کعبہ مسلمانوں کا قبلہ نہیں بلکہ حکومتی جاگیر ہے

Posted on September 26, 2015



کعبہ مسلمانوں کا قبلہ نہیں بلکہ حکومتی جاگیر ہے
1) آل سعود نے اپنی آمریت کا ثبوت دیتے ہوئے شام اور یمن کے لوگوں کو اس سال سال حج جیسی عظیم سعادت سے محروم رکھا۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ شام اور یمن کی قانونی حکومتیں سیاسی اعتبار سے آل سعود سے بنیادی اختلافات رکھتی ہیں۔ مذکورہ دونوں ملکوں میں آزاد الیکشن منعقد ہوا اور وہاں پر بر سر اقتدار حکمرانوں کو لوگوں نے منتخب کیا ہے۔ وہ کسی خاص خاندان سے تعلق رکھنے والے نہیں ہیں کہ جو حکومت کو اپنی قانونی میراث سمجھتے ہیں۔
2) مشہور بلاگر مجتہد نے چند ہفتے قبل اس راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے ٹوئیٹر پر لکھا تھا کہ محمد بن سلمان، حرمین شریفین کے تمام توسیعی پراجیکٹس کو حاصل کرنے کے لیے بن لادن کمپنی کو کنارے لگانے کی بھرپور کوششیں کررہے ہیں۔ اسی لئے بعض ماہرین مکہ میں پیش آنے و الے حادثہ کو سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں تاکہ اس طرح بن لادن کمپنی کو بدنام کیا جاسکے۔
دوسری طرف فرانسیسی روزنامہ لوبوان نے مسجد الحرام میں کرین حادثہ کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے جدہ یونیورسٹی میں گذشتہ ۴۰ برس سے حج پر تحقیق کرنے والے برطانوی محقق ضیاء الدین کے حوالے سے نقل کیا کہ “آل سعود نے گذشتہ ۵۰ برس میں مکہ شہر کو ڈسنی لینڈ بنا کر رکھ دیا ہے۔ سعودی حکومت وقتاً فوقتاً مکہ کے تاریخی مقامات کا نام و نشان مٹاتی رہتی ہے اور میں ۷۰ کی دہائی سے بعض مقدس ترین اور قدیمی ترین مقامات کو منہدم ہوتا دیکھتا آیا ہوں”۔
3) محمد بن نائف نے حاجیوں کو تنبیہ کی تھی کہ وہ فریضہ حج کو سیاسی اغراض و مقاصد کے لیے استعمال نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری انتظامیہ ہر اس شخص سے نمٹنے کے لئے تیار ہے جو حج کے موقع پر کسی بھی طرح کی بدامنی یا سیاسی نعرہ بازی سے کام لےگا۔ سیاسی نعرے اور اغراض و مقاصد سے شہزادہ نائف کی مراد، مشرکین سے بیزاری کا اعلان ہے جس میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف اور فلسطینی عوام کی حمایت میں نعرے لگتے ہیں۔ دنیا بھر کے تمام حجاج، حج کے موقع پر مشرکین اور ظالمین کے خلاف نعرے لگاتے ہیں۔ مگر آل سعود اور سعودی مفتی اس کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔
نتیجہ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ آپ ہی بتائیں کہ کعبہ مسلمانوں کا قبلہ ہونے کے لحاظ سے حج کی ادائیگی کی جگہ ہے یا آل سعود کی جاگیر کہ جس کے بارے میں وہ جیسے چاہیں فیصلہ کریں۔