شام کے لوگوں کو گھروں سے بے گھر کرنے کا منصوبہ کس کا ہے ؟

Posted on September 13, 2015



شام کے لوگوں کو گھروں سے بے گھر کرنے کا منصوبہ کس کا ہے ؟
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شام کے پناہ گزینوں کا یورپ کی سر زمین کی طرف رخ کرنے کا مسئلہ ،اور مشرقی یورپ کے ملکوں سے لوگوں کے قافلوں کے قافلوں کا مغربی یورپ کی طرف اپنے آپ ہجرت کرنے کا احتمال کہ جس نے یورپ کے اندر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے ،بہت کم ہے ۔

ایسی حالت میں کہ جب شام کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کے ،عربی ،مغربی اور صہیونی اتحاد کی طرف سے شام کی حکومت کا تختہ الٹنے کی خاطر شروع کی گئی جنگ کے نتیجے میں بے گھر ہوئے چند سال بیت چکے ہیں ،کہ اچانک ان دنوں شام کے پناہ گزینوں کا یورپ میں داخل ہو کر وہاں کی شہریت اختیار کرنے کا مسئلہ سرخیوں میں چھا گیا ہے ،اور اس نے شام کے بحران کے انسانی پہلو زیادہ نمایاں کرنے کے ساتھ ،یورپین یونین کے ملکوں کے درمیان بے وطن افراد کی شہریت دیے جانے کی درخواست کو مان لینے یا رد کر دیے کی بحث کو ہوا دی ہے ۔

اس سے پہلے یورپ کے ملکوں کی سب سے بڑی مشکل لیبیا کے آوارہ وطن اور مہاجرین کو لے کر تھی کہ جن کی کوشش یہ تھی کہ غیر قانونی طور پر انسانی اسمگلینگ کا کام کرنے والوں کو پیسے دے کر بحر مدیٹانہ کے راستے سے ایسی کشتیوں کے ذریعے کہ اسٹینڈرڈ کے لیبل کی نہیں تھیں جنوبی یورپ کے ملکوں منجملہ اٹلی تک خود کو پہنچائیں کہ اس عمل میں بہت سارے لوگوں کی جان بھی چلی جاتی تھی ۔

اگر چہ یہ سلسلہ ابھی رکا نہیں ہے کہ ایک نئی بحچ کہ جو حال ہی میں یورپ کی مشکل بن گئی ہے وہ شام کے بے وطن ہونے والے لوگ ہیں کہ جو لمبا راستہ طے کر کے انسانی قافلوں کی صورت میں زمینی سفر طے کر کے یا ٹرین پر سوار ہو کر کوشش کر رہے ہیں کہ مشرقی یورپ کے ملکوں جیسے مجارستان سے گذر کر خود کو مغربی یورپ یعنی جرمنی تک پہنچائیں ۔

اس سلسلے میں سوال یہ ہے کہ اب ایک عرصے سے شام کے حالات نسبتا اچھے ہیں اس معنی میں کہ حکومت کی فوجیں اور ان کے مخالفین جیسے دہشت گرد اور تکفیری اپنے اپنے تحت کنٹرول علاقوں میں مستقر ہیںاور اب جنگ کے ابتدائی دنوں کی طرح لوگ اجتماعی صورت میں ملک کے اندر ادھر سے ادھر منتقل نہیں ہوتے یہی وجہ ہے کہ شام کے آوارہ وطن افراد کے نئے قافلوں کی بات کہ مغربی ذرائع ابلاغ جس کے بارے میں بہت تبلیغات کر رہے ہیں ایک بڑا سوالیہ نشان ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ضرور دال میں کچھ کالا ہے ۔

شام کے آوارہ وطن افراد کو یورپ لے جانے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے ؟

شام کے بے وطن افراد کے قافلوں کی صورت میں پناہ لینے کی خاطر یورپ لے جانے کے بارے میں سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ انسانوں کے یہ کاروان جو ایک زنجیر کی شکل پیدل یورپ کی جانب جا رہے ہیں آیا یہ خود بخود جا رہے ہیں یا ان کے پیچھے کچھ افراد اور ایجینسیوں کا ہاتھ ہے اور اگر ہے تو وہ افراد اور ایجینسیاں کون ہیں ؟

اس سوال کے پہلے حصے کے جواب میں کہا جا سکتا ہے کہ اس ہجرت کے خود سے انجام پانے کا احتمال بہت کم ہے ،اور جیسا کہ پہلے کہا جا چکا ہے کہ اگر ہجرت کرنے والوں کی یہ موج جنگ کے ابتدائی سالوں میں حرکت میں آتی تو کسی حد تک یہ کہا جا سکتا تھا کہ یہ موج خود بخود وجود میں آئی ہے ،لیکن چونکہ یہ موج ٹھیک ایسے وقت میں حرکت میں آئی ہے کہ جب مغربی اور یورپی ملکوں کی روش میں شام کے بحران کے سلسلے میں تبدیلی کی علامتیں نظر آ رہی ہیں کہ جو سعودیہ ترکیہ اور اسرائیل کو پسند نہیں ہیں ،اس لیے اس حرکت کے منصوبہ بند ہونے کا احتمال قوی دکھائی دیتا ہے ۔

رہ گیا اس سوال کا دوسرا حصہ کہ اس منصوبے کے پیچھے کن تنظیموں یا افراد کا ہاتھ ہو سکتا ہے تو ایسا دکھائی دیتا ہے کہ شک کی سوئی ترکیہ کی طرف گھومتی ہے ،لیکن اس کے باوجود اس سلسلے میں اسرائیل کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔

شام کے لوگوں کو آوارہ وطن کرنے میں ترکی اور اسرائیل کا کردار

اس کی ایک دلیل یہ ہے کہ ترکی ایک عرصے سے اس کوشش میں تھا کہ اپنے ملک کی سرحد پر شام میں ایک پر امن علاقہ ایجاد کیا جائے تا کہ اس ملک میں مقیم جو شام کے پناہ گزین ہیں جو ترکی کے لیے ہر لمحہ ایک نئی مشکل کا باعث ہیں انہیں اس علاقے میں منتقل کیا جائے تاکہ اس طرح اس کے اخراجات میں بھی کمی آئے اور شام میں جو اس کی سیاسی شکست ہوئی ہے اس کی بھی تلافی ہو سکے ۔

لیکن اس کے باوجود ترکی حالیہ چند ہفتوں میں ایک سال کی شدید مقاومت کے بعد اپنے ایجر لیک کے مرکز کو امریکہ اور نیٹو کی فوجوں کے حوالے کرنے پر مجبور ہوا ہے تا کہ داعش کے خلاف حملے کیے جا سکیں لیکن ابھی تک اس کو داعش سے خالی پر امن علاقہ پیدا کرنے کا اطمئنان حاصل نہیں ہوا ہے ۔

ایسی حالت میں ایسا دکھائی دیتا ہے کہ یورپ کی طرف پناہ گزینوں کو بھیجنے کا منصوبہ ترکی نے بنایا ہے اور وہ اس پر عمل کر رہا ہے تا کہ یورپ اور مغرب پر دباو ڈال کر داعش سے خالی علاقہ شام میں ایجاد کرنے کے اپنے مقصد کو حاصل کر سکے ۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ترکی کے حکام اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اگر پر امن علاقہ وجود میں نہ بھی آئے تب بھی پناہ گزینوں پر اس کا جو خرچ ہو رہا ہے اس میں تو کمی آئے گی ۔اسی طرح ترکی کی پارلیمنٹ کے الیکشن جلدی ہونے کی وجہ سے عدالت اور توسعہ پارٹی کے حکام یہ سوچ رہے ہیں کہ اس منصوبے پر عمل کرنے اور یورپین یونین کو اخراجات برداشت کرنے میں شریک کرنے سے الیکشن میں کامیابی کے امکان کو تقویت دے سکتے ہیں ۔

اسیلیے اس پارٹی کے حکام ہر دروازے پر جاتے ہیں تا کہ آنے والے انتخابت میں پارلیمنٹ میں مطلق اکثریت حاصل کر سکیں اور گذشتہ برسوں کی طرح بغیر کسی کی شرکت کے حکومت بنا سکیں ۔

لیکن اسرائیل کی مشارکت اور ترکی کے ساتھ اس کے تعاون کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ حکومت بھی ترکی طرح شام کے سلسلے میں مغرب اور عرب کی بدلتی ہوئی پالیسی کے مخالف ہیں کہ شام کے بحران کا روس کے ساتھ مل کر سیاسی حل نکالا جائے ۔دوسری بات یہ ہے لیبیا اور شام کے پناہ گزینوں کی امڈتی ہوئی موج کا تعلق اس زمانے سے ہے کہ جب صہیونی حکومت نے میڈریڈ کی سال ۱۹۹۱ کی کانفرنس میں صلح کے بدلے زمین کا جو فارمولہ پاس ہوا تھا اس کو بنیامین نیتنیا ہو کے منصوبے امن کے بدلے امن میں تبدیل کر دیا اور اس طرح اس نے مشرق وسطی کے بحران کی عمر لمبی کرنے کے ساتھ لیبیا طاور شام میں نئے بحرانوں کے وجود میں آنے کا راستہ ہموار کر دیا ۔

حقیقت میں یورپین یونین نے صحیح تشخیص کی تھی کہ اگر مشرق وسطی اور فلسطین کے بحران کو وقت رہتے حل نہ کیا گیا تو اس کے لمبے کھچنے کی وجہ سے بحرانی علاقوں سے ہجرت کرنے والوں کی موج یورپ کا رخ کر سکتی ہے اور اب یہ پیشین گوئی سچ ثابت ہوئی ہے ۔اگر چہ یورپ نے ابھی بحران کے حل کے لیے کوئی سنجیدہ اقدام نہیں کیا ہے ،لیکن یہی کہ یورپ نے جو ۱۹۶۷ کی سرزمینوں پر فلسطینی حکومت کی تشکیل کو تسلیم کیا ہے اس نے صہیونی حکومت کو سخت پریشانی میں ڈال دیا ہے اسی وجہ سے یہ حکومت بھی یورپ کے لیے مشکلات پیدا کرنے سے فائدہ اٹھاتی ہے۔

نتیجہ

جو کچھ کہا گیا اس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ مشرقی یورپ سے مغرب کی طرف جو پناہ گزینوں کا ایک سیلاب رواں ہے اور جس کی وجہ سے یورپ کے اندر بحث چھڑ گئی ہے اس کے خود بخود ہونے کا احتمال بہت کم ہے ،بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کہ یہ کام منصوبہ بند طریقے پر ہو رہا ہے اور صہیونی حکومت کی مدد سے اس کے پیچھے ترکی کا ہاتھ ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔