یمنی فوج کا سعودی اتحاد کی مدد سے باب المندب پر قبضہ

Posted on October 4, 2015 Articles



عدن ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی کی وفادار فوج اور سعودی عرب کی قیادت میں خلیجی عرب فورسز نے بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والی آبنائے باب المندب پر قبضہ کر لیا ہے اور وہاں سے حوثی باغیوں کو ماربھگایا ہے۔

مقامی لوگوں نے المخاء کے علاقے میں سعودی عرب کے لڑاکا طیاروں کے حوثی باغیوں اور ان کے اتحادی سابق صدر علی صالح کے وفادار یونٹوں پر فضائی حملوں اور جنگی بحری جہازوں کی گولہ باری کی اطلاع دی ہے جبکہ اس دوران یمنی فورسز نے برسرزمین پیش قدمی جاری رکھی تھی۔فضائی بمباری اور لڑائی میں متعدد حوثی باغی ہلاک ہوگئے ہیں۔

یمنی حکومت کے ترجمان راجح بادی نے جنوبی شہر عدن سے ٹیلی فون کے ذریعے بتایا ہے کہ ”یمنی حکومت ،مزاحمتی اور اتحادی فورسز نے باب المندب کو آزاد کرانے کے لیے جمعرات کو بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کا آغاز کیا تھا اور انھوں نے دوبارہ اس کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے”۔

یمن میں گذشتہ چھے ماہ سے جاری لڑائی کے دوران آبنائے باب المندب سے گذرنے والے مال بردار اور تیل بردار جہازوں کی سکیورٹی کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔خلیجی ممالک اور ایشیا سے یورپ اور امریکا جانے والے تیل بردار بحری جہاز یہیں سے ہوکر گذرتے ہیں۔امریکا کی توانائی اطلاعاتی انتظامیہ کے مطابق سنہ 2013ء میں اس اہم آبی گذرگاہ سے روزانہ چونتیس کروڑ بیرل سے زیادہ تیل بحری جہازوں کے ذریعے مغربی ملکوں کی جانب جاتا تھا۔

حوثی باغیوں نے گذشتہ سال ستمبر میں دارالحکومت صنعا پر قبضے کے بعد باب المندب کا بھی کنٹرول حاصل کر لیا تھا لیکن اب انھیں یمنی فوج اور اس کے اتحادیوں کی یلغار کے بعد پسپائی کا سامنا ہے۔صدر عبد ربہ منصور ہادی کی وفادار فوج اور اس کے اتحادی جنوبی مزاحمتی تحریک سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے جولائی کے وسط میں جنوبی شہر عدن پر دوبارہ قبضہ کر لیا تھا اور وہاں سے حوثی ملیشیا اور ان کے اتحادیوں کو مار بھگایا تھا۔

تاہم ابھی تک دارالحکومت صنعا اور ملک کے کم وبیش تمام شمالی علاقوں پر حوثی باغیوں اور ان کے اتحادی سابق صدر علی عبدالہا صالح کے وفادار فوجی یونٹوں کا قبضہ برقرار ہے۔ان علاقوں میں حوثیوں کا مضبوط گڑھ صعدہ بھی شامل ہے جس کی سرحد سعودی عرب کے ساتھ ملتی ہے۔

سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک نے 26 مارچ کو ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں پر فضائی حملوں کا آغاز کیا تھا۔ملک کے جنوبی اور وسطی علاقوں میں صدرمنصور ہادی کی وفادار فورسز کو حوثی باغیوں کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک کی فضائی مدد بھی حاصل رہی ہے اور سعودی طیاروں کے فضائی حملوں نے میدان جنگ میں یمنی فوج کی کامیابیوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔