سیرت النبی صلی اللہ و علیہ وسلم ۔۔

Posted on October 10, 2015



سیرت النبی صلی اللہ و علیہ وسلم ۔۔۔۔۔۔ ملک ریاست

بات ہو رہی ہے سیرت نبی صلی اللہ و علیہ وسلم کی تو کہاں ہم جیسے گناہ گار اور جاہل، کہاں دونوں جہاں کے سردار اقا صلی اللہ و علیہ وسلم کی ذات بابرکتہ ، جس پر ہم کچھ لب کشائی کر سکیں، لیکن اپنی طرف سے ایک ادنی سی کوشش ضرور کرنی چاہیے کہ شاہد یہی ہماری بخشش کا ذریعہ بن جائے،
ویسے تو سیرت کے بے شمار پہلو ہیں اگر سب پے بات کی جائے تو بات بہت طول ہو جائے گی۔اس لیے اختصار لازمی ہے
آج ہم صرف اپنے کریم نبی صلی اللہ و علیہ وسلم کی زندگی کے ایک پہلو ان کے اخلاق پر اپنی سی کوشش کرتے ہیں اللہ سے دعا ہے کہ وہ اسے اپنے سچے دربار میں قبول فرمائے۔۔۔ اور اس کے بدلے ہمیں اپنے گھر کی زیارت نصیب فرمائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سرکار دوجہاں ،سرورکونین، ہمارے پیارے و کریم آقا مدںی صلی اللہ و علیہ وسلم نے ایک ایسے ماحول اور ایسے وقت میں انکھ کھولی جب دنیا اندھیروں میں ڈوب چکی تھی، ہرسمت تاریکی ہی تاریکی تھی، ظالموں کے ظلم سے بے سہارا و بے کس نشان عبرت بن رہے تھے۔۔ ۔۔ ظالم کے سامنے کوئی کلمہ حق کہنے والا نہ تھا ۔۔ ہر بستی کے سردار اپنے آپ کو سب سے بلند تر سمجھتے تھے۔ قتل وغارت گری عام تھی، جہالت حددوں کو چھو چکی تھی۔ لوگ بیٹوں کو شرم کے باعث زندہ درگور کر دیتے تھے۔۔۔۔۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر کئی کئی خاندان اجاڑ دیے جاتے تھے۔۔
ہرسو بت پرستی اور کفر ہی کفر تھا۔۔۔ کوئی خدا تو کوئی اپنے آپ کو خدا کا خلیفہ سمجھتا تھا، اچھائی اور برائی کا تصور تقریبا ختم ہو کہ رہ گیا تھا۔
ایسے گندے اور زنگ الود میں ماحول میں” محسن کائنات ص “کا تشریف لانا اور لوگوں کو اسلام کی طرف راغب کرنا کسی خواب سے کم نہ تھا۔۔۔ لیکن اپنے اعلی
ترین اخلاق کی وجہ سے آقا مدنی مدںی صلی اللہ و علیہ وسلم نے بچپن سے ہی ہر کس و ناکس کواپنا گرویدہ بنا لیا تھا۔۔۔ وہ لوگوں کے کام آتے ، غریبوں کی امداد کرتے، بے سہاروں کا سہارا بنتے، امانت میں خیانت نہ کرتے۔۔۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے دشمن بھی اپنی امانتیں ان کے پاس رکھواتے تھے۔۔۔۔ ظلم کا بدلہ ظلم سے نہ دیتے بالکہ معاف کرنا ان کا شہوہ تھا۔۔۔۔
یہ میرے پیارے نبی صلی اللہ و علیہ وسلم کے بلند پایہ اخلاق ہی تھے۔۔ کہ جب وہ دنیا سے رحلت فرما رہے تھے تواس وقت یہ حالت تھی کہ وہ عرب بدھو جو دنیا کی بدبخت قوم تھی مہذب ترین قوم بن چکی تھی۔۔نفرتیں ختم ہو کر ہر طرف محبت ہی محبت کا بول بولا تھا، اور اس امن و محبت کا عملی نمونہ انصار کا مہاحرین سے سلوک سے دیکھا جا سکتا ہے، وہی جو بیٹوں کو شرم کا باعث سمھجتے تھے اب ان کی عزت سب سے زیادہ کی جانے لگی، وہ لوگ بڑے بڑے سردار اسلام کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے لگے اور اپنے گھر بھر چھوڑ چھاڑ کے اسلام کے لیے اپنی زندگیوں کو وقف کر چکے تھے،
آج بھی اگر دینا فخر کرتی ہے تو نہ بوعلی سنا کی طب وحکمت پر،نہ سقراط کے علم پر نہ لینن کے اشترا کے نظریات پر کیوں کہ ایک ہی وہ قابل فخر ہستی ہے جس جیسا آج تک اللہ نے بنایا ہی نہیں ،وہ میرے اور آپ کے پیارے نبی، نبی رحمت صلی اللہ و علیہ وسلم ہیں۔
نہ اس جیسا کوئی تھا،نہ ہے اور نہ آئے گا
صلی اللہ و علیہ وسلم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔