اسامہ کی دستاویزات میں ایران، القاعدہ تعلقات کا انکشاف

Posted on September 22, 2015



العربیہ ڈاٹ نیٹ
القاعدہ اور ایران کے باہمی فکری اور نظریاتی اختلافات کے باوجود دونوں کے درمیان ماضی میں خفیہ تعلقات کی خبریں مغربی ذرائع ابلاغ میں آتی رہی ہیں۔ حال ہی میں اسامہ بن لادن کی دستاویزات کے حوالے سے یہ انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ القاعدہ اور ایران کے درمیان تعلقات محض قیدیوں کے تبادلے تک نہیں رہا بلکہ کئی دوسرے میدانوں میں بھی تہران اور القاعدہ ایک دوسرے کے قریب رہے ہیں۔

اسامہ بن لادن کی تازہ دستاویزات موقر عربی اخبار “الشرق الاوسط” نے شائع کی ہیں۔ یہ دستاویزات سنہ 2011ء میں پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں اسامہ کے خلاف کیے گئے امریکی میرینز کے خفیہ آپریشن کے دوران ان کے ہاتھ لگی تھیں۔

ان دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ القاعدہ اور ایران کے درمیان تعلقات 90 کی دہائی سے جاری ہے۔ دوطرفہ تعاون کے تحت ایران نے القاعدہ کو اپنے ہاں خفیہ نقل وحرکت کی اجازت فراہم کی تھی۔ اسی کو آگے بڑھاتے ہوئے سنہ 2006ء میں القاعدہ کے تہران میں دفتر کھولنے کی تجویز بھی سامنے آئی مگر دفتر کھولنے کے اخراجات بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے اس تجویز پر عمل درآمد نہیں ہو سکا ۔

اسامہ بن لادن کے کمپائونڈ سے ملنے والی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اور القاعدہ کے تعلقات اس دور میں بھی قائم تھے جب اسامہ بن لادن سوڈان میں پناہ گزین تھے۔

انسداد دہشت گردی کے امریکی تجزیہ نگار پال کریشنک کا کہنا ہے کہ امریکی وزرا خزانہ نے ایران میں موجودہ القاعدہ کے چھ لیڈروں کے اثاثے منجمد کیے تویہ ثابت ہوا کہ القاعدہ کو فنڈنگ فراہم کرنے میں افغانستان اور پاکستان کے بعد ایران کا بھی اہم کردار تھا۔

دستاویزات میں بتایا گیاہے کہ ایران سے قربت کی کوششوں کے باوجود اسامہ بن لادن ذاتی طورپر ایران کے معاملے میں بہت محتاط رہے۔ انہوں نے اپنے پیروکاروں کو بھی ایران کے کردار کے حوالے سے متنبہ رہنے کی ہدایت کی تھی۔ اسامہ بن لادن نے اپنی اہلیہ کو لکھے گئے مکتوب میں خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ایران اس کے تہران سے نکلنے کے بعد ہمارے خاندان کی جاسوسی کر رہا ہے۔