روسی فوج کی معاونت، سیکڑوں ایرانی فوجیوں کی شام آمد؟

Posted on September 13, 2015



العربیہ ڈاٹ نیٹ
#شام میں روسی فوج کی موجودگی کی اطلاعات کے بعد # اسرائیل کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ صدر ولادیمیر #پوتن کے ساتھ اظہار یکجہتی اور شام میں آئی روسی فوج کی مدد کے لیے حالیہ ایام میں سیکڑوں ایرانی فوجی بھی شام بھیجے گئے ہیں۔
#اسرائیل کے عبرانی زبان میں شائع ہونے والے اخبار “یدیعوت احرونوت” نے اپنی رپورٹ میں ایک سینئیر سیکیورٹی عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ #ایران کی نیم سرکاری ملیشیا “القدس بریگیڈ” کے سربراہ جنرل #قاسم_سلیمانی نے حالیہ ہفتوں میں سیکڑوں فوجیوں کو شام بھیجا ہے۔ ان فوجیوں کے شام بھیجے جانے کا مقصد #دمشق سرکار کو بچانے کے لیے آنے والی روسی فوج کی مدد کرنا ہے۔
اسرائیلی سیکیورٹی عہدیدار نےاپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ روس کی جانب سے حالیہ ہفتوں کے دوران جنگی سازو سامان، فوجی اہلکار اور جنگی مشیر ایران کے تعاون سے شام بھیجے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے شام میں اپنی فوج اور جنگی سامان ارسال کرنا ایک غیرمعمولی اقدام ہے جس کا مقصد #بشار_الاسد کے خلاف جاری عوامی بغاوت کی تحریک کو ناکام بناتے ہوئے بشار الاسد کو بچانا ہے۔
صہیونی عہدیدار کا مزید کہنا ہے کہ #روس اور ایران کی جانب سے شام میں اپنی افواج بھیجنا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ بشار الاسد کی حکومت اس وقت سنگین بحران سے دوچار ہے اور اسے بچانے کے لیے حلیف ملکوں کی افواج کی مداخلت ناگزیر ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں روسی صدر ولادی میر پوتن اور جنرل قاسم سلیمانی کے درمیان ہوئی ملاقات میں بھی بشار الاسد کی ہر ممکن عسکری امداد پر اتفاق کیا گیا تھا۔
اسرائیلی فوجی عہدیدار کا کہنا تھا کہ شام میں روسی فوج کی موجودگی سے اسرائیل کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے کیونکہ دمشق میں موجود روسی فوج اسرائیل کے خلاف لڑنے کے لیے نہیں آئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم روس کے ساتھ مذاکرات کررہے ہیں۔ #ماسکو اور #تل_ابیب کے درمیان کسی قسم کی سرد جنگ نہیں چل رہی بلکہ ہم رابطوں کےمزید چینل کھول رہے ہیں۔
خیال رہے کہ اسرائیل کی جانب سے شام میں ایرانی اور روسی فوج کی موجودگی کا دعویٰ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب عالمی میڈیا میں یہ خبریں گرم ہیں کہ روسی فوج شام کے محاذ جنگ پر لڑائی میں بھی شریک ہے۔ گذشتہ روز روسی وزیرخارجہ سیرگئی لافروف نے اپنے ایک بیان میں اعتراف کیا تھا کہ ماسکو کی طرف سے شام میں صدر بشارالاسد کو جنگی سازو سامان اور فوجی مہیا کیے گئے ہیں۔