یکم محرم حضرت عمر کا یوم شہادت۔۔۔۔۔

Posted on October 16, 2015



یکم محرم حضرت عمر کا یوم شہادت۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ملک ریاست
آج یکم محرم الحرام ہے اور خلیفہ دوم جلیل القدر صحابی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یوم شہادت ہے۔۔۔ آج کے روز حضرت عمر کو ایک” یہودی ابو لولو فیروز” نے نماز فجر کے وقت خنجر کے وار کر کے شہید کر دیا تھا۔۔۔۔۔ حضرت عمر وہ عظیم پستی ہیں جہنیں نبی علیہ السلام نے خود اللہ سے اسلام کی عظمت کے لیے اللہ سے مانگا ۔۔۔ یعنی باقی سب صحابہ نبی کے مرید جبکہ حضرت عمر مراد تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت عمررضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے تھے، ان کا شمار علماء و زاہدین صحابہ میں ہوتا تھا۔ حضرت عمر ایک باعظمت، انصاف پسند اور عادل حکمران تھے، ان کی عدالت میں مسلم و غیر مسلم دونوں کو یکساں انصاف ملا کرتا تھا، حضرت عمر بن کا یہ عدل و انصاف انتہائی مشہور ہوا اور ان کے لقب فاروق کی دیگر وجوہ تسمیہ میں ایک وجہ یہ بھی بنی۔
عمررضی اللہ عنہ ایک ہونے کے ساتھ ایک جری کمانڈر بھی تھے۔۔۔۔ ان کے دور خلافت میں عراق، مصر، لیبیا، شام، ایران، خراسان، مشرقی اناطولیہ، جنوبی آرمینیا اور سجستان فتح ہو کر مملکت اسلامی میں شامل ہوئے اور اس کا رقبہ” بائیس لاکھ اکاون ہزاراورتیس مربع میل” پر پھیل گیا۔ عمر بن خطاب ہی کے دور خلافت میں پہلی مرتبہ یروشلم فتح ہوا، اس طرح ساسانی سلطنت کا مکمل رقبہ اور بازنطینی سلطنت کا تقریباً تہائی حصہ اسلامی سلطنت کے زیر نگین آ گیا۔جضرت عمر بن خطاب نے جس مہارت، شجاعت اور عسکری صلاحیت سے ساسانی سلطنت کی مکمل شہنشاہیت کو دو سال سے بھی کم عرصہ میں زیر کیا اس کی مثال اج تک کہیں نہیں ملتی، نیز اپنی سلطنت و حدود سلطنت کا انتظام، رعایا کی جملہ ضروریات کی نگہداشت اور دیگر امور سلطنت کو جس خوش اسلوبی اور مہارت و ذمہ داری کے ساتھ نبھایا وہ ان کی عبقریت کی دلیل ہے۔
حضرت عمر وہ شخص تھے کہ وہ جس گلی سے وہ گزرتے وہاں سے شیطان بھی نہیں گزرتاتھا۔۔۔ کفر ان کے خوف اور دہشت سے لرزتا تھا ۔۔۔
ان کے دورحکومت میں عدل و انصاف کا یہ عالم تھا کوئی بھی شخص ان سے پوچھ سکتا تھا کہ اے عمر تیرے تن پر جو کپڑے ہیں یہ تو نے کہاں سے لائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کبھی یہ فرماتے کہ نیل کے کنارے اگر ایک کتا بھی مر گیا تو اس کا ذمہ دار عمر ہوگا۔۔۔۔
یہ عمر کی شان کی شان ہے کہ دنیا آج بھی ان کے طریقہ حکمرانی اور عدل و انصاف کے بے رحم نظام کی معترف ہے۔۔۔