ایران کی سنی اورسعودی کی شیعہ برادریاں؛ ایک تقابل

Posted on September 15, 2015



نوٹ: ایک عرصے سے بعض ملکی ذرائع ابلاغ میں ایرانی اہل سنت اور سعودی عرب کی شیعہ برادری کے حالات کے تقابل پر مبنی مضامین شائع ہوتے چلے آرہے ہیں۔ ان مضامین میں دعوی کیا جاتا ہے کہ اہل سنت ایران کو سعودی شیعہ کمیونٹی کی بہ نسبت بہت زیادہ شہری حقوق اور آزادی حاصل ہے۔ درج ذیل مضمون میں دونوں برادریوں کے حالات کا مختصر موازنہ پیش کیا جارہا ہے۔ قارئین پڑھ کو خود فیصلہ کریں۔

’’جمہوریہ‘‘ اور ’’شاہی‘‘ یا بادشاہت دنیا میں دو معروف نظام ہائے حکومت کی اصلاحات ہیں جو اب بھی پائے جاتے ہیں۔ جمہوریت کی تعریف یوں کی جاتی ہے کہ ملک چلانے کا کام ایسے سربراہ کرتے ہیں جنہیں عوام ووٹ دیکر انتخاب کرتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں جمہوری ملکوں میں اکثریت کی رائے معیار ہے۔ تمام لوگ، رنگ و نسل اور مذہب وزبان کے اختلاف سے قطع نظر حق رائے دہی استعمال کرکے حکومت کی پالیسیوں اور ادارے میں شریک ہوتے ہیں اور اپنا اثر ڈالتے ہیں۔
جب ’’جمہوریہ‘‘ کے ساتھ ’’اسلامی‘‘ کا سابقہ بھی ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اکثریت کی بات ماننے والی حکومت کی بنیاد دین اسلام پر ہے۔ قوانین اور آئین کا سرچشمہ اسلام ہے، یادرہے اسلامی قوانین اور فقہ میں مذہبی اقلیتوں کے شہری و مذہبی حقوق پر بہت تاکید آئی ہے، ان کیساتھ ظلم و ناانصافی سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔
دوسرا نظام حکومت ’’بادشاہت اور موروثی‘‘ ہے، اس سسٹم میں ملک کی بھاگ دوڑ ایک خاندان کے قبضے میں ہوا کرتی ہے۔ کلیدی عہدے شاہی خاندان کے افراد کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کا نظام سابق بادشاہی سسٹم کیخلاف عوامی احتجاجوں کے نتیجے میں کامیاب ہوا اور شروع ہی سے اس کا نعرہ ’’اسلامی جمہوریہ‘‘ تھا۔ عوام نے اسی نعرے کی بنیاد پر انقلاب کا ساتھ دیا اور شیعہ و سنی برادریوں کی قربانیوں کے نتیجے میں ۱۹۷۹ء کا عوامی انقلاب کامیاب ہوا۔
دوسری جانب سعودی عرب میں نظام حکومت بادشاہی ہے، یعنی حکومت ایک خاندان کے قبضے میں ہے اور اکثریت کی رائے پر پالیسیاں بنائی جاتی ہیں نہ ہی اہم فیصلے ہوتے ہیں۔
مختصر یہ کہ ملوکیت و بادشاہت یعنی ایک خاندان کی حکومت اور جمہوریت یعنی عوام کی حکومت؛ بادشاہی نظام میں ’’سلیکشن‘‘ سے کلیدی عہدے دیے جاتے ہیں جبکہ جمہوری نظام میں ’’الیکشن‘‘ کے ذریعے عہدوں کی تقسیم کا کام عمل میں لایا جاتا ہے۔
اوپر کی دی گئی تفصیل کے بعد یہ انتہائی عجیب بات ہوگی کہ ’’اسلامی جمہوریہ ایران‘‘ کا موازنہ ’’کنگڈم آف سعودی عربیہ‘‘ سے کیا جائے۔ اس سے زیادہ حیرتناک بات ایران کی سنی برادری کے حالات سعودی شیعوں کے حالات سے موازنہ کرنا ہے۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ بادشاہی سعودی جس کی حکومت خاندانی نظام پر قائم ہے میں صرف بڑے اور کلیدی عہدوں پر شاہ عبدالعزیز کے خاندان قابض ہے، لیکن نچلے درجے کے مناصب کی تقسیم میں صرف شہریت و وطنیت کو دیکھا جاتا ہے مسلک کو نہیں۔ کسی بھی فارم میں مسلک کا خانہ شامل نہیں ہے، چنانچہ سعودی شیعی اپنے سنی ہم وطنوں کے ساتھ مختلف محکموں میں کام کرتے ہیں اور ایک اچھی پوزیشن کی حامل ہیں۔ مسلح و سکیورٹی اداروں میں شیعہ شہریوں کو شامل کیا جاتا ہے یہاں تک کہ کچھ عرصے قبل تک مدینہ منورہ جیسے اہم شہر کا پولیس چیف ایک شیعہ شہری تھا، سعودی عرب کی سفیر تہران میں اور مشہد شہر میں جنرل قونصلیٹ سعودی کے شیعہ شہریوں سے تھے۔ سعودی عرب کے ’’انتصابی ایوان‘‘ یا مشاورتی مجلس کے ۱۵۰ ارکان میں سے ۵ ممبران شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔
سعودی عرب کے برعکس ایران میں روزگار کی تلاش کرنے والے افراد سے ہر قدم پر مسلک و مذہب سے پوچھا جاتا ہے، اہم عہدے تو ایرانی سنیوں کے لیے شجرہ ممنوعہ ہیں چھوٹے پوسٹوں کی تقسیم کی وقت بھی سنی برادری کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ حالانکہ موجودہ نظام حکومت خود کو ’’جمہوری‘‘ قرار دیتا ہے۔
ایران میں اہل سنت والجماعت ملک کی دوسری بڑی اکثریت کا مسلک ہے، اس برادری نے موجودہ نظام حکومت کی کامیابی میں بڑا اہم کردار ادا کیا اور انقلاب کے بعد اس کی حمایت بھی جاری رکھی، اس کا ثبوت حکومتی عہدیداروں کا سنی علاقوں کے دورے پر گرم استقبال ہے۔ اگر سعودی شیعہ اپنے حکام کی اتنی گرمجوشی سے استقبال کرتے بلاشبہ سعوی حکام انہیں اپنے سر کا تاج بنادیتے ۔ اس کے باوجود ایرانی حکام اپنے سنی شہریوں کو صرف مسلکی اختلاف کی وجہ سے نظر انداز کرتے چلے آرہے ہیں۔ آج تک ’’اسلامی جمہوریہ ایران‘‘ کی پوری تاریخ میں کوئی سنی شہری سفیر یا سفارتکار، وزیر یا نائب وزیر، نائب صدر یا گورنر مقرر نہیں ہواہے۔ مسلح اداروں میں سنی شہری عام سپاہی کی حد تک موجود ہیں اس سے زیادہ نہیں۔
مثال کے طور پر صوبہ سیستان و بلوچستان میں جس کی آبادی کی اکثریت سنی مسلمانوں کی ہے، ایک سو کلیدی مناصب سے صرف پانچ پوسٹس سنیوں کے پاس ہیں، صوبائی سکیورٹی کو نسل (شورائے تامین) میں ایک سنی ممبر بھی نہیں ہے۔ صوبائی داخلہ کونسل کے ۱۷۰ ارکان سے صرف ۱۳ افراد سنی شہری ہیں۔ نئی اسامیاں دیتے وقت، عدالتی کیسز حتی کہ اسپتالوں کے فارمز پر مسلک کا خانہ درج ہے اور شیعہ و سنی کا امتیاز مدنظر ہوتا ہے۔ ایرانی اہل سنت کا ایک فرد بھی ’’شورائے نگہبان‘‘ یا ’’مجمع تشخیص مصلحت نظام‘‘ جیسے سپریم اداروں میں منصوب نہیں ہوتا ہے۔
یہ بات تھی پوسٹوں اور عہدوں کی تقسیم میں امتیازی سلوک کی، اسی طرح مذہبی امور میں ایران کی دوسری بڑی اکثریت کو متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے؛ قانونی آزادیوں پر پابندی، مذہبی و تعلیمی امور میں مداخلت، تہران میں دس لاکھ سے زائد سنی مسلمانوں کو ایک مسجد بھی تعمیر نہ کرنے دینا، ملک کے بڑے شہروں میں جمعہ و عیدین کے قیام پر پابندی، متعدد شہروں اور علاقوں میں باجماعت نماز کے قیام پر قدغن، جہاں سنیوں کی قابل ذکر تعداد آباد ہے وہاں مسجد تعمیر کرنے کی اجازت نہ دینا و غیرہ ایسے مسائل ہیں جن کی وجہ سے ایران کی سنی برادری میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
دوسری جانب سعودی دارالحکومت ریاض میں شیعہ برادری کی جامع مسجد ہے اور وہاں جمعہ پڑھا جاتا ہے۔ جن شہروں میں شیعہ آباد ہیں وہاں ان کی مسجدیں اور امام بارگاہیں بھی ہیں۔ مدینہ منورہ میں شیعہ امام بارگاہ (حسینیہ) موجود ہے جسے سابق ایرانی صدر رفسنجانی نے چند سال قبل اپنے دورے کے موقع پر افتتاح کیا تھا۔
ایک اور مسئلہ جو ایرانی اہل سنت کے حالات کے تقابل کو سعودی شیعوں کے حالات سے غیر متوازن بناتا ہے ایرانی سنیوں کی معاشی صورتحال ہے۔ ایران کے سنی شہری اکثر سرحدی علاقوں میں آباد ہیں اور ان کا شمار ملک کے سب سے کمزور و غریب طبقوں میں ہوتا ہے۔ حالانکہ سعودی عرب میں شیعہ برادری معاشی طور پر مضبوط ہیں، ان کی ملکیت میں بڑی بڑی تجارتی کمپنیاں ہیں اور اس حوالے سے انہیں امتیازی سلوک کا سامنا نہیں ہے۔
مختصر یہ کہ اگر تعصب کا چشمہ اتار کر حقیقت پسندی کا مظاہرہ کیا جائے تو بادشاہی سعودی میں رہنے والے شیعوں کی پوزیشن ’’جمہوری‘‘ ایران کے سنی شہریوں سے بدر جہا بہتر ہے۔
اگر ایرانی سنیوں کے حالات کا تقابل کرنا ہے تو کسی جمہوری ملک کی شیعہ اقلیت سے موازنہ کرنا چاہیے نہ ایک مختلف نظام حکومت کی اقلیتوں سے۔ مثلاً افغانستان اور پاکستان میں حکومتوں کی بنیاد جمہوری ہے۔ ایک سرسری جائزے سے معلوم ہوتا ہے افغانستان کی شیعہ اقلیت نائب صدر، گورنر اور وزیر جیسے کلیدی عہدوں پر فائز ہے۔ اسی طرح پاکستان میں صدر مملکت کا تعلق شیعہ مسلک سے ہے اور شیعوں کے پاس بہت سارے اہم عہدے ہیں۔ ان دو ملکوں میں شیعہ برادریوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے، یہاں تک کہ اسلام آباد و کابل میں متعدد شیعہ مساجد و عبادتگاہیں نظر آتی ہیں۔
یہ بات ایرانی حکام اور ان کے حامیوں کے ذہن میں رہے کہ سعودی و ایران کے حالات کے تقابل کی کوئی ضرورت نہیں، ایرانی اہل سنت کی توقع یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران عدل و انصاف کی فراہمی اور مختلف مسالک و اقوام کے درمیان برابری قائم کرنے کے حوالے سے دیگر ممالک کے لیے آئیڈیل بن کر رول ماڈل کا کردار ادا کرے۔