بحرین نے تہران سے اپنا سفیر واپس بلا لیا

Posted on October 4, 2015 Articles



منامہ ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

بحرینی حکومت نے تہران میں متعیّن اپنے سفیر کو واپس بلا لیا ہے اور منامہ میں تعینات ایرانی ناظم الامور کو ملک چھوڑنے کے لیے بہتر گھنٹے کا وقت دیا ہے۔

بحرینی حکومت نے یہ اقدام ایران سے دہشت گردی کا تعلق رکھنے والے متعدد افراد کی گرفتاری کے ایک روز بعد کیا ہے۔بحرینی حکام نے ایک چھاپہ مار کارروائی کے دوران ڈیڑھ ٹن دھماکا خیز مواد برآمد کیا ہے۔

بحرین کی وزارت خارجہ نے جمعرات کو جاری کردہ ایک بیان میں ایران پر فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینے کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ بحرین کے داخلی امور میں مسلسل مداخلت کررہا ہے۔

العربیہ نیوز چینل نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ وزارت خارجہ نے ایران پر میڈیا مہموں کے ذریعے دہشت گردی ، گڑ بڑ اور تشدد کو ہوا دینے اور دہشت گرد گروپوں کی اسمگل شدہ اسلحے کے ذریعے مدد وحمایت کا الزام عاید کیا ہے۔

بحرین کے سرکاری میڈیا کے مطابق بدھ کو پکڑا گیا گولہ بارود دارالحکومت منامہ کو تباہ کرنے کے لیے کافی تھا۔بحرینی وزیر خارجہ شیخ خالد بن احمد بن محمد آل خلیفہ نے ایران پر زوردیا ہے کہ وہ دوسرے ممالک کے داخلی امور میں مداخلت سے گریز کرے۔انھوں نے کہا کہ ایران کو اپنی زبان اور اقدامات کے درمیان دوغلے پن سے بھی گریز کرنا چاہیے۔

واضح رہے کہ اگست میں بحرینی حکام نے ایران سے روابط رکھنے والے پانچ مشتبہ افراد کو گرفتار کیا تھا۔انھیں منامہ کے نواح میں ایک بم دھماکے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔دہشت گردی کے اس واقعے میں دو پولیس اہلکار مارے گئے تھے۔

بحرینی حکام ایران پر اس جزیرہ نما چھوٹی مملکت کو شیعہ آبادی کی حمایت کے ذریعےعدم استحکام سے دوچار کرنے کے الزامات عاید کرتے رہتے ہیں۔بحرین میں آبادی کے اعتبار سے اہل تشیع کی اکثریت ہے جبکہ اہل سنت کی حکومت ہے اور بڑے اعلیٰ عہدے داروں کا تعلق بھی اسی مذہبی طبقے سے ہے۔