شیخ الازہر: ایرانی اہل سنت کو مکمل حقوق دیے جائیں

Posted on September 17, 2015 Articles



عالم اسلام کے اہم ترین دینی ادارہ جامعۃ الازہر کے شیخ اعظم ڈاکٹر احمد الطیب نے ایرانی وزیرخارجہ سے ملاقات کے دوران ایرانی اہل سنت کی دینی و تعلیمی آزادی کا مطالبہ کیا ہے۔

قاہرہ سے ملنے والی رپورٹس کے مطابق شیخ احمد الطیب نے جمعرات دس جنوری کی میٹنگ میں ایرانی وزیرخارجہ علی اکبر صالحی سے کہا ہے: میں اللہ اور اس کے بندوں کے سامنے جوابدہ ہوں، دنیا کے کونے کونے سے مظلوم مسلمانوں کی خبریں مجھے ملتی ہیں، ایران میں رہنے والے ہمارے سنی بھائیوں کی خبریں اور رپورٹس مجھے مسلسل موصول ہوتی رہتی ہیں۔ وہ سخت مشکلات سے دوچار ہیں، انہیں مکمل حقوق ملنے چاہییں۔

انہوں نے مزیدکہا: اہل سنت کو ان کی مخصوص فقہ اور ثقافتی آداب کے مطابق رہنے کی اجازت ہونی چاہیے جیسا کہ اسلامی شریعت اور عالمی قوانین سے بھی یہی بات معلوم ہوتی ہے۔

مسٹر صالحی کو مخاطب کرکے الازہر کے شیخ نے کہا: ایرانی حکام کو میرا پیغام پہنچائیں کہ برادر ملک بحرین کے امور میں کسی کو مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

انہوں نے چوٹی کے شیعہ علماء و مراجع سے مطالبہ کیا واضح الفاظ میں صحابہ کرام خاص کر حضرت ام المؤمنین عایشہ صدیقہ اور خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنہم کی شان میں گستاخی کو حرام قرار دیدیں۔ صحابہ کرام کی شان میں گستاخی سے فرقہ واریت کو فروغ ملتی ہے جو مسلمانوں کیلیے خطرناک ہے۔

‘دو سالوں سے میں مسلسل شیعہ علماء سے مطالبہ کرتا رہتاہوں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شان میں گستاخی کو حرام قرار دیدیں، لیکن اب تک کوئی مفید جواب موصول نہیں ہواہے،‘ شیخ الطیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی وزیرخارجہ نے کہا کہ شیخ الازہر سے مل کر مجھے خوشی ہوئی، ان کے نصائح کو میں نے نوٹ کیاہے۔

صالحی نے مسلمانوں کے اتحاد و بھائی چارہ پر زور دیا۔

یاد رہے ایرانی اہل سنت کے سرکردہ علمائے کرام اور رہنما امتیازی سلوک کا شکوہ کرتے رہتے ہیں۔ مہتمم دارالعلوم زاہدان مولانا عبدالحمید نے کئی مرتبہ ایرانی حکام سے مطالبہ کیا ہے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کریں اور سرکاری و غیرسرکاری میڈیا میں اہل سنت کی مقدسات کی توہین و گستاخی کا سلسلہ بند کیاجائے۔

تہران و اصفہان سمیت متعدد بڑے شہروں میں سنی باشندوں کو مسجد یا مدرسہ تعمیر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ تین سالوں سے تہران میں کرایے پر لیے گئے مکانات میں عیدین کی نماز قائم کرنے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔

قاہرہ