ سعودی عرب نے باب المندب بندرگاہ میں علاقائی سلامتی کو یقینی بنانے میں ان ملکوں کے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔ باب المندب اور اس کے قرب وجوار کی بندرگاہوں پر ہونے والی بحری قذاقی کی روک تھام میں بھی سعودی عرب کا کلیدی کردار رہا ہے۔ خاص طور پر باب المندب سے یمن اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کے کو دہشت گردوں اور اسلحہ کی فراہمی کی روک تھام میں سعودی عرب نے موثر کردار ادا کیا۔
موجودہ حالات میں تمام افریقی ملکوں کا موقف یمن کے بارے میں سعودی عرب سے ہم آہنگ ہے۔ اگرچہ ایران نے ان ملکوں کو بلیک میل کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے مگرایرانی بلیک میلنگ کا خاطر خواہ اثر نہیں پڑا ہے۔ یمن کے شہریوں کی بڑی تعداد پناہ گزین یا کارباری لوگوں کی حیثیت سے افریقی ملکوں میں رہ رہی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جیبوتی کے صدر اسماعیل عمر جیلیہ جب سعودی عرب کے دورے پرآئے تو انہوں نے اخبار “الریاض” کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ افریقی ملک یمن کے بحران میں خود کو الگ تھلگ یا غیر جانب دار نہیں رکھ سکتے ہیں۔ یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کے لیے سعودی عرب کی قیادت میں جاری “فیصلہ کن طوفان” اور “بحالی امید” آپریشن میں ریاض اور صنعاء کا ساتھ دینا ہماری ذمہ داری ہے۔ ہم یمن میں آئینی صدر عبد ربہ منصورھادی کو واپس لانے کی مساعی میں ساتھ دیں گے۔