ایرانی پاسداران انقلاب اور دہشت گردوں کے معاون سرکاری ایرانی عہدیدار منیٰ میں لاپتا

Posted on September 30, 2015



العربیہ ڈاٹ نیٹ ۔ صالح حمید
ایران کے خبر رساں اداروں نے انکشاف کیا ہے کہ منیٰ میں بھگدڑ کے دوران لاپتا ہونے والے حجاج میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے دفتر کے بعض اہم عہدیدار اور پاسداران انقلاب کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ ایرانی وزیر صحت حسن ھاشمی کی قیادت میں ایک وفد منیٰ حادثے کے متاثرہ ایرانیوں کی مدد کے لیے سعودی عرب پہنچ چکا ہے مگر ابھی تک درجنوں افراد کا سراغ نہیں مل سکا ہے۔

خبر رساں ایجنسی”تسنیم” کے مطابق لاپتا افراد میں لبنان میں ایران کا سابق سفیر اور خامنہ ای کے دفتر کا ایک سینیر عہدیدار غضنفر رکن آبادی بھی شامل ہے۔ ان کے ساتھ پاسداران انقلاب کے اسٹرٹیجک اسٹڈی سینٹر کا ڈائریکٹر علی اصغر فولاد غر اور دیگر افسران میں حسن دانش، فواد مغلی، عمار میر انصاری اور حسن حسنی بھی لاپتا ہیں۔
رکن آبادی پر مظاہرہ کرانے کا الزام
پاسداران انقلاب کی مقرب خبر رساں ایجنسی تسنیم کی رپورٹ کے مطابق لبنان میں ایران کے سابق سفیر غضفر رُکن آبادی اپنی اصل شناخت چھپا کر سعودی عرب میں داخل ہوئے ہیں۔ رکن آبادی ایران کی جانب سے حزب اللہ کو اسلحہ پہنچانے کے مشن پر بھی مامور رہ چکے ہیں اور ایرانی میزائلوں کے رازوں سے بھی واقف ہیں۔ انہوں نے یوم عرفہ کو مرشد اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی جانب سے ایرانی حجاج کے سامنے”مشرکین سے اعلان برات” کے عنوان سے ایک پیغام پڑھ کر سنایا۔ یہ ایک ایسا اقدام تھا جس کی سعودی عرب کی طرف سے اجازت نہیں دی گئی تھی۔

ایک دوسری خبر رساں ایجنسی” مہر” نے بھی ویڈیو فوٹیج میں رکن آبادی کو خامنہ کی طرف سے ایک پیغام پڑھ کر سناتے دکھایا ہے۔ وہ ایرانیوں کے ایک گروپ کے سامنے مرشد اعلیٰ کا پیغام پڑھ رہے ہیں۔
غضنفر رکن آبادی کا نام حجاج میں شامل نہیں

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو سعودی حکومت عرب کے ذمہ دار ذریعے سے یہ خبر ملی ہے کہ اس سال حج کرنے والوں میں کسی شخص کا نام غضنفر رکن آبادی کے طورپر رجسٹرڈ نہیں ہے۔ جہاں تک ایران کے لبنان میں سابق سفیر غضنفر رکن آبادی کی حجاج کرام میں موجودگی کا معاملہ ہے تو پتا چلا ہے کہ وہ اپنی اصلی شناخت چھپا کر حجاج کرام کی صفوں میں داخل ہوئے ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے بھی یہ اعتراف کیا گیا ہے کہ ان کا ایک سابق سفیر غضنفر رکن آبادی بھی منیٰ میں بھگدڑ کے حادثے کے دوران لاپتا ہونے والوں میں شامل ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ رکن آبادی دیگر شہریوں کے ہمراہ مناسک حج کی ادائی کے لیے حجاز مقدس پہنچا تھا تاہم اس کے پاس سفارت کار کا خصوصی پاسپورٹ نہیں بلکہ وہ ایک عام شہری کے طور پر حج کے لیے گیا ہے تاہم ایرانی وزارت خارجہ نے بھی یہ نہیں بتایا کہ آیا غضنفر اپنے اصل نام کے ساتھ سعودی عرب میں داخل ہوا یا کسی فرضی نام کے ساتھ آیا تھا۔
ایران کا نیا پراپیگنڈہ

منیٰ میں بھگدڑ کے نتیجے میں بڑی تعداد میں حجاج کرام کی شہادت کے واقعے کے کو ایران اپنے مخصوص مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی”تسنیم” کے مطابق #تہران سرکار منیٰ میں بھگدڑ کے حادثے کو سعودی عرب کے خلاف منفی پراپیگنڈے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

بعض ایرانی رہ نمائوں کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ منیٰ میں بھگدڑ کا واقعہ ایک طے شدہ منصوبے کا نتیجہ ہے جس کا مقصد ایرانی حجاج کرام اور حج کے لیے آئے پاسداران انقلاب کے افسروں، سفارت کاروں اور دیگر اہم ایرانی شخصیات کواغواء کرنا تھا۔
معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش

منیٰ میں شیطان کو کنکریاں مارنے کے دوران حاجیوں میں پھیلنے والی بد نظمی کے بعد ایران نے اس واقعے کو سیاسی رنگ دینے کی بھی کوشش کی ہے۔ ایرانی حکومت کی آشیر باد سے تہران اور ملک کے دوسرے شہروں میں سعودی عرب کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی کیے جا رہے ہیں۔

اگرچہ ابھی تک ایرانی حکومت کی طرف سے سابق سفیر غضنفر رکن آبادی کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں تاہم سعودی عرب کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ دو روز قبل تہران میں قائم سعودی سفارت خانے کے باہر بھی ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاجی مظاہروں اور سرکاری حکام کے سعودی عرب مخالف بیانات کے ساتھ ساتھ ایرانی میڈیا بھی سخت برہم ہے اور منیٰ واقعے کو ایرانی حجاج کرام کے خلاف ایک سازش قرار دے رہا ہے۔

درایں اثناء سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے ایرانی پروپیگنڈے کے جواب میں کہا ہے کہ ماضی میں بھی #حج کے موقع پر ایرانی حجاج کرام بد نظمی پھیلانے کا موجب بنتے رہے ہیں۔ سنہ 1980ء کے عشرے میں بدترین بھگدڑ کے واقعے میں سیکڑوں حجاج کرام شہید ہو گئے تھے اور اس واقعے میں بھی ایرانی حجاج کو قصور وار قرار دیا گیا تھا۔