Me and my Story

Posted on September 13, 2015



میں اور میری کہانی،

از قلم: محمّد نعیم جان

مجھ سے اکثر لوگ سوال کرتے ہیں کے نعیم کیا وجہ ہے کے تم ہمیشہ پاکستان کے لئے اور پاکستان کی بہتری کے ہر فورم پر اور ہر وقت محنت اور کام کرتے ہو، کیا وجہ ہے کے تمہاری رگ رگ میں پاکستان سے پیار اور پاک وطن کی مٹی سے وفا ہے…؟ کیا وجہ ہے کے تم ہر وقت نعرے لگتے ہو پاکستان زندہ باد…..؟

آج میں آپ سب دوستوں کو اس کی وجہ بتانا چاہتا ہوں، میں اپنے دل کے وہ زخم دکھانا چاہتا ہوں جن سے آج بھی خون رستا ہے، میں آج اس وجہ سے پردہ اٹھانا چاہتا ہوں جس وجہ سے میں پاگل پن کی حد تک پاکستان سے پیار کرتا ہوں،

میری دهرتی کتنی زخمی ہے؟، کیسے کراہتی اور کرلاتی ہے ؟
اس کی چیخیں کون سنے گا؟…پاکستان بننے اور بنانے والی نسلیں اب کوچ کرنے لگیں ہیں. هجرت کر کے آنے والے لوگ دارالفنا کو کوچ کرنے لگے ہیں. پاکستان کے نام پر لٹنے والی زبانیں ہمیشہ کے لئے خاموش ہونے لگی ہیں. آگ کے دریا کو پار کرنے والی نسلیں اور تباہیوں بربادیوں کو اپنی آنکهوں سے دیکهنے والی اکهیوں کی روشنی بجھ رہی ہے. کیا هم نے یہ سبق اپنی آنیوالی نئی نسلوں کو اس طرح پہنچایا ہے جیسے یہودی قوم ھالوکاسٹ میں اپنی تباہی اور بربادی کی داستان کو زندہ رکهے ہوے ہے اور

Never Again

کا نعرہ ان کے بچے بچے کی زبان پر ہے،
پاکستان بنانے میں مسلمانوں نے جو جانی مالی اور جسمانی قربانیاں دیں، نسل نو میں بہت کم لوگوں کو اس کا صیح اندازہ ہے. یہ ہمارے محکمہ تعلیم کی کوتاہی ہے کہ وہ ان بے پناہ قربانیوں کی داستان کو نئ نسل تک پہنچانے میں ناکام ہیں. لاکهوں کروڑوں لوگوں نے اپنی جانیں،مال،عزتیں آبرو، گهر بار جائیدادیں لٹائیں ،اپنے بزرگوں،باپ دادا کی هڈیوں کو چهوڑا، دوست یار محبتوں کو قربان کیا، تب جا کر ہمیں یہ آزاد سرزمین حاصل ہوئی. پاکستان کا درد اور حب الوطنی کا جذبہ پہلی نسلوں میں،خواہ وہ ہجرت کر کے آئیں یا مقامی تهیں، کوٹ کوٹ کر بهرا ہوا تها. دوسری تیسری اور اس کے بعد آنے والی نسلوں کو ان درد ،دکھ الم اور مصائب کا سرے سے اندازہ ہی نہیں ہے. آزادی کا مطلب مقبوضہ کشمیر،چیچنیا، فلسطین اور برما کے ان لوگوں سے پوچھئے جو اپنے لہو کے چراغ جلانے کے باوجود آزادی کی روشن صبح صادق دیکهنے سے قاصر ہیں.

میں اس بات کا اظہار کرتے ہوے فخر محسوس کرتا ہوں کے میرا تعلق اس خاندان سے ہے جس نے تحریک پاکستان کے دوران لازوال قربانیوں کی داستانیں رقم کیں ہیں، آزادی کے 69 برس کی داستان جو ٹکڑے ٹکڑے ہوتے جسموں سے نچڑتے لہو سے شروع ہوتی ہے، اور آنکھوں سے قطرہ قطرہ ٹپکتے لہو پہ ختم ہو تی ہے.
چلئے اس داستان کو ہجرت کی ٹرین سے شروع کرتے ہیں۔اس باپ کی شجاعت سے شروع کرتے ہیں ، جس کی آنکھوں کے سامنے اس کی ماں کا سر تن سے جدا ہوا، جس کی آنکھوں کے سامنے اس کے باپ کو خنجروں کے مسلسل وارکر کے شہید کر دیا گیا۔ اس عظیم بچے کی برداشت سے شروع کرتے ہیں ، جس کی آنکھوں کے سامنے اس کی دو سالہ معصوم بہن کی لاش کو چلتی ٹرین سے نیچے پھینک دیا گیا…..

اب سنیے اور دل پر ہاتھ رکھ کر سنیے، میرے والد محترم کا نام حاجی نظام الدین ہے اور دادا کا نام خیرالدین تھا اور موجودہ انڈین پنجاب کے شہر پٹیالہ کے گاؤں ساونٹی میں رہائش پذیر تھے. 1947 میں میرے والد محترم حاجی نظام الدین کی عمر صرف 6 سال تھی، اور ایک چھوٹی بہن جس کی عمر صرف ڈھائی برس تھی.

دوستو جب صبح آزادی کے متوالے، شمعِ آزادی لیکرآگے بڑھے تو تقسیم سے کچھ عرصہ قبل ہی چونکے تقسیم ہند کی باتیں زبان زد عام تھیں سو کچھ مسلمانوں نے اکٹھے ہو کر فیصلہ کیا کے ہم بھی انشاء الله پاکستان کی طرف ہجرت کر جائیں گے انہی مجلسوں میں میرے دادا جان جناب خیرالدین نے بھی شرکت کی، ادھر شر پسند عناصر نے مل کر کچھ منصوبے بنا لیے اور ان مسلمانوں کو پاکستان سے محبت کرنے کی سزا دینے کی ٹھان لی،

میرے پیارے بھائیو آج بھی میرا والد محترم جب اس داستان کو بیان کرتے ہیں تو بے اختیار ان کی آنکھوں سے آنسو قطار اندر قطار گرتے ہیں اور میں اس بات کو سمجھتا ہوں کے جس داستان کو سن کر ہم اپنے آنسو روک نہیں سکتے تو جس عظیم انسان نے اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھا ہو تو ان کی کیفیت کیا ہو گی…

دوستو میرے والد صاحب کا کہنا ہے کے جب سکھ بلوائیوں نے مسلمانوں کے گھروں پے حملے شروع کیے اس وقت میرے ماں اور باپ کو بھی شہید کر دیا گیا میرا والد محترم بتاتے ہیں کے اس وقت وہ صرف 6 سال کے تھے جب سکھوں نے ہمارے گھر پے حملہ کیا تو میں ڈر کے مارے سہم کے چھپ گیا اور چھپ کر وہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا کے خنجروں کے وار کر کے میرے والد صاحب کو شہید کر دیا گیا، اور میری والدہ کو بھی شہید کر دیا گیا اور خنجر و تلوار کے ساتھ ان کا سر کاٹ کر الگ کر دیا گیا، میری معصوم چھوٹی بہن جو فقط دو سال کی تھی وہ بھی یہ منظر دیکھ رہی تھی مگر اتنے چھوٹے بچے کو کیا خبر کے کیا ہو رہا ہے وہ روتی ہوئی ماں کے پاس گئی اور ماں کے سینے سے چمٹ کے دودھ پینے لگی، جب کے ماں کا سر تن سے جدا تھا، ان ظالم سکھوں نے جاتے جاتے میری دادی کا کانوں سے بالیاں ان کے کانوں سمیت نوچ ڈالیں، گھر کا ہر گوشہ خون سے لال ہو چکا تھا، چھ سال کا بچہ جس کی آنکھوں کے سامنے اس کے ماں باپ کو بے دردی و بے رحمی سے قتل کر دیا گیا ہو آپ بتائیں کے ان بچے کی حالت کیا ہو گی،

میرے والد صاحب کہتے ہیں کے وہاں پے ایک ہندو نائی (نائی حجام کو بھی کہتے ہیں اور کھانا پکانے والے کو بھی) تھا وہ میرے والد صاحب کا دوست تھا اس نے ہم بہن بھائی کو پناہ دی اور ہم انہی کے گھر میں چھپے رہے جب تک میرے چچا نہیں آے جب میرے چچا واپس آے تو اب سفر ہجرت کا آغاز ہوتا ہے میرے والد صاحب فرماتے ہیں کے چچا اور پھوپھو کے ساتھ ہم نے اپنے پیارے وطن پاکستان کی طرف ہجرت کے سفر کا آغاز کیا لیکن ہمیں ٹرین کے چھت پے جگہ ملی، اگست کا مہینہ اور شدید گرمی اور حبس کا موسم، راستے میں شدت پیاس سے میری پھوپھو پانی پانی پانی کی فریاد کرتیں رہیں لیکن ہمیں پانی نہیں دیا گیا آخر ایک جگہ پے میری پھوپھو نے فریاد کی کے ہمیں پانی نا دو لیکن یہ چھوٹی سی بچی جس کی عمر دو سال ہے اس کو تو پانی دے دو، ظالموں نے اس کے لیے پانی دے دیا جس کا ہمیں بعد میں پتا چلا کے انہوں نے “کچ” (کانچ) پیس کر اس پانی میں ملایا ہوا تھا اور اس پانی کو پینے سے اس ننھی معصوم بچی کی آنتیں کٹ گئیں اور وہ خون کی الٹیاں کرنے لگی، اور اسی حالت چچا کی گود میں طبی امداد نا ملنے کی وجہ سے میری بہن کی بھی شہادت ہو گئی. میرے چچا بہت رؤے میں بھی بہت رویا کے پہلے ماں باپ چلے گئے اور ان کے بعد ایک ہی بہن تھی وہ بھی الله کو پیاری ہو گئی، ٹرین میں اور بھی بہت سے لوگوں کی شہادت ہوئی حالات بہت برے تھے کافی وقت گزر گیا ٹرین کبھی کھڑی ہو جاتی تھی کبھی چلتی تھی جب ٹرین رکتی تو پانچ سات گھنٹے تک رکی رہتی تھی وہ بچی اسی طرح میرے چچا کی گود میں تھی تو ساتھی مسافروں نے مشورہ دیا کے آپ اس کی میت کو ٹرین سے نیچے پھینک دیں کیوں کے ان حالات میں دفن تو تم کر نہیں سکتے. مگر میرے چچا جن نے کہا کے میں کس طرح اپنے خون کو، اپنے جگر کے ٹکڑے کو ٹرین سے نیچے پھینک دوں…؟ مگر سب نے اصرار کیا کے موسم اچھا نہیں اور میت خراب ہونے کی وجہ سے کچھ اور مسائل بھی ہو سکتے ہیں اور اگر یہ ٹرین چھوٹ گئی تو شاید آپ پاکستان نا جا سکیں، سو مادر وطن کی اس ننھی شہید کو بھی بے گور و کفن فقط آہوں اور سسکیوں کے ساتھ ان لاکھوں شہیدوں کی طرح اپنے سے جدا کر دیا جو اس سفر ہجرت میں میرے محبوب وطن پے قربان ہو گئے، وہ راستہ وفا کے شہدا کے جسموں سے بھرا پڑا تھا جن کے نام و نسب کوئی نہیں جانتا، شاید کے تاریخ انسانی میں ایسی کوئی ہجرت کی داستان ہو جہاں لوگ اپنے مال اسباب، عزت ابرو، گھر بار، کاروبار، ابا و اجداد سب کی قربانی دے کے اپنی منزل مقصود کو پاتے ہوں. شاید کے دنیا ادب میں ایسے الفاظ ہی نہیں ہیں جو ان مناظر کی تصویر کشی کر سکیں، یا شاید کچھ جذبات کو لاکھ چاھتے ہوے بھی انسان نوک قلم پے لا نہیں سکتا. سو بہت مشکلات کا سامنا کرتے ہوے پاکستان کے شہر “لائل پور” (موجودہ فیصل آباد) آئے اور بعد میں پشاور منتقل ہوئے اور آج بھی پھولوں کے شہر پشاور کے رہائیشی ہیں، میرے والد صاحب اب بھی جب اس بات کو بیان کرتے ہیں تو آہوں اور سسکیوں میں کہیں ان کی آواز ڈوب سی جاتی ہے، میرے والد محترم کی پیٹھ پر اب بھی خنجر کے زخموں کے نشان ہیں.

اور انھوں نے جس طرح پاکستان کو بنتے دیکھا اسی طرح انھوں نے پاکستان کے مسائل بھی سہے قیام پاکستان کے بعد ، پہلے قائد بچھڑے ،پھر لیاقت علی خان کی باری آئی. جمہوریت اور آمریت کی وہ گرد اڑی کہ قائد کے پاکستان کا چہرہ دھند لا گیا. پھرآپ کے رفقاءِ کار ایک ایک کر کے داعیِ اجل کو لبیک کہتے چلے گئے. اور پھر تاریخِ پاکستان نے وہ ادوار بھی دیکھے جب ایوان صدر میں کف بہتے منہ کے ساتھ گالیاں برسائی گئیں، جب امریکی اشاروں پر کھیم کرن اور رن کچھ سے فوجوں کی واپس بلا لیا گیا، ادھر ہم اور ادھر تم کے نعروں میں اپنی عزت رہن رکھ کر ایک لاکھ فوج کو جنگی قیدی بنوا دیا گیا۔ روٹی ،کپڑا ،مکان کا نعرہ لگانے والوں نے ارض وطن کو دو ٹکڑے کر دیا، زکوٰۃ و عشر کے نام پر اکٹھا ہونے والا مال “ھذا من فضل ربی” کی صداؤں میں گم ہو گیا، قرض اتارو ملک سنوارو کی مہموں میں کروڑوں روپے سوئیٹرز لینڈ پہنچ گئے، غریبوں کو فاقہ کشی ملتی رہی اور زر داریوں کے گھوڑے مربے کھاتے رہے۔ یہاں جھونپڑیاں گرتی رہیں اور وہاں سرے محل تعمیر ہوتے رہے، خوش اخلاقی قومی سمبل ٹھہرا، اور ملک کی قومی اسمبلی میں غلیظ گالیاں اور کرسیاں چلتی رہیں. ایک مل سے دس ملیں کرکے لوگ ملک سے باہر جاتے رہے اور غریب کے گھر کے دروازے اسی پہ بند ہوتے رہے، جس خطہ کو خانہء خدا سمجھا گیا، اسی ارضِ پاک پر خانہءِ خدا غیر محفوظ ہوتے گئے، حکمران ترقی کے نعرے لگاتے رہے لوگ بھوک سے بلبلاتے مینار پاکستان سے کودتے رہے، عدالتیں انصاف بانٹتی اور ادارے تعلیم بانٹتے رہے اور پڑھے لکھے روٹی کیلئے اپنی ڈگریاں گروی رکھنے لگے، حکومتیں خوشحالی کے گیت الاپتی رہیں اور جہیز کی قلت نے جوان بیٹیوں کو بڑھاپے تک پہنچا دیا، ادھر بچوں کے حقوق پر عالمی دن منائے جاتے رہے، ملک میں زرعی انقلاب کے دعوے ہوتے رہے اور گندم کو باہر سے منگوایا جاتا رہا، لیڈروں نے لیڈریاں چمکاتے ہوئے نو کروڑ باشندوں کو غربت کی لکیر سے بھی نیچے دھکیل دیا۔ پاکستان دنیا کے 174غریب ملکوں میں 38ویں نمبر پر آگیا اور حکمرانوں کے کان پر جوں تک نہ رینگی،
جہانِ کہنہ کے مفلوج فلسفہ دانو
نظامِ نو کے تقاضے سوال کرتے ہیں
یہ شاہراہیں اسی واسطے بنی تھیں کیا
کہ ان پہ مخلوق خدا سسک سسک کے مرے
زمیں نے کیا اسی لیے اناج اگلا تھا
کہ نسلِ آدم و حوا بلک بلک کے مرے

آج ہمیں سوچنا ہو گا کے ہم اپنی آنے والی نسل کو کس طرح کا پاکستان دے کے جا رہے ہے..؟

میرے دوستو میں وہ سب کچھ تو نہیں کر سکا جو میرے ابا و اجداد نے کیا لیکن میں اسی لیے پاکستان کے لیے ہر وقت نعرے لگاتا ہوں اور میرے دل میں یہ جذبات موجزن ہیں کے میں اگر پاکستان کے لیے کچھ کر سکون تو کروں. میری خواہش ہے کے میرا بیٹا “شایان نعیم” پاک فوج میں جاۓ اور اپنے آباو اجداد کی طرح اپنی پاک دھرتی کی عزت و عظمت کی بقا پے قربان ہو جاۓ.

میں محمّد نعیم جان…. مجھے فخر ہے کے میں پاکستانی ہوں

مجھے فخر ہے کے میں حاجی نظام الدین کا بیٹا اور فخرالدین کا پوتا ہوں.

پاکستان…… زندہ باد

محمّد نعیم جان