حج یا حکومت پر قبضے کی جنگ

Posted on September 26, 2015



حج یا حکومت پر قبضے کی جنگ
سانحہ منیٰ میں اب تک 1300 سے زائد عازمین حج شہید اور 2000 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔ جس کی وجہ سے دنیا بھر میں سعودی حکام پر شدید تنقیدیں ہورہی ہیں۔ سعودی حکام اور ذرائع ابلاغ اس حادثے کو حاجیوں کی غلطی قرار دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ مگر تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سانحہ منیٰ سمیت اس سال پیش آنے والے دیگر تمام حادثات کسی سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ ہیں۔
ان تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس سال حج کے دوران پیش آنے والے حادثات دو شہزادوں کے باہمی تناؤ کا نتیجہ ہیں تاکہ حج کے انتظامات کی دیکھ ریکھ کرنے والوں کی شبیہ کو نقصان پہنچایا جاسکے۔
چنانچہ اسی حوالے سے لبنانی روزنامہ الدیار نے لکھا کہ منیٰ کا قیامت خیز حادثہ پیش آنے کی وجہ، خود سعودی ولیعہد محمد بن سلمان ہیں کیونکہ انہیں کے حکم پر حاجیوں کے راستے کو بند رکھا گیا تھا۔
مذکورہ تحلیل اس لیے بھی صحیح معلوم ہوتی ہے کہ حج کے انتظامات محمد بن نائف کے ہاتھوں میں ہیں جو محمد بن سلمان کے رقیب مانے جاتے ہیں۔ اور بغیر کسی سیاسی مقصد کے محمد بن سلمان کی جانب سے منیٰ کے صدر دروازوں کو بند کرنے کا حکم دینا لایعنی سی بات لگتی ہے۔
ان دونوں شہزادوں کے درمیان تناؤ جیسی صورتحال کافی دنوں سے جاری ہے۔ کیونکہ 11 ستمبر کے حادثے کے بعد القاعدہ کے مقابل میں محمد بن نائف کو ملنے والی کامیابیوں کے نتیجے میں سعودی رائل فیملی اور مغربی حکام کے درمیان ان کا ایک خاص مرتبہ بن گیا تھا مگر اس سانحہ کے نتیجے میں ان کی بنی ہوئی ساری ساکھ بگڑ گئی۔
واضح رہے کہ سعودی نظام حکومت میں پہلی بار ایسا کھیل نہیں کھیلا گیا ہے بلکہ دو سال پہلے بھی جب ریاض میں وزارت داخلہ کی بلڈنگ کو آگ لگی تھی جس کے نتیجے میں دسیوں لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے تھے تو اس وقت بھی احمد بن عبد العزیز کو شاہ عبد اللہ نے فوری طور پر معزول کرتے ہوئے عرش سے فرش پر پہنچا دیا تھا۔
پھر کچھ عرصے بعد یہ راز کھلا کہ مذکورہ بلڈنگ میں آتش زدگی کا واقعہ ایک سازش کا نتیجہ تھا تاکہ احمد بن عبد العزیز کو ان کے عہدے سے معزول کردیا جائے اور نتیجہ میں شاہ عبد اللہ کی جانشینی کی فہرست سے ان کو خارج کرکے خود شاہ عبد اللہ کے بیٹے کے لیے موقع فراہم کیا جائے۔
اب یہاں پہ ایک سوال پپدا ہوتا ہے کہ اگر محمد بن سلمان کو محمد بن نائف کے خلاف کسی طرح کا ہتھکنڈہ استعمال کرنا ہی تھا تو حاجیوں کی جانیں کیوں لی گئیں کوئی اور طریقہ بھی اپنایا جاسکتا تھا؟ اس کے جواب میں اتنا ہی کافی ہے کہ فریضہ حج کا مسئلہ سعودی حکام کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے کیونکہ حج کے حوالے سے بدانتظامی دنیا بھر میں آل سعود کی ساکھ خراب کرسکتی ہے۔ اسی لیے سعودی حکام مغربی اشاروں کا انتظار کئے بغیر ہی فوری طور پر ایکشن لیتے ہیں جیسا کہ احمد بن عبد العزیز کے سلسلے میں بھی کیا گیا۔
اس مسئلہ کی اہمیت اور سنگینی کو دیکھتے ہوئے شاہ سلمان کے بیٹے نے نائف کے خلاف جال بچھایا تاکہ محمد بن نائف کے خلاف فوری کارروائی کی جائے اور انہیں حکومت سے معزول کردیا جائے۔