الوداع الوداع ۔ پیپلز پارٹی الوداع

Posted on October 22, 2015



Dated: October 22, 2015
Alvidah Alvidah – Peoples Party Alvidah
By: Syed Anwer Mahmood
الوداع الوداع ۔ پیپلز پارٹی الوداع
تحریر: سید انور محمود

پاکستان پیپلز پارٹی کی مختصرتاریخ یہ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے 30 نومبر1967ءکو اپنے قریبی دوستوں کے ساتھ لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔ چار ارکان پر مشتمل پیپلز پارٹی کی سپریم کونسل بنائی گئی جس میں خود ذوالفقار علی بھٹو، جے اے رحیم، محمد حنیف رامے اور ڈاکٹر مبشر حسن شامل تھے ۔ ذوالفقارعلی بھٹو وہ پہلے سیاستدان تھے جنہوں نےغریبوں کی بات کی، غریبوں کےلیے سیاست کے دروازے کھولے۔ عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے، عوام کے لیے یعنی حقیقی جمہوریت کے لیے جہدو جہد کی ۔ غریبوں کےلیے روٹی، کپڑا اورمکان کا نعرہ لگایا، لیکن وہ غریبوں کے حق میں انقلاب نہیں لا سکے یا اُنہیں لانے نہیں دیا گیا یا پھراُن کی راہ میں روکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ لیکن ہاں وہ غریبوں کو جگانے میں کامیاب ہوئے، اُنہوں نے لوگوں کو اور خاص کر غریبوں کو اُن کے حقوق کی پہچان کروائی۔ اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ قائد اعظم کے بعد ذوالفقارعلی بھٹو کو سب سے زیادہ شہرت ملی ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاست کے چار بنیادی اصول ہیں: “اسلام ہمارا دین ہے، جمہوریت ہماری سیاست ہے، سوشلزم ہماری معیشت ہے اور طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں”(آج پیپلز پارٹی کے زیادہ ترجیالوں کو ان چار بنیادی اصولوں کا شاید پتہ بھی نہ ہو)۔

پیپلز پارٹی نے 1970ء کے انتخابات بائیں بازو کی ایک نظریاتی جماعت کے طور پر لڑے جس میں ترقی پسند رہنما جے اے رحیم، ڈاکٹر مبشر حسن، معراج محمد خان، مختار رانا، شیخ محمد رشید، حنیف رامے، خورشید حسن میر، رسول بخش تالپور، علی احمد تالپور، حیات محمد خان شیر پاوُ اور طارق عزیز شامل تھے۔ مذہبی عالم مولانا کوثر نیازی ، جاگیرداروں اور وڈیروں کے نمائندے غلام مصطفیٰ کھر اور غلام مصطفیٰ جتوئی بھی پیپلز پارٹی کا حصہ تھے۔ معراج محمد خان اور غلام مصطفیٰ کھر کو بھٹو نے اپنا جانشین بھی بنایا تھا۔ پنجاب میں تو پیپلز پارٹی کے کھمبے بھی جیت گئے تھے، دائیں بازو کی انتہا پسند جماعت اسلامی کے امیر میاں طفیل محمد لاہور میں بابائے سوشلزم شیخ محمد رشید کے ہاتھوں نظریاتی انتخابی معرکہ ہارگئے۔ جماعت اسلامی نے 1970ء کے انتخابات کو اسلام اورکفرکی جنگ قرار دیا تھا۔ پورے پنجاب میں مودودی ٹھاہ، نصراللہ ٹھاہ اور دولتانہ ٹھاہ کے نعر ے بھی گونجے تھے لیکن اُس کے بعدہونے والے کسی بھی عام انتخابات میں پیپلز پارٹی پنجاب میں پوری کامیاب نہ ہوسکی۔ مختار رانا تو پیپلز پارٹی سے بہت جلدہی علیحدہ ہوگئےجب کہ جے اے رحیم اورمعراج محمد خان کی انقلابی سوچ بھٹو کے ساتھ زیادہ دیر نہ چل سکی۔ جے اے رحیم کابینہ اور پارٹی سے نکالے گئے، جبکہ معراج محمد خان جیل پہنچادیئے گئے اور جیل میں ہی ایک آنکھ کی بینائی سے محروم ہو گئے ۔ حنیف رامے اور غلام مصطفیٰ کھربھی بھٹو سے اختلافات کے باعث مسلم لیگ میں شامل ہوگے تھے۔

بدقسمتی سے ذوالفقار علی بھٹو 1977ء کے انتخابات تک کافی بدل چکے تھے۔ رفتہ رفتہ اقتدار کی مصلحتوں کے تحت وہ پیپلز پارٹی کے اساسی نظریہ سے دور ہٹتے گئے۔ سوشلزم کو اسلامی سوشلزم میں بدل ڈالا اور پی این اے کے دباو میں آکر سیاسی مصلحت کے تحت مولانا مودودی کے گھر پہنچ گئے۔ ذوالفقار علی بھٹو کا یہ فیصلہ پاکستان میں نظریاتی سیاست کی موت ثابت ہوا۔ پیپلز پارٹی کے ہزاروں نظریاتی کارکن بھٹو کی مصلحت پسند سیاست کا شکار ہوئے۔ ان تمام باتوں کے باوجود 1977ء میں ذوالفقار علی بھٹو ایک مقبول رہنما تھے اور پیپلز پارٹی ایک ملک گیرجماعت تھی اور سارے پاکستان میں سب سے زیادہ ووٹ بنک بھی پیپلز پارٹی کا ہی تھا۔ 1977ء کے انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگا اور پی این اے کے احتجاج کو بہانہ بناکر پانچ جولائی 1977ء کوجنرل ضیاءالحق حکومت پر قابض ہوگیا۔ جنرل ضیاءالحق نے جب یہ دیکھا کہ بھٹو کی مقبولیت اقتدارسے علیحدہ ہونے کے بعد بھی کم نہیں ہورہی تو اس نے غیر سیاسی ہتھکنڈے استعمال کیے۔ بھٹو پر مالی بدعنوانی کا الزام لگایا مگر جب بھٹو کے ایک کٹر نظریاتی مخالف جماعتِ اسلامی کے نائب امیر پروفیسر غفور احمد سے پوچھا گیا کہ کیا ذوالفقار علی بھٹو مالی خردبرد میں ملوث تھے تو پروفیسر غفور نے جواب دیا تھا کہ بھٹو پر ہر الزام لگایا جاسکتا ہے لیکن بھٹو پر مالی خرد برد اور لوٹ مار کا کوئی الزام نہیں لگا سکتا۔

چار اپریل 1979ء کو جنرل ضیاءالحق حکومت نے بھٹو کو پھانسی دے دی جسے عدالتی قتل کہا جاتا ہے۔ 1988ء میں جنرل ضیاءالحق کی موت کے بعد انتخابات میں پیپلزپارٹی نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کے ساتھ ایک اور نیا نعرہ لگایا “کل بھی بھٹو زندہ تھا، آج بھی بھٹو زندہ ہے” ، لیکن پیپلز پارٹی کے چار بنیادی اصول”اسلام ہمارا دین ہے، جمہوریت ہماری سیاست ہے، سوشلزم ہماری معیشت ہے اور طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں” کا دور دور تک پتہ نہیں تھا۔ پاکستان کے عوام اس وقت بھی بھٹو کے سحر میں تھے لہٰذا بینظیر بھٹو برسرِ اقتدار آئیں مگر اس سے پہلے بینظیر بھٹو بیگم زرداری بھی بن چکی تھی۔ وہ زرداری کے رنگ میں جلدہی رنگ گئیں اور صرف بیس ماہ بعد اُس وقت کے صدر پاکستان غلام اسحاق خان نے بے پناہ بدعنوانی کے باعث بینظیر بھٹو کی حکومت برخواست کر دی۔ نواز شریف اور غلام اسحاق کے اختلافات کے باعث 1993ء میں بینظیر بھٹو دوسری مرتبہ برسرِ اقتدار آئیں۔ اس درمیان میں بینظیر بھٹو نےایک کام یہ بھی کیا کہ اپنے والد کے زمانے کے پرانے پیپلز پارٹی کے لوگوں کو نکال باہر کیا۔ اُن کے شوہر آصف زرداری پر کرپشن کے الزامات تو اُن کی پہلی حکومت کے دوران ہی لگنے شروع ہوگئے تھے اور آصف زرداری کو مسٹر ٹین پرسنٹ کا خطاب بھی دیا گیا۔ پانچ نومبر 1996ء کو بینظیر بھٹو کے لائے ہوئے صدر فاروق لغاری نے بینظیر بھٹو کی دوسری حکومت کوکرپشن کی بنیادپر برطرف کردیا۔

نواز شریف کے دوسرے دور میں بینظیربھٹو ملک سے باہرچلی گئیں اورسابق صدرجنرل پرویز مشرف کے دور میں اٹھارہ اکتوبر 2007ء کو اپنی طویل جلاوطنی ختم کرکے کراچی پہنچیں جہاں اُن پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ کارساز حملے میں تو وہ بچ گئیں مگر اسی سال ستائیس دسمبرکو راولپنڈی میں ایک خود کش حملے میں اُنہیں قتل کر دیا گیا۔ اپنے قتل کیے جانے تک بینظیربھٹو یہ نعرہ مسلسل لگاتی رہیں “کل بھی بھٹو زندہ تھا، آج بھی بھٹو زندہ ہے”۔ جس آصف زرداری کو بینظیربھٹو نے گھر تک محدود کردیا تھا بینظیر کی ہلاکت کے بعد وہ پیپلز پارٹی کا مالک بن بیٹھا۔ زرداری صاحب نے اپنے بیٹے بلاول زرداری کوبلاول بھٹو زرداری کا نیا نام دیا اور2008ء کے انتخابات میں ایک اور نئے نعرہ کا اضافہ کیا “تم کتنے بھٹو ماروگے، ہر گھر سے بھٹو نکلے گا”۔ زرداری کو معلوم تھا کہ بھٹو کا نام لیے بغیر وہ سیاسی دکان نہیں چلاسکتے۔ بینظیر بھٹو کے بعدپارٹی کی قیادت آصف زرداری نے سنبھالی اور فروری 2008ء کے انتخابات کے بعد اقتدار سنبھالا تو جس طرح بینظیر بھٹو نے اپنے والد کے قریبی لوگوں کی پیپلز پارٹی سےچھٹی کی تھی ٹھیک اُسی طرح آصف زرداری نے اُن لوگوں کی چھٹی کی جو بینظیربھٹوکے قریب تھے۔

پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ (2008ء سے 2013ء) حکومت کے دور میں دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، بدترین کرپشن، بدانتظامی، طویل لوڈشیڈنگ ، غربت کےساتھ اندرونی و غیر ملکی قرضوں میں اضافہ ہوا ۔ مشرف دور کے اختتام 34 ارب ڈالر کے قرضے پانچ سال میں دگنے ہوگئے، 62 روپے کا ڈالر 100 روپے کاہوگیا، ملک کے تمام ادارے تباہ ہوگئے۔ خود کش دھماکے اور ٹارگٹ کلنگ کی یلغار نےکوئٹہ اور پشاور جیسے بڑے شہروں کو درہم برہم کرکے رکھ دیا، کراچی جو پاکستان کا معاشی مرکز ہے وہ لاقانونیت اور لاشوں کا شہر بن گیا۔ آصف زرداری، دو وزرائےاعظم ، وفاقی اور صوبائی وزرا نے مل کر کرپشن اور بدانتظامی کے حوالے سے ماضی کے تمام ریکارڈ توڑڈالے۔ اربوں روپے کی کرپشن کرکے قومی خزانے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا اورملکی معیشت کو مفلوج بناڈالا۔ تمام تر برے حالات کے باوجود بھٹو کے نام کو بدنام کیا جاتا رہا۔ آج پیپلز پارٹی اور خاص کر آصف زرداری کے قریب صرف وہ لوگ ہیں جو نہ صرف بھٹو کے سخت ترین مخالف تھے بلکہ جنرل ضیاء الحق کی کابینہ میں بھی شامل تھے۔ وہ لوگ بھی آصف زرداری کے بہت قریب رہے ہیں جو کل تک بینظیر بھٹوکوملکی سلامتی کے لیےخطرہ کہتے تھے۔ عام لوگ اب یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ “کل بھی بھٹو زندہ تھا، آج بھی بھٹو زندہ ہے” یا ” ہر گھر سے بھٹو نکلے گا”، جبکہ کہنے والے کہتے ہیں کہ بینظیربھٹو کے قتل کے ساتھ ہی بھٹو بھی زندہ نہ رہا ۔

پیپلز پارٹی 2013ء کے انتخابات بری طرح ہار گئی ۔ یہ پارٹی کی نہیں اُس قیادت کی شکست تھی جس کا مطمع نظر صرف لوٹ مار رہا ہے۔ گیارہ اکتوبر 2015ء کو ہونے والے ضمنی انتخابات کے نتیجے کے مطابق این اے 122 میں پیپلز پارٹی کے امیدوار میاں عامرحسین نے صرف 819 ووٹ حاصل کیے جبکہ این اے 144 میں پیپلز پارٹی کے امیدوارچوہدری سجادالحسن نے صرف 3807 ووٹ حاصل کیے۔ کیانظریاتی سیات کا خاتمہ نہیں ہوگیا؟ جواب۔۔۔ہاں کہہ سکتے ہیں کہ نظریاتی سیاست کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ ایک وقت تھا جب سیاسی جماعتیں اپنے نظریات کے ساتھ کھڑی رہتی تھیں۔ ہر طرح کے لوگ سیاسی جماعتوں کے اندر موجود تھے۔مگر اب لوگ ڈھٹائی اور بے شرمی کے ساتھ صرف اپنے ذاتی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے سیاسی وابستگیاں تبدیل کرلیتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ پانچ جولائی کے دن یوم سیاہ منانے والی پیپلز پارٹی پر بھی جنرل ضیاء الحق کی باقیات قابض ہیں۔ رحمان ملک، یوسف رضا گیلانی اور منظور وٹو آج پارٹی قیادت کا حصہ ہیں۔ جنرل ضیاء الحق پیپلز پارٹی کے کارکنوں پر وحشیانہ ظلم کرکے اور بھٹو کو پھانسی دےکربھی نہ تو پیپلز پارٹی کو ختم کرسکا اور نہ ہی بھٹو کو مارسکا لیکن پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت نے پیپلز پارٹی پربدعنوانی کےخود کش حملے کرکرکے پیپلز پارٹی اور بھٹو کو مار ڈالا۔ آصف زرداری قائدانہ صلاحیتوں کے مالک نہیں ہیں، اگر پیپلز پارٹی کو سیاست میں دوبارہ زندہ ہونا ہے اور بھٹو کو زندہ کرنا ہے تو اُسے موجودہ قیادت کو بدلنا ہوگا اور پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاست کے چار بنیادی اصولوں کو اپنانا ہوگا، ورنہ 11 اکتوبر 2015ء کے ضمنی انتخابات میں پیپلز پارٹی کے مایوس کن نتایج دیکھنے کے بعد یہ بات سمجھ میں آرہی ہے کہ قوم اب آصف زرداری کو الوداع کہتے ہوئے ساتھ ساتھ یہ بھی کہہ رہی ہے “الوداع الوداع۔۔۔ پیپلز پارٹی الوداع”۔