حج حادثات کا ذمہ دار کون ؟

Posted on September 26, 2015



حج حادثات کا ذمہ دار کون ؟
مکہ مکرمہ میں کرین گرنے اور منیٰ میں بھگدڑ مچنے کی وجہ سے اب تک تین ہزار سے زائد افراد زخمی اور جاں بحق ہوچکے ہیں۔ جس کی وجہ سے اس سال مکہ کی سرزمین تمام مسلمان عالم کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔
مکہ میں کرین حادثہ پیش آنے کے بعد سے ہی قیاس آرائیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ بعض لوگوں نے اسے ایک معمول کا حادثہ بتایا، بعض تجزیہ نگاروں نے اسے سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ قرار دیا۔
سانحہ منیٰ کے سلسلے میں بھی اسی طرح کی تحلیلیں سامنے آرہی ہیں، کوئی اسے قدرتی حادثہ بتا رہا ہے تو کوئی اسے سازش قرار دے رہا ہے۔ اس سلسلے میں سچ ٹائمز تمام تحلیلوں کو جمع کرکے قارئین کی خدمت پیش کررہا ہے تاکہ اس سال مکہ میں پیش آنے والے حوادث کے سلسلے میں قارئین کو فیصلہ کرنے میں آسانی ہو۔
پہلا حادثہ: کرین حادثہ
قدرتی حادثہ کہنے والے اپنی دلیلیں اس طرح بیان کرتے ہیں:
۔ کرین سے بجلی ٹکرائی تھی (العربیہ اور الجزیرہ نیوز چینلز نیز مسجد الحرام کے ترجمان)
۔ 65 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی تھیں جس کی وجہ سے کرین گرگئی (سعودی وزیر داخلہ)
۔ انجینئرس کی لاپرواہی کی وجہ سے احتیاطی تدابیر کا خیال نہیں رکھا گیا تھا (سعودی وزیر داخلہ)
دوسرا حادثہ: منیٰ میں بھگدڑ
سانحہ منیٰ کو معمول کا حادثہ بتانے والے اپنی دلیلیں اس طرح بیان کرتے ہیں:
۔ قضا و قدر الٰہی اور حاجیوں کی بدنظمی کی وجہ سے بھگدڑ مچی (سعودی وزیر صحت خالد عبد العزیز الفالح)
۔ ہدایات پر قافلہ سالاروں کا عمل نہ کرنا (الحدث سعودی ٹی وی چینل)
۔ شدید گرمی (سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان میجر جنرل منصور بن الترکی)
۔ سیاہ فام عازمین کی وجہ سے بھگدڑ مچی (سعودی حج کمیٹی کا مرکزی دفتر)
مگر مذکورہ بالا نظریات کے مخالفین حیرت انگیز انکشاف کرتے ہوئے کہتے ہیں دونوں حادثے، حادثہ نہیں تھے، بلکہ کسی سازش کا نتیجہ تھے۔ پہلے حادثے کے سلسلے میں وہ کچھ حیرت انگیز اور دلچسپ باتیں اس طرح پیش کرتے ہیں:
1) جب کرین گرنے کا حادثہ قدرتی آفت کا نتیجہ تھا تو فوٹوشاپ سے تصاویر کیوں بنائی گئیں؟
2) حادثے کے روز ہوا کی رفتار 22 کلو میٹر فی گھنٹہ تھی، تو سعودی حکومت نے کیوں اسے 65 کلو میٹر فی گھنٹہ بتایا؟
3) ہوا کا رخ کرین کے کھڑے ہونے کی جگہ سے مروہ کی طرف تھا یعنی شمال مغربی سمت میں، اس لیے کرین ہوا کے مخالف سمت میں نہیں گرسکتی۔
4) کرین کے گرنے کے انداز سے لگتا ہے کہ رسیوں سے باندھے جانے کی مخالف سمت میں گری تھی کہ جس کا مطلب یہ ہوا کہ کرین کی پیچوں کو کھولا گیا تھا اور اس کے سسٹم میں عمدی طور پر خردبرد کی گئی تھی۔
5) اگر کرین گرنے کا واقعہ قدرتی حادثہ تھا تو کوئی اور کرین کیوں نہیں گری؟
ان دلیلوں اور مقدمات کے بعد مذکورہ نظریات کے طرفداروں نے خاندان آل سعود میں اختلافات اور رسہ کشی کی بات کرتے ہوئے دونوں حادثوں کی دلیلیں اس طرح بیان کیں:
1۔ بعض میڈیا ذرائع نے خبر دی تھی کہ ایام حج کے بعد شاہ سلمان اپنے بیٹے کے حق میں حکومت سے دستبردار ہوجائیں گے۔ جب کہ امریکی ڈیومکریٹس (موجودہ حکومت) محمد بن نائف کے حامی ہیں۔
2۔ حرم مکی میں کرین حادثہ اور منیٰ میں بھگدڑ مچنا ایک سینریو تھا جسے شاہ سلمان نے اپنے بیٹے کے حق میں رچا تھا تاکہ اس طرح محمد بن نائف کو نااہل ثابت کرکے ایام حج کے بعد معزول کردیا جائے اور اس طرح محمد بن سلمان کا راستہ صاف ہوجائے۔
3۔ محمد بن نائف نے اس سازش پر روشنی ڈالتے ہوئے بعض میڈیا ذرائع کو بتایا کہ محمد بن سلمان اپنے قافلے کے ساتھ بغیر کسی پلاننگ اور اطلاع کے میدان منیٰ میں آگئے اس لیے حادثے کے وہی ذمہ دار ہیں۔
4۔ شاہ سلمان نے حج کے موقع پر ڈیوٹی دینے والے 28 افراد کو سانحہ منیٰ کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ان کے سر قلم کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس حکم سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ابھی سے محمد بن نائف کو قصوروار ٹھہرانے اور انہیں معزول کرنے کے لیے زمینہ فراہم کیا جارہا ہے۔