جسن ابدال اور”بابا ولی قندھاری” تاریخ کے ائینے میں۔۔۔ملک ریاست

Posted on September 22, 2015



جسن ابدال اور”بابا ولی قندھاری” تاریخ کے ائینے میں۔۔۔ملک ریاست
حسن ابدال کے جنت نظیر خطے کو پھولوں، پھلوں، قدرتی چشموںاور امن و محبت کے آفاقی درس دینے والے صوفیوں، سادھوئوں اور بھگتوں کی سرزمین سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہ ضلع اٹک کی ایک پر فضا سیر گاہ ہے۔ شمالی علاقہ جات سے آنے والی قدیم شاہراہِ ریشم، لاہور سے پشاور جانے والی جرنیلی سڑک کو حسن ابدال کے مقام پر ہی آن ملاتی ہے۔

حسن ابدال کا شہر قدیم زمانے سے ہی بین الاقوامی شاہراہوں کے اتصال پر واقع ہونے کی وجہ سے عروس البلاد کی شکل اختیار کر چکا تھا۔ تقریبا چنگیز خان اور مسلم مغلوں حکمرانوں سمیت بڑے بڑے نامور جنگی لیڈر یہاں سے گزر کر گئے ہیں اور انھوں نے جسن ابدال کو اپنی مسکن بنائے رکھا۔۔ اسی رجہ سے کاروباری سرگرمیاں بھی نقطہ عروج پررہی۔۔ کیونکہ اطراف کے قصبوں اور بیرونی ممالک سے آنے والے قافلے یہاں ٹھہرتے اور درآمدو برآمد کیا جانے والا تمام مال مقامی منڈی سے ہو کر گزرتا۔۔۔ شاید یہی وجہ تھی کہ گردشِ ایام ہررنگ و نسل کے لوگوں کو کھینچ کر یہاں لے آئی۔ آج اس پر امن شہر کی آبادی مختلف الجہتی قوموں، نسلوں اورمذاہب کے رنگا رنگ خوشنما گلدستے کا نمونہ پیش کرتی ہے۔

“حسن ابدال” کی وجہ شہرت بابا ولی قندھاری ہیں۔ ان کا اصل نام “حسن” جبکہ” ابدال لقب تھا۔ وہ مرزا شاہ رخ ابن تیمور کے ہمراہ تقریباً 1408ء میں قندھار، افغانستان سے تشریف لائے تھے۔ اس شہر کی تاریخی اور سیاسی حیثیت کے پیش نظر انہوں نے یہیں رشد و ہدایت کا سلسلہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنے قیام کے لیے قریبی پہاڑی چوٹی کا انتخاب کیا۔ آپ کے حسنِ اخلاق نے ایک جہاں کو آپ کا گرویدہ بنا دیا۔ لوگ دور دور سے آ کر کسبِ فیض کرتے اور علم و حکمت کے گراں بہا موتی سمیٹتے۔ باباجی سے عقیدت و احترام کا یہ عالم تھا کہ جب وہ حق و صداقت کی شمع روشن کرنے کے بعد واپس قندھار تشریف لے گئے تو یہ مقام ان کے نام کی مناسبت سے حسن ابدال مشہور ہو گیا۔ آپ کا وصال پُرملال قندھار میں ہی ہوا جہاں آج بھی آپ کا مزار مرجع خاص و عام ہے

حسن ابدال کو سکھ مذہب کے” بانی بابا گورونانک” نے بھی اپنی آمد سے رونق بخشی۔ روایت ہے کہ انھوں نے پہاڑی پر بیٹھے بابا ولی قندھاری سے پانی طلب کیا اور پس و پیش کرنے پر چوٹی پر واقع پانی کا چشمہ سوکھ گیا۔ بعد ازاں یہی چشمہ پہاڑی کے دامن سے بہہ نکلا۔ بابا قندھاری نے طیش میں آ کر ایک وزنی چٹان نیچے لڑھکا دی جسے بابا گورونانک نے روکنے کی کوشش کی اور ان کے ہاتھ کا نشان اسی پتھر پر ثبت ہو گیا۔ یہ وزنی پتھر آج بھی گور دوارہ کے صحن میں موجود ہے۔
کچھ لوگوں کے نزدیک بابا گرونانک نے اس پھتر کو روکا حالنکہ ایسی کوئی بات ثابت نہیں۔۔۔صرف انھوں نے روکنے کی کوشش کی جس سے ان کا ہاتھ مسل گیا تھا۔۔۔ تاریخ کے بغور مطالعہ بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں اس واقعے میں سچی بھی 100 فیصد نہیں لگتی۔۔
پہاڑی کی یہی چوٹی کبھی “بابا ولی قندھاری” کی اقامت گاہ رہی تھی۔ اب یہاں آس پاس بکریاں، مور، بطخیں، مرغیاں اور کبوتروں کے غول کے غول منڈلاتے نظر آتے ہیں۔ یہ چرند پرند زائرین سے بھی خاصے مانوس ہیں اور ان کی آمد سے بے نیاز اپنے آپ میں مگن رہتے ہیں۔ منتوں اور مرادوں کے ضمن میں عقیدت مند پانی سے بھرے گھڑے اٹھا کر پہاڑی پر لاتے ہیں۔ بجلی کے آ جانے سے برقی روشنیوں اور رنگ برنگے قمقموں نے بھی رونق دوبالا کر دی ہے۔ خدام الفقراء کی جانب سے لنگر و نیاز کا باقاعدہ انتظام ہوتا ہے۔ گاہے گاہے قوالیاں بھی سننے کو ملتی ہیں۔
حال ہی میں حکومتی اداروں کے تعاون سے لوہے کی پائپ لائن بچھا کر پانی کو پہاڑی کے اوپر پہنچا دیا گیا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ کئی صدیاں گزرنے کے بعد بابا حسن ابدال اور باباگرونانک کے مرید اور چیلے بالآخر دونوں صوفیوں کے درمیان صلح کرانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ کیونکہ وہ چشمے جو کبھی باہمی نزاع کی وجہ سے سوکھ گئے تھے اب امن اور محبت کی فضا میں دوبارہ جاری ہو گئے ہیں۔ یقینا یہ ساری رونقیں اور خوشیاں ویرانے میں چپکے سے بہار آ جانے کی نوید ہیں۔