شفاف الیکشن اور ملکی فضا۔۔۔

Posted on October 14, 2015



شفاف الیکشن اور ملکی فضا۔۔۔۔۔۔ ملک ریاست

ملک میں اس وقت سیاسی گہما گہمی عروج پرہے۔۔۔ لاہور کے ضمنی الیکشن کے بعد توقع تھی کہ یہ درجہ حرارت کم ہو جائے گا۔۔۔۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا۔۔۔۔ پی ٹی آئی نے پہلے شکست تسلیم کرنے بعد اب الزام تراشیوں کے ساتھ ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست بھی دے دی۔۔۔ یعنی ان کا خیال ہے کہ اب شغل میلا لگا ہی رہنا چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کہما گہمی، جلسے جلوس ، گالم گلوچ، تنز و مذاق کا سلسلہ کسی طرح بند نہیں ہونا چاہیے۔۔۔۔
اس حقیقت سے انکارممکن نہیں کہ ملک کا نظام جمہوری ہے اور جمہوریت میں حکومت بنانے کے لیےووٹوں کا سہارا لیا جاتا ہے۔۔۔۔بلکہ پورا نظام ہی عوامی ووٹ کا تابع ہے۔۔۔۔ اس لیے ووٹنگ کا ایسا شفاف نظام ہونا چاہیے کہ جس میں شک و شبہ کی گنجائش تک نہ ہو۔۔۔ اگر حکومت کرنا چاہے تو یہ کوئی اتنا مشکل کام بھی نہیں ہے کیونکہ دنیا کے بیشتر ممالک ایسے ہیں جہاں ووٹنگ شفاف ہوتی ہے جس میں کسی کو الزام لگانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔۔۔۔
اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ موجودہ نظام میں جتنی خرابیاں ہیں ان کو فی لفور ختم کیا جائے۔۔۔۔ اور ایسا نطام لایا جائے جس میں کسی قسم کے ابہام کی گنجائش نہ ہو۔۔۔۔۔
اس کے ساتھ یہ لکھنے میں کوئی عار یا شرم محسوس نہیں کر رہا ہوں کہ جب بھی اس ملک میں شفاف ووٹنگ کا نطام ائے گا۔۔اور انشاءاللہ آئے گا کیونکہ اب اس نظام کے خلاف ہر طرف سے آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئ ہیں۔۔۔ اس کا سہرا عمران خان کو جائے گا کیوںکہ اس شخص نے ووٹنگ کے نظام کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں جس میں تاریخ کا لمبا ترین دھرنا بھی شامل ہے۔۔
اب اخر میں پی ٹی آئی اور عمران خان صاحب سے گزارش ہے کہ وہ اب دھاندلی کا رونا بند کر دیں کیونکہ روز روز کے جلسے جلوسوں اور دھرنوں میں بے پناہ پیسے کا ضائع ہونے کے ساتھ قوم کا وقت بھی ضائع ہو رہا ہے۔۔۔پی ٹی آئی کوچاہیے کہ وہ اب روڈوں کے بجائے اسمبلیوں میں اپنا بہترین کردار ادا کریں اور کے پی کے میں اپنی حکومت پر بھی توجہ دیں کیوںکہ جو صورتحال ںظر آ رہی کہ وہ یہ ہےکہ نظام ایسے ہی چلتا رہا تو اگلی باری کسی حکومت کی امید نہ رکھی جائے۔۔۔ اس لیے اپنی پوری توجہ اپنی کارگردگی پر مبزول کریں۔۔۔ شکریہ