حجاج کرام کی میتوں پر ایرانی رقص

Posted on October 8, 2015



العربیہ ڈاٹ نیٹ

#سعودی_عرب میں #حج کے موقع پر #منیٰ کے مقام پر بھگدڑ کے نتیجے میں پیش آئے حادثے کے بعد #ایران کا سعودی عرب کے خلاف ‘منافقانہ’ اور ‘معاندانہ’ کردار کھل کر سامنے آگیا ہے۔ ایرانی حکومت اور اس کےحامی ذرائع ابلاغ نے جس طرح شہید ہونے والے حجاج کرام کی لاشوں پر سیاست چمکانے کی کوشش کی ہے اس سے یہ واضح ہوگیا ے کہ #تہران کو محض اپنے شہریوں سے غرض ہے اور بھگدڑ میں شہید ہونے والے ایرانی حجاج کے معاملے کو مبالغہ آرائی کی حد تک اچھال رہا ہے۔ حالانکہ بھگدڑ میں شہید اور زخمی ہونے والے سیکڑوں حجاج کرام دوسرے ملکوں سے بھی تعلق رکھتے تھے۔

سعودی عرب پر بلا جواز تنقید کے باب میں جہاں ایرانی حکومت اور تہران کے وفادار ذرائع ابلاغ کو بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا ہے وہیں #بشار_الاسد اور لبنانی شیعہ ملیشیا #حزب_اللہ بھی #ریاض کو ہدف تنقید بنانے اور رائی کا پہاڑ بنانے میں کسی سے پیچھے نہیں رہے۔

منٰی حادثے کے بعد سعودی عرب نے واقعے کی شفاف تحقیقات کا اعلان کر کے سازشی عناصر کا منہ بند کرانے کی کوشش کی۔ یہ سعودی حکومت کی ذمہ داری تھی کہ وہ نہ صرف تمام حجاج کرام کو ہرممکن تحفظ مہیا کرے بلکہ حادثے کے اسباب و محرکات کا تعین کرنے کے بعد اس کے حقائق سے تمام عالم اسلام کو آگاہ کرے۔ اس باب میں کسی قسم کے کھیل تماشے، جھوٹ اور حقائق کو خلط ملط کرنے کی گنجائش نہیں۔ سعودی عرب نے یہ ثابت کیا ہے کہ اس کی اولین ترجیح حجاج کرام کا تحفظ ہے۔

جہاں تک ایران کی جانب سے سعودی عرب کو بلا جواز تنقید کا نشانہ بنانے کا عمل ہے تو ہرکوئی جانتا ہے کہ تہران سرکار کے سارے ڈرامے کا پس منظر کیا ہے۔ خادم الحرمین الشریفین ہونے کی حیثیت سے سعودی عرب کا پوری دنیا میں ایک بلند مقام ہے۔ نیز سعودی عرب خطے اور اسلامی دنیا میں قائدانہ کردار ادا کررہا ہے۔ ایران کو سعودی عرب کی عالمی اور علاقائی عزت گوارا نہیں ہے۔ ایران کے لیے سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ وہ مکہ ومدینہ کو قم اور تبریز منتقل نہیں کرسکتا ہے۔

ایران میں ولایت فقیہ کے انقلاب کے بانی آیت اللہ خمینی نے انقلاب سے بھی پہلے حرمین شریفین پرقبضے کی دھمکی دی تھی۔ آج لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ حس نصراللہ اور ان کے شامی پیروکار خمینی کی ڈگر پرچل رہے ہیں۔

حج کے دوران ماضی میں ہونے والے حادثات میں جھانک کردیکھا جائے تو یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ آیا وہ کون ہےجو حج کے موقع پر خوف وہراس، بدنظمی، خون خرابے حتی کہ دھماکہ خیز مواد تک سعودی عرب پہنچانے میں ملوث رہا ہے توتاریخ بتاتی ہے کہ ہے کہ کئی سال کی سازشوں میں ایران ہی کا ہاتھ رہا ہے۔

العربیہ ٹی وی کے پروگرام”مرایا” کے میزبان مشاری الزایدی نے اپنے تازہ پروگرام میں اسی حقیقت سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی سب سے بڑی ذمہ داری حجاج کرام کا تحفظ اور حرمین شریفین کی خدمت ہے اور اس باب میں سعودی عرب ماضی اور حال میں بہت ہی عمدہ خدمات انجام دیتا رہا ہے۔ سعودی عرب کو چاہیے کہ وہ حجاج کرام کی لاشوں پر ایرانکو سیاست چمکانے کا ہرگز موقع نہ دے۔