سید شمس الرحمن مشدی کے خلاف پروپیگینڈا ویڈیو پر کالم

Posted on September 23, 2015



داغ لگائیے یا پگڑی اچھالئے، یہ’’ دیوار‘‘ جاگیر آپ کی ہے
اویس حفیظ – ایکسپریس نیوز
چند دنوں سے ایک ویڈیو فیس بُک اور دیگر سوشل ویب سائٹس پر بہت گردش کر رہی ہے، یقیناً آپ سب نے بھی وہ ویڈیو دیکھی ہوگی، جس میں ایک مولوی صاحب (ہمارے ہاں ایک یہ بھی المیہ ہے کہ ہر داڑھی والے شخص کو پہلی نظر میں مولوی ہی سمجھا جاتا ہے، بھلے وہ سکھ ہی کیوں نہ نکلے) ایک ریستوران میں بیٹھے ہیں، ساتھ ان کا صاحبزادہ ہے اور ایک خاتون ہیں اور چوتھی کرسی پر ایک لڑکی جو حلیے سے ملازمہ محسوس ہوتی ہے، بیٹھی ہے اور اس کا رخ ان حضرات کے بالکل مخالف سمت میں ہے۔ ویڈیو کا کیپشن اور تفصیلات پہلے پہل یہی سامنے آئیں کہ یہ لڑکی ان حضرات کی ملازمہ ہے اور یہ اسے بھی ریستوران میں لے آئے مگر اس پر چونکہ کھانا کھانے کی پابندی تھی اس وجہ سے اسے پابند کیا گیا کہ وہ اپنا منہ دوسری طرف رکھے۔

اس کے ساتھ ہی ایک طوفاِن بد تمیزی برپا ہوگیا۔ کسی نے مولوی صاحب پر تیرِ تنقید برسائے اور کسی نے ان کا متشرع ہونا قابلِ جرم سمجھا۔ جس بھی پیچ سے یہ ویڈیو شیئر ہوئی، اگر اس کے نیچے کمنٹس کا جائزہ لیا جائے تو بندہ سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے کہ مولوی صاحب کے ساتھ ساتھ ان کے مسلک اور فکری گروہ کو بھی نہیں بخشا گیا۔ پھر کسی نے یہ خبر دی کہ ان حضرت کا نام ’’پیر سید شمس الرحمٰن شاہ مشہدی‘‘ ہے اور یہ’’خطیب اعظم سیال شریف‘‘ اور’’گدی نشین آستانہ عالیہ حسین آباد، سرگودھا‘‘ ہیں۔ اور پھر تو الامان الحفیظ! پیر صاحب کو نام لے کر مغلظات بکی جانے لگیں، سوشل میڈیا کے ’’جہادیوں اور مفتیوں‘‘ کی جانب سے کفر و قتل کے فتویٰ جاری ہونے لگے، لیکن اگرٹھنڈے دل و دماغ سے جائزہ لیا جائے تو بہت سے سوال جنم لیتے ہیں۔ سب سے پہلا سوال تو یہی ہے کہ کیا ہم اپنے ملازم کو اپنے پہلو میں بٹھا کر کھانا کھلاتے ہیں؟ کیا ہم اسے وہی کچھ کھلاتے ہیں جو ہم خود کھاتے ہیں؟ جس طرح کمنٹس میں احادیث و سیرتِ نبوی (ﷺ) کا حوالہ دیا جا رہا ہے کیا ہم خود بھی اس پر من وعن عمل کرتے ہیں یا صرف تبلیغ کا شوق بگھار رہے ہیں؟

پہلے تو ویڈیو کا ایک پارٹ ہی گردش کرتا رہا مگر پھر ویڈیو کا دوسرا حصہ بھی سامنے آیا جس میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ ’’پیرصاحب‘‘ بیٹھے کھانا کھا رہے ہیں اور کچھ دیر بعد ان کے پاس بیٹھی خاتون اٹھتی ہیں اور اس کے ساتھ ہی وہ لڑکی بھی اٹھ جاتی ہے، اور وہ دونوں وہاں سے چلے جاتی ہیں۔ یعنی یہاں پر یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ پیر صاحب اور ان کا بیٹا علیحدہ ہیں اور وہ خاتون اور اسکی ملازمہ علیحدہ ہیں۔ میں نہ تو اُن پیر صاحب کو جانتا ہوں، نہ ان سے کبھی ملا ہوں اور نہ ہی فکری و فروعی مسائل میں ان کا ہم خیال ہوں، مگر ویڈیو دیکھنے کے بعد یہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ پیر صاحب اپنے بیٹے کے ساتھ وہاں بیٹھے کھانا کھا رہے تھے، ایک خاتون اپنی ملازمہ کے ہمراہ وہاں آئی، کچھ دیر اس نے پیر صاحب سے بات چیت کی، اس دوران ملازمہ دوسری جانب رخ کیے بیٹھی رہی، کچھ دیر بعد وہ خاتون ملازمہ کے ہمراہ وہاں سے روانہ ہو گئی۔
ویڈیو چونکہ پیچھے سے بنائی گئی ہے لہٰذا اس میں یہ نہیں دیکھا جا سکتا کہ آیا وہ خاتون بھی کھانا کھا رہی تھی یا نہیں، لیکن غالب امکان یہی ہے کہ وہ خاتون کھانا نہیں کھا رہی تھیں۔ سب سے پہلے بات کرتے ہیں ویڈیو بنانے والے کی، کیا ہمارے معاشرے کی اخلاقی اقدار اس بات کی اجازت دیتی ہیں کہ اس طرح کسی کی ذاتی زندگی، ذاتی فعل کو اس کی اجازت کے بغیر کیمرے میں محفوظ کرکے دنیا تک پہنچایا جائے۔ کیا ہم خود یہ بات پسند کرتے ہیں کہ ہم اپنی فیملی کے ساتھ باہر کسی پارک، کسی ریستوران میں بیٹھے ہوں اور کوئی شخص ہماری ویڈیو بنا لے۔ اگر ہمارے ساتھ ایسا کچھ ہو تو بات مرنے مارنے تک پہنچ جاتی ہے، مگر لوگوں کے دامن پر داغ لگانے کو، ان کی پگڑیاں اچھالنے کو ہم نے اپنا وطیرہ بنا لیا ہے۔

اپنی فیس بک وال کو ہم نے کسی چوک و چوراہے کی دیوار بنا دیا ہے جس پر کوئی بھی کچھ بھی لکھ جاتا ہے۔ اس کے لئے پھر نہ تو کوئی ضابطہ و قانون موجود ہے اور نہ وال چاکنگ ایکٹ ہے، اس سوشل میڈیا کا تو کوئی ضابطہ، کوئی قاعدہ، کوئی اصول اور کوئی منشور ہی نہیں ہے۔ کوئی بھی شخص کچھ بھی پوسٹ کر دے کسی کو جوابدہ نہیں۔ کسی ہوٹل کی تصاویر کو حسین نواز کا محل بنا دیں، ابھی بھی صحافیوں سے متعلق وہ لسٹیں سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں جنہیں سپریم کورٹ پہلے ہی جعلی قراردے چکی ہے، لوگوں کی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے میانمار اور کشمیر، فلسطین، شام، عراق و افغانستان کی ایڈیٹ شدہ تصاویر شائع کی جاتی ہیں اور پورے مقصد کو بدنام کر دیا جاتا ہے۔

البتہ یہ بھی درست ہے کہ عرب ممالک میں بھی سوشل میڈیا کے کردار بہت مثبت تھا، مذہبی رہنماؤں کے اصل چہروں سے بڑے، بڑوں کی نجی محافل کا حال احوال اسی سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے آتا ہے۔ بیکری ملازم پر تشدد کے خلاف آواز بھی سوشل میڈیا نے ہی بلند کی تھی، شاہ زیب قتل کیس کے مجرموں کی گرفتاری میں بھی سوشل میڈیا کے کردار سے انکار ممکن نہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کے ہاتھ ایک میڈیم آیا ہے تو آپ کسی کی بھی پگڑی اچھالنے لگیں۔

اگر آپ کو علم نہیں تو ہم بتاتے چلیں کہ سائبر کرائم بل کی منظوری دی جا چکی ہے جس کے تحت ہیکنگ، غیر قانونی رسائی (کسی ای میل اکاؤنٹ کی ہیکنگ)، مداخلت، پرائیویسی کی خلاف ورزی، الیکٹرانک و ٹیلی کام انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانا اور گرے ٹریفک سمیت دیگر سرگرمیوں کو ایک باقاعدہ جرم قرار دیا گیا ہے۔ انٹرنیٹ اور ایس ایم ایس کے ذریعے جھوٹی خبریں، افواہیں اور غیر شائستہ پیغامات بھیجنے کا نتیجہ 14 سال قید کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ سوشل میڈیا ضرور استعمال کریں لیکن کچھ ذہنی پختگی و سنجیدگی کا بھی مظاہرہ کریں، یہ سوشل میڈیا جہاں رابطے سمیٹتا اور محبتیں عام کرتا ہے وہیں ہم سے اس بات کا بھی متقاضی ہے کہ اسے نفرتوں کو ہوا دینے کیلئے استعمال نہ کیا جائے۔ لہٰذا اسے نفرت انگیزیا اشتعال انگیز مواد پھیلانے کیلئے استعمال کرنے سے گریز کریں۔
http://www.express.pk/story/393455/