یمن: ایران نواز حوثیوں کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالی کے 5 ہزار واقعات

Posted on September 24, 2015



صنعاء ۔ مطر المطری – العریبیہ ڈاٹ نیٹ

#یمن میں ایرانی پالتو شیعہ حوثی دہشتگردوں اور منحرف سابق صدر علی عبداللہ_صالح کی وفادار ملیشیا کے ہاتھوں پچھلے چند ماہ کے دوران انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے پانچ ہزار واقعات رونما ہوچکے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق صنعاء میں قائم انسانی حقوق مرکز کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جب سے حوثیوں اور علی صالح کے وفاداروں نے یمن پر قبضہ کیا، اس وقت سے اب تک انسانی حقوق کی پانچ ہزار خلاف وزیاں کی گئی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حوثیوں اور علی صالح کے وفاداروں کے ہاتھوں نہتے شہریوں کے خلاف انسانی حقوق کی پامالی کے 4850 واقعات رجسٹرڈ کیے گئے ہیں۔ ان میں شہریوں کے قتل عمد کے 93 واقعات رونما ہوئے۔ مقتولین میں دو خواتین شامل ہیں۔ اسی عرصے میں دانستہ حملوں میں 1281 افراد کو زخمی کیا گیا۔

حوثیوں کی جانب سے پچھلے پانچ ماہ کے دوران یمن میں 1725 شہریوں کو اغواء کیا گیا۔ مغویوں میں سے چار کو دوران حراست وحشیانہ تشدد کر کے شہید کیا گیا۔ یرغمال بنائے گئے شہریوں میں سے بیشتر ابھی تک حوثیوں کے قبضے میں ہیں جن کی زندگیوں کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ یرغمالیوں میں یمنی حکومت کے وزراء، سیاسی اور عسکری قائدین، 14 صحافی اور عام شہری شامل ہیں۔ دوران حراست ایک درجن صحافیوں کو بھی اذیتوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

یمن میں حوثیوں کی جانب سے بغاوت ختم کرنے کی حمایت میں نکالی گئی ریلیوں پر بھی طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ پچھلے چند ماہ کے دوران حوثی باغیوں نے عوامی مظاہروں پر 203 بار حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

یمنی حوثی باغیوں کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالیوں میں شہریوں کے مکانات اور مساجد کو دھماکوں سے اڑانا بھی شامل ہے۔ باغیوں نے مجموعی طور پر 94 مکانات اور مساجد کو بم دھماکوں سے تباہ کیا۔ شمالی صنعاء کے ارحب ڈائریکٹوریٹ کی ایک پوری بستی “الجنادبہ” کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا۔ لوٹ مار کے 180 واقعات رونما ہوئے۔ حوثی شرپسندوں نے یمنی شہریوں کے 329 مکانات پر دھاوے بولے اور ان میں لوٹ مار کی۔ گھروں میں گھس کر 123 بار شہریوں سے نقدی اور زیورات چھینے گئے۔ حوثیوں نے منظم منصوبہ بندی کے تحت 49 فارم لوٹے، 48 گاڑیاں اور پانچ موٹرسائیکلیں چھین کر شہریوں کو کروڑوں کا نقصان پہنچایا۔

حوثیوں کی جانب سے یمن میں مخالف سیاسی جماعتوں بالخصوص یمنی سماج پارٹی برائے اصلاح کے دفاتر پر 34 بار حملے کیے اور ان میں لوٹ مار کی۔ کئی مراکز کو قبضہ میں لینے کے بعد انہیں اسلحہ کے گوداموں میں تبدیل کردیا۔ حوثیوں کی جانب سے دوران بغاوت 28 اشاعتی اداروں پر حملے کیے۔ حکومتی ٹی وی اور ایک نجی ٹی وی کے ہیڈ کواٹر بھی حوثیوں کی شرانگیزی کا نشانہ بنے۔ اس دوران 61 نیوز ویب سائیٹس کو بلاک کیا گیا