فیورٹ کون؟

Posted on October 17, 2015



فیورٹ یا پسندیدگی ہر انسان کی کمزوری ہوتی ہے، فیورٹ اور پسندیدگی میں ذندگی کا ہر شعبہ شامل ہوتا ہے، تعلیم کی فیلڈ میں فیورٹ سبجیکٹ بھی ہوتے ہیں، فیورٹ معلم ہوتا ہے، فیورٹ انسٹیٹیوٹ ہوتا ہے، کھانے میں فیورٹ ڈشز ہوتی ہیں، پہننے میں فیورٹ کلر ہوتا ہے، اسی طرح سیاست میں فیورٹ لیڈر، پارٹی ہوتی ہے۔ میری آجکی لائنز سیاست میں فیورٹ لیڈر کے بارے میں ہیں۔
حلقہ 122 کے رزلٹ کے بعد کئی دوستوں نے مجھے میری فیورٹ پارٹی، لیڈر کے بارے میں کافی کچھ کہا، حالانکہ میری فیورٹ پارٹی یا فیورٹ لیڈر ابھی تک کوئی نہیں، ہاں ایک چینج کے طور پر پی ٹی آئی کو سپورٹ کیا تھا کیونکہ باقی سیاسی پارٹیوں کو تو ہم کئی عشروں سے دیکھ رہے ہیں اور انکی پرفارمنس بھی ہم سے چھپی ہوئی نہیں ہے، ضیاء دور سے لیکر مشرف کے ٹیک اور تک مسلم لیگ نواز میری پارٹی تھی لیکن اسکی پرفارمنس زیرو، مسلم لیگ کو پاکستان میں دو بار وفاقی گورنمنٹ ملی لیکن اسنے وہ نہ کیا جسکی امید تھی، اور پسندیدگی اسکے وہ سلوگن تھے کہ ہم پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنائیں گے، ہمیں اسے سنگا پور بنائیں گے لیکن یہ انکے ویسے ہی سلوگن تھے جیسے انہوں نے الیکشن دو ہزار تیرہ میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا چھ مہینے میں خاتمے کا اعلان کیا، زرداری کو گھسیٹنے کا اعلان کیا۔ لیکن الیکشن کے بعد زرداری کو سڑکوں پر گھسیٹنے کی بجائے اسے ستر ستر ڈشوں کے ظہرانے اور عشائیے دیئے گئے، اسی وی وی آئی پی پروٹوکول دیئے گئے تو یہ انکا طرہ امتیاز ہے کہ یہ جھوٹے اور بڑکوں کے شیر ہیں، دوسرا انکو شخصیت پسندی کا کریڈٹ بھی ملتا ہے۔ کیونکہ شخصیت پسندی ناخواندہ قوموں کے ماتھے کا جھومر ہوتا ہے اور اسکا ثبوت آج پاکستان کی ہر پارٹی کے ساتھ چمٹے ہوئے عوام ہیں، جنہوں نے کبھی اپنے لیڈر یا پارٹی کا پرمارمنس بیس احتساب نہیں کیا لیکن میری سوچ مختلف ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ نئے لوگوں کو آزمایا جائے اور یہی وجہ بنی پی ٹی آئی کی طرف جھکاؤ کی۔
میں کرکٹ کا شوقین نہیں جو عمران خان کو اپنا ہیرو مانتا، میں نے صرف عمران خان کو اسکے رفاعی جذبے کی وجہ سے سپورٹ کیا، جسکی مثال کینسر ہاسپیٹل اور نمل یونیورسٹی ہیں۔ دوسری وجہ اسکا پاکستان کی کسی کرپشن میں نام کا نہ ہونا، ورنہ باقی لیڈر تو وکی لیک کے صفحات کی ذینت بنے ہوئے ہیں، میاں نواز شریف ، بے نظیر اور زرداری کے بارے میں ریےمانڈ بیکر کی کتاب ایچل ہیلز نے جو کچھ کہا ہے وہاں بھی وہ عمران کا نام لکھنے سے قاصر رہی۔اور آخری وجہ اسکے نئے بندوں کو اپنی پارٹی میں شامل کرنا تھا صرف نئے ہی نہیں بلکہ پرانے کرپٹ سیاستدانوں سے نفرت بھی شامل تھی۔ لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا عمران بھی آہستہ آہستہ اسی موروثی ٹریک پر چڑھنے لگا جس پر یہ پرانے گھاگ کئی دھائیوں سے دوڑ رہے ہیں اور بے وقوف عوام انکے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔
دو ہزار تیرہ کے الیکشن سے پہلے ایک جنون نے پی ٹی آئی کے لئے کروٹ لی اور پاکستان کا نوجوان طبقہ پی ٹی آئی کی طرف کچھا چلا آیا اور پرانے پاپیوں( سیاستدانوں) نے جب یہ دیکھا تو پرانی پارٹیاں چھوڑ کر جوک در جوک پی ٹی آئی کی طرف کچھے چلے آئے اور عمران خان نے انہیں ویلکم کرنا شروع کر دیا جو کہ عمران کے اس بیان کی نفی تھی کہ ہم فریش مٹیرئیل انٹروڈیوس کروائیں گے۔ لیڈر کو ایسے ایکشن زیرو کر دیتے ہیں۔ پھر الیکشن کے بعد نتائج کو قبول کر لینے کے بعد اچانک غبار اٹھا اور اسلام آباد میں ایک طویل دھرنا دے ڈالا جسکا پی ٹی آئی کو کوئی فائدہ نہ ہوا بلکہ کئی سنجیدہ لوگ بدزن ہوئے۔
عمران کے حصے میں کے پی کے کی گورنمنٹ آئی اب ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ آپ اپنی ساری توانائیاں کے پی کے کو امپرو کرنے پر لگا دیتے، اپنا منشور کی مکمل عملداری وہاں کرتے اور اسکے نتائج آگلے الیکشن میں آپکو پنجاب کیا پورا پاکستان دیتے، کیونکہ پاکستانی عوام نے آجتک کسی پارٹی کے منشور کو امپلی منٹ ہوتے نہیں دیکھا، جس دن یہ دیکھ لے گی پھر انکی شخصیت پسندی بھی ماند پڑھ جائے گی۔ ابھی تو یہ سب کو ایک ہی تھیلی کے چھٹے بٹے سمجھتی ہے۔
پی ٹی آئی اگر اپنے نئے چہروں کے ساتھ میدان میں اترتی تو بے شک وہ لوگ ذیادہ سیٹس نہ جیت سکتے لیکن عمران پر کوئی انگلی نہ اٹھاتا کہ وہ ناکام ہوا ہے بلکہ لوگ اسکو اور ذیادہ سپورٹ کرتے کہ اسنے اپنے وعدے کا پاس رکھا ہے لیکن بدقسمتی سے اسنے اپنی ساری ٹوکری ان ہی گندے انڈوں سے بھر لی جو مختلف گھونسلوں میں کئی دھائیوں سے پڑے تھے۔یہ سیٹیں تو لے لیں گے کیونکہ کچھ کی آبائی سیٹیں ہیں لیکن یہ عوام کی امیدوں پر پورا اترنے والے نہیں کیونکہ اگر یہ کچھ کرنے کے قابل ہوتے تو انہیں کئی موقعے ملے لیکن انہوں نے سوائے اپنے آپکو بنانے کے کچھ نہیں کیا۔
عمران خان سمجھتا ہے کہ وہ کرکٹ کی ٹیم کی طرح ان کو بھی اپنی ٹیم کا حصہ بنا کر اپنی مرضی کا کام کروا لے گا تو یہ سوائے خام خیالی کے کچھ نہیں۔ کیونکہ کرکٹ ٹیم سلیکٹڈ ہوتی ہے لیکن یہ گندے انڈے الیکٹڈ ہوتے ہیں اور انکے پیچھے جاہل ووٹ بینک کا بھی وزن ہوتا ہے۔یہ اپنے فائدے کے لئے کسی دوسری شاخ پر بھی بیٹھ سکتے ہیں اور ایک سسٹم کو مفلوج کر سکتے ہیں۔
پاکستان کی بد نصیبی ہی یہ ہے کہ یہاں غریب کی آواز اٹھانے والا وہ ہے جسنے کبھی بھوک نہیں دیکھی اور اپنے رمضان کے فرض روزے بھی پیسے دیکر رکھواتا ہو۔ ہاری کے حقوق کی آواز وہ اٹھا رہا ہے جسنے اسے کئی پشتوں سے غلام بنایا ہوا ہے، مزدور اور ورکرز کے حقوق کی آواز وہ مل اونر، کارخانہ دار اٹھا رہا ہے جس نے کبھی انکو اپنے منافع میں شامل نہیں کیا اور موجودہ سیاسی میٹیئریل چاہے وہ کسی بھی پارٹی سے تعلق رکھتا ہو اسکی پوزیشن یہی ہے کہ وہ وڈیرا، کارخانہ دار، مل اونرز، انڈسٹریل لسٹ اور بیرون ملک بے تحاشا اثاثوں کا مالک ہے۔اور پاکستان میں شخصیت پسندی ( ناخواندہ ووٹ بینک)کی چھتری کے نیچے لائف انجوائے کر رہا ہے۔
پاکستان کے چاروں صوبوں کا سیاسی تجزیہ کر لیں کوئی ایک بندہ بھی ( سیاسی لیڈر، ممبرز) ایسا نہیں ملے گا جو ایک مڈل کلاسیئے کی ذندگی گزار رہا ہو۔ سب اربوں پتی ہیں اور اس پاکستانی سیاست سے فیض یاب ہوئے ہیں۔ انکو ووٹ دینے والوں کی ذندگی دن بدن اجیرن ہوئی لیکن یہ خود ڈیویلپ ہوئے اور اتنے ہوئے کہ آج کوئی مڈل کلاس کا اچھی سوچ رکھنے والا انکا مقابلہ کرنے سے قاصر ہے۔
مختصر یہ کہ پاکستان میں کوئی فیورٹ نہیں کیونکہ فیورٹ کا کرائٹیریا اصول پسندی، ایمانداری، حب الوطنی اور رفاعی جذبہ ہے اور پاکستان کا کوئی لیڈر اس کرائیٹیریا پر پورا نہیں اترتا۔ عمران میں ایمانداری ، حب الوطنی اور رفاعی جذبہ بھی ہے لیکن اصول پسندی پر اسکے یوٹرنز نے سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ باقی پارٹیوں کے بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں سبکو پتہ ہے کہ وہ کیا ہیں، کہاں رہتے ہیں اور کیا کچھ کرتے ہیں۔ اور مزید انکے بارے میں وکی لیکس اور رے مانڈ بیکر کی ایچل ہیل میں ڈرٹی منی کے نام سے پڑھ لیں اور اگر کوئی اسے محض الزام سمجھے تو انٹرنیشنل کورٹ کے دروازے کھلے ہیں وہاں جاکر رے مانڈ بیکر اور وکی لیکس والے کو گھسیٹیں لیکن ایسا ہو گا نہیں کیونکہ چور کی داڑھی میں تنکا بھی تو ہوتا ہے۔
پاکستان میں جمہوریت کے نام پر سیاسی آمریت ہے۔ سیاستدان کرپٹ ہیں اور اپنی بے پناہ کرپشن کے بل بوتے پر اتنے وسائل بنا لیئے ہیں کہ ایک ایک ووٹ خرید کر بھی اسمبلی میں پہنچ جاتے ہیں،اسکی ذندہ مثال حلقہ ایک سو بائیس میں دونوں پارٹیوں کا بے دریغ پیسے کا استعمال ہے۔ انکے اس پیسے سے کئی ہسپتال ، یونیورسٹیاں اور کالجز بن سکتے تھے لیکن رفاح انکا مزاج ہی نہیں۔عمران آج بھی پاکستان میں ایک فیورٹ لیڈر کی پوزیشن لے سکتا ہے اگر وہ سارے نئے چہرے لے کر آئے بلکہ پرانی سیاسی خاندانوں میں سے بھی کوئی نیا چہرہ نہ ہو، مڈل کلاس کو اس سیاسی میدان میں اتارے اور پھر دیکھیں کہ پاکستان کیسے ترقی کرتا ہے۔
پاکستان کی ترقی کے لئے سب سے پہلے کوالٹی آف ایجوکیشن کی ایمرجنسی کی ضرورت ہے۔ ڈسٹرکٹ لیول پر پوسٹ گریجویٹ سائنس کالجوں، یونیوسٹیوں کی ضرورت ہے، ٹاؤن لیول پر ہائر سیکینڈری سائنس کالجوں کی ضرورت ہے تاکہ غریب لوگ جو اپنے بچوں کو میٹرک سے آگے پڑھانے کے لئے اخراجات افورڈ نہیں کر سکتے وہ ان کالجوں، یونیوسٹیوں اور سیکنڈری سکولوں سے مستفید ہوں۔اسطرح ایک تو خواندگی کی شرح میں حقیقتاء اضافہ ہو گا دوسرا قومی شعور ابھرے گا اور اس سے شخصیت پسندی کا بھی خاتمہ ہو گا اور ملک کو نیک ، ایماندار، رفاعی جذبہ رکھنے والی صحیح قیادت بھی ملے گی۔
پاکستان بننے سے لیکر آجتک پاکستان نے ملٹری ایمپلائنسز میں تو ترقی کی لیکن باقی ساری فیلڈ (بنیادی حقوق) میں پیچھے رہ گیا ہے اور اسکا سارہ کریڈٹ ہمارے کرپٹ پولیٹیکل سسٹم کو جاتا ہے جو ہمیشہ ڈیلیور کرنے میں ناکام رہے اور انہوں نے ہمیشہ سوائے اپنے مخالفین پر کیچھڑ اچھالنے کے اور پرسنل اثاثے بنانے کے کچھ نہیں کیا اگر یہ اپنے اپنے ادوار میں ٹین پرسنٹ بھی کرتے تو آج تقریباء ستر پرسنٹ پاکستان کے مسائل ختم ہو چکے ہوتے۔
فیورٹ کون یہ ابھی تک سوالیہ نشان ہی ہے!