تاجی کھوکر۔

Posted on September 21, 2015



تاجی کھوکر۔۔۔۔۔۔۔ ملک ریاست
کچھ لوگ طاقت اور دولت کے نشے میں اس قدر اندھے ہو جاتے ہیں کہ ان میں اچھے برے کی تمیز ختم ہو جاتی ہے۔۔۔ ان کے ہاں انسانی جان کی قمیت ایک پلاٹ سے زیادہ نہیں رہتی۔۔۔ غریبوں اور بیواّوں کے حقوق چھین کر وہ خود کو بڑا ڈان سمجھنے لگتے ہیں۔۔۔ ان کے لیے بندہ مارنے مچھر مارنے کے بھر برابر نہیں ۔۔ جب چاہیتے ہیں جہاں چاہتے ہیں ۔۔ بیٹوں کو بتیم اور ماوں کو بے سہار کر دیتے ہیں۔۔۔
لیکن طاقت ور چاہیے جتنے بھی طاقت ور ہو جائے۔۔۔اللہ کی ذات سے زیادہ طاقت ور نہیں ہو سکتا اس کی لاٹھی بے آواز ہے۔۔۔ جب وہ پکڑنے پے آتا ہے تو پھر نہ کوئی حکومت اسے بچا پالیتی ہے اور نہ اس کی دولت اور نہ اس کے چاپلوس درباری۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جی ہاں بات کر رہا ہوں پنڈی کے بدنام زمانہ ڈاکو اور قبضہ گروپ کے سرغنہ امتیاز علی عرف” تاجی کھوکر” کی ،
تاجی کھوکر ان دنون اڈیالہ جیل میں صابرہ بی بی قتل کیس میں قید وبند کی صعوبتیں برداش کر رہے ہیں ۔۔ جن کوایک پلاٹ کی خاطر اس نے عید کی نماز کے وقت قتل کیا تھا۔۔
اب جب وہ جیل میں ہیں تو ڈیرے کی رونقیں بھی مدھم ہو چکی ہیں۔۔۔ مقامی لوگ انتہائی خوش ہیں۔۔۔ ان کی خوشی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ چند روز قبل میرا اس طرف جانا ہوا تو راتوں کو بھی گھروں کی تعمیر دیکھی تو دھنگ رہ گیا۔۔ اصرار پر ایک رشتہ دار خاتون نے بتایا” کہ اب ہم اس لیے جلدی کر رہے ہیں کہ اگر “تاجی” جیل سے آ گیا تو یہ کام بند ہو جائے گا۔۔ اس لیے ہماری کوشش ہے کہ کسی طرح جلد از جلد چھت ڈال دی جائے”
تاجی کھوکر جیسے لوگوں کو عزت اور طاقت ور خود ہمارے سیاستدان اور چند ٹکے کے چاپلوس لوگ لوگ بناتے ہیں ۔۔۔ جہنیں ہیرو بننے کا شوق ہوتا ہے وہ ان ظالموں کے اگے پیچھے کتوں کی طرح دم ہلاتے پھرتے ہیں۔۔ اور” خان صاحب” “ملک صاحب” کہتے نہیں تھکتے۔۔۔
ان کے ہاں یہ پیسا اور لوگوں کی ریل پیل دیکھ کر پولیس بھی ان پر ہاتھ ڈالنے کی جسارت نہیں کرتی ۔۔۔ اور بعض جگہ جرائم میں ان کے ساتھ شامل حال بھی ہوتی ہے۔۔۔
یاد رہے کہ “تاجی کھوکر” کو جانور پالنے کا بے حد شوق ہے اس لیے اس نے دینا بھر سے اعلی اور نایاب نسل کے جانور اپنے پاس پال رکھے ہیں۔۔علاوہ ازیں یہ کبھی سیاست میں نہیں آیا لیکن ملک کے بڑے بڑے سیاتسدان ضرور اس کے پاس جاچکے ہیں۔۔۔ “بینظیر بھٹو” جب وزیراعثظم بنی تو اس کا اعلان کھوکر ہاوس سے ہوا ۔۔۔ موجودہ وزیراعظم” میاں نواز شریف” جب پہلی بات مسلم لیگ کے صدر بنے تو بھی اس کا فیصلہ” کھوکر ہاوس” سے ہوا تھا
یہ سیاستدانوں اور “ریاست” کی کمزوری ہے وہ ایسے کرمنل افراد کو اہمیت دے کے مزید طاقت ور اور” ریاست” کے اندر اپنی دیڑھ انچ کی “ریاست” بنانے کا موقع فراہم کرتے ہیں ۔۔۔۔
ہم سلام پیش کرتے ہیں رینجرزاور پولیس کو جہنوں نے خوف کے بت کو توڑ کر کل وہاں چھاپہ مارا کر بھاری مقدار اسلحہ بارود کو قبضے میں لیا ہے۔۔۔
یہ کہانی اکیلے تاجی کھوکر کی نہیں ہر شہر میں ایسے افراد موجود ہوتے ہیں۔۔۔ جن کی حکومت بھی مرہون منت بنتی ہیں سب کے خلاف کاروائی ہونی چاہیے اور ان کو دوبارہ طاقت ور ہونے سے روکنا چاہیے۔۔۔ شکریہ