افغان انڈیا گٹھ جوڑ

Posted on September 22, 2015



جب تک افغانستان اور انڈیا کا گٹھ جوڑ نہ توڑا جائے تب تک پاکستان سے دہشت گردی ختم نہیں ہو سکتی ۔ اس معاملے میں یہ دونوں ہم پر بلکل ” رحم ” نہیں کرینگے !

بات چیت ( منت ترلے ) ، بین الاقوامی دباؤ اور امن کی آشا وغیرہ جیسی چیزیں یہاں قطعاً بے معنی ہیں ۔ اسکا ہم ہزاروں دفعہ تجربہ کر چکے ۔ ہمارے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں کہ ان کو ” مجبور” کیا جائے کہ ہمیں تنگ نہ کریں ۔

اسکا کامیاب تجربہ افغانستان کے معاملے میں بھٹو نے کیا تھا جب افغانستان نے پاکستان میں بغاوتوں کو ہواد ینی شروع کی ( بلوچستان میں مری قبائل اور کے پی کے میں باچا خان کی ذریت) تو بھٹو نے جواباً وہی کچھ افغانستان میں کیا ( گل بدین اور احمد شاہ مسعود وغیرہ کی تیاری) جس کے بعد افغانستان نے فوری طور پر پاکستان میں گڑبڑ کرنی بند کر دی تھی ۔

انڈیا کے معاملے میں یہ تجربہ جنرل ضیاءالحق نے کیا تھا۔ انڈیا نے بنگلہ دیش میں بغاوت برپا کروائی اور 3 لاکھ مکتی باہنی تیار کر کے اس کو پاک فوج سے لڑوا کر بنگلہ دیش کو پاکستان سے الگ کر دیا۔ جواباً جنرل ضیاء نے سکھوں اور کشمیری مجاہدین کے ہاتھوں انڈیا کو بلکل بے بس کر دیا تھا اور اسکی چیخیں پوری دنیا میں سنی جا رہی تھیں۔

ہمارے پاس آپشن محدود ہیں ۔ پاکستان کو لازمً انڈیا میں موجود 100 سے زائد آزادی کی تحریکوں اور کمشیر پر توجہ دینا ہوگی ۔ انڈیا میں ہزاروں کسان خود کشیاں کر دہے ہیں، لاکھوں لوگ اپنے گردے بیچ رہے ہیں ۔ موجودہ انڈین فیڈریشن سے نجات میں ان سب کی زندگی ہے ۔ انڈین ریاستیں تاریخ میں کبھی بھی اکھٹی نہیں رہیں ۔ ان کو دوبارہ انکی فطری شکل میں لایا جانا ضروری ہے ۔

افغانستان کا معاملہ زیادہ خطرناک ہے کیونکہ مرکز وہی ہے اور انڈیا بھی افغانستان کو ہی استعمال کرتا ہے۔

افغانستان کے ساتھ پاکستانی بارڈر کو بارودی سرنگوں کی نہایت چوڑی پٹی کی ساتھ سیل کرنا ضروری ہے ۔ کیونکہ اسکی مکمل نگرانی ممکن نہیں ۔ اس سلسلے میں افغان حکومت کے کسی احتجاج کو خاطر میں لانے کی ضرورت نہیں ۔

اگر انڈیا ہزاروں میل دور جاکر داعش کی فنڈنگ کر کے ان کو افغانستان میں لانچ کر سکتا ہے تاکہ افغان مجاہدین کو ہائی جیک کیا جا سکے تو پاکستان کو بھی پاکستان دوست مجاہدین کو بچانے اور انکو طاقت دینے کے لیے نہایت جارحانہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی ۔

نیز افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے معاملے میں افغان حکومت پر بھروسہ کرنے کے بجائے پاکستان کو افغانستان کے اندر ہی دہشت گردوں کو نشانہ بنانا شروع کر دینا چاہئے ۔

پاکستان میں موجود افغانیوں کو کفیل ( ذمہ وار) فراہم کرنے کا پابند بنایا جائے بلکل سعودی عرب کی طرح اور ملک کے بڑے اور اہم شہروں میں انکی نقل و حرکت کو محدود کیا جائے ۔

پاک فوج نے بے پناہ قربانیاں دے کر وطن عزیز سے دہشت گردوں کے مراکز ختم کر دیئے لیکن دہشت گردی مکمل طور پر تب تک ختم نہیں ہو سکتی جب تک افغانستان اور انڈیا کا پاکستان دشمن گٹھ جوڑ قائم ہے ۔ یہ گٹھ جوڑ صرف طاقت سے توڑا جا سکتا ہے بات چیت سے نہیں ۔

تحریر شاہدخان