شہداۓ حرمین الشریفین۔۔

Posted on September 13, 2015



شہداۓ حرمین الشریفین۔۔۔۔۔ ملک ریاست
موت تو برحق ہے ، اللہ کے وعدے کے مطابق” ہر ذی روح نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے” ۔۔۔ کوئی انسان ،حیوان ،جن ،چرند ، پرند سب نے ہی دنیا سے جانا ہے۔۔۔۔۔۔ اگر بقا ہے تو میرے اللہ کو باقی ہر چیز کو فنا ہے- اس لیےلوگ تو روزانہ دنیا میں ہزاروں کی تعداد میں مرتے ہیں، ہر گلی کوچے سے جنازے اٹھتے ہیں ۔۔۔ لیکن وہ بھی کیا اللہ کی طرف سے چنے ہوئے خوش قسمت لوگ تھے جن کے جنازے کل حرم شریف جیسے مقدس مقام سے اٹھائے گئے ۔۔۔ اور ان کا جنازہ حرم میں لاکھوں دنیا نے پڑھا۔۔۔۔ اور پوری دنیا ان کے لیے دعاگو ہے ورنہ تو ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن کے پیچھے کوئی دعا کرنا والا بھی نہیں ہوتا۔۔
جس دھج کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے اس جان کی کوئی بات نہیں
اپنوں کی جدائی یقینا ایک بہت بڑاصدمہ ہے۔۔۔ اور اوپر سے یوں کے اھل خانہ انتظار میں ہوں کہ کب آئیں گے ہمارے والد والدہ حج بیت اللہ کی سعادت کے بعد ۔۔۔ لیکن اچانک سے جب ان کو اپنے پیاروں کی موت کی خبر ملی ہو گی تو ان پر یہ خبر بجلی بن کے گری ہوئی ہو گی۔۔۔۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ ان کو غم کی ضرورت نہیں۔۔۔کیوںکہ مرنا تو ہے لیکن اس طرح کی موت تو قسمت والوں کو بھی قسمت سے ملا کرتی ہے۔۔۔۔۔۔۔اس لیَے ہمیں ان کی لیَے غمزدہ نہیں بلکہ ان کی قسمت پر رشک کرنا چاہیے۔۔۔ کہ اللہ نے موت بھی دی تو کسی کو کی حالت میں رکوٰع میں اور کسی کو حالت سجدہ میں اور وہ بھی حرم میں۔۔۔ “واہ میرے اللہ واہ تیری شان” انااللہ و انا علیہ راجعون
خون میں لپٹا ہوا احرام گواہی دے گا
رب نے مہمان بنایا تھا شہادت کے لیے!