8 اکتوبر2005۔۔۔۔۔۔۔ ملک ریاست8

Posted on October 9, 2015



8 اکتوبر2005۔۔۔۔۔۔۔ ملک ریاست8

آج بھی جب میں اس دن کو یاد کرتا ہوں تو تھر تھر کانپنے لگتا ہوں،زبان لرزنے لگتی ہے،دل میں خوف سا چھا جاتا ہے،اور یہ سوچ کر اللہ کے حضور سربسجود ہوجاتاہوں کہ یا اللہ انسان کی کوئی حقیقت نہیں،کیونکہ اس دن کتنے ہی لوگ تھے جو اپنے آنے والے کل سے امیدیں وابستہ کیے سوئے تھے پھر کیا ہوا وہ پوری دنیا نے بے چشم دیکھا۔۔۔
بات تو 10 سال پرانی ہے پر یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کل کا وقوعہ ہے ،اس کی ہولناکیوں، وحشت اور خوف کی وجہ سے آج بھی وہ دن روز اول کی طرح دل ودماغ پر نقش ہے
ہوا کچھ یوں کہ میں اور میرا کزن سو کےاٹھے تو گھر کے باہر صحن کے ایک طرف دیوار پر جہاں دھوپ قدرے بہتر لگتی ہے وہاں جا کھڑے ہوئے، چند ہی لمحوں میں زمیں تھر تھر کانپنے لگی اور یوں محسوس ہوا کہ یہ دیوار گرنے لگی ہے جوںہی ذرہ پیچھے کی طرف ہو لیے تو یک دم دھڑم سے دیوار گر گئی،
انکھوں میں نیند کا خمار ابھی باقی ہی تھا کہ دیکھا چاروں طرف پہاڑوں سے گرد اٹھنے لگی،اور اس کےساتھ ایک عجیب و غریب سی ڈرا دینے والی آواز بھی سنائی دینے لگی،جو ان کانوں نے پھر کبھی آج تک دوبارہ نہ سنی، دیکھتے ہی دیکھتے ہر سو اندھیرا سا چھا گیا، پر طرف مٹی اور گردو غبار اور اس سے چیخوں وپکار کی لرزا دینے والی آوازیں آج بھی جب یاد آتی ہیں تو دل دھک سا جاتا ہے،ہر فرد زبان پر کلمہ طبیہ اور توبہ استغفار کا ورد کرتے اپنے گناہوں پر معافی کا طلب گار دکھائی دیا،
چند لمحوں بعد جب زلزلہ روکا تو دیکھا گھر کی دیواروں میں بڑے بڑے خلا پیدا ہوچکے تھے،جب گرد کے سائے ہٹنے لگے تو سامنے کی طرف لوگوں کا ایک ہجوم دکھائی دیا، جب خود وہاں پہنچے تو دیکھا ایک قریبی عزیر کا گھر زمین بوس پو چکا تھا،جبکہ اہل علاقہ امدادی کاروائیوں میں مصروف عمل تھے،
اس دن ہر مرد ،عورت، جوان ، بوڑھا بچہ، سب ہی میں ایسا خوف اور وحشت تھی کہ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ابھی دوبارہ سے ایک جھٹکا اور آئے گا اور سب کچھ زمیں بوس ہو جائے گا۔ اللہ وہ دن دوبارہ نہ دکھائے،
اللہ کا اپنے حیبب سے وعدہ ہے کہ وہ سب کو اکھٹا غرق نہیں کرے گا لیکن وقعتا فوقتعا جب زمیں گناہوں سے زنگ الود ہو جاتی ہے کفر اور نافرمانیاں حد سے بڑھ جاتی ہیں، تو اللہ اپنا آپ دیکھاتا ہے چاہے وہ سیلاب ہو زلزلہ ہو یا سونامی کی صورت میں ، بحرحال یہ اللہ کہ عذاب کی ایک کڑی ہوتی ہے،اور باقی لولوں کو خبردار کرنا بھی مقصود ہوتا ہے
ایک ہی لمحے میں لاکھوں لوگوں کو ان کی خواہشات، ان کی بیوی بچوں زمیں و جائیداد ،زیورات سمیت نست ونابود کر کے اللہ نے دکھا دیا کہ اے بندے تیرے پاس اپنا کچھ نہیں ہے جو کچھ بھی ہے وہ تیرے رب کا ہے اور اس کی مرضی ہے کہ وہ جب چاہیے تجھ سب کچھ چھین لے،یہ ساری کائنات اسی کی محتاج ہے اس کے امر کے بغیر ایک پتہ تک ہل نہیں سکتا،
میرے دوستوقبل اس کے کہ ہمارا حال بھی ان جیسا ہو،ہمیں غفلت اور لاپروائی چھوڑ کر اللہ کی طرف رجوع کرلینا چاہیے ،اور اسی میں ہماری بھلائی ہے،شکریہ