ایران سے بھیجا گیا بارود ایک شہر کا وجود مٹانے کے لیے کافی تھا- بحرینی وزیر خارجہ

Posted on September 11, 2015



العربیہ ڈاٹ نیٹ

خلیجی ریاست بحرین کے وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا گیا ہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران ایران سے بھیجا گیا دھماکہ خیز مواد اس قدر شدید تھا کہ اگر وہ پھٹ جاتا تو منامہ کو صفحہ ہستی سے مٹا دیتا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایک اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں بحرینی وزیرخارجہ الشیخ خالد بن احمد آل خلیفہ نے کہا کہ ایران خلیجی ممالک میں نہ صرف مداخلت کررہا ہے بلکہ خلیجی ملکوں میں افراتفری پھیلانے کے لیے دہشت گردی کی سازشوں کا بار بار مرتکب ہو رہا ہے۔ حال ہی میں ایران سے دھماکہ خیزمواد لانے والے دہشت گردوں کو پکڑ کر ملک کوبڑی تباہی سے بچایا گیا ہے۔ اگر #تہران سے آیا بارود پھٹ جاتا تو وہ منامہ کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے کافی تھا۔

ایک سوال کے جواب میں #الشیخ_خالد_آل_خلیفہ نےاستفسار کیا کہ “کیا آپ ایران سے بھیجے گئے اس بارود کی شدت کا اندازہ لگا سکتے ہیں؟ صرف ہم ہی نہیں بلکہ خطے میں ہمارے امریکی حلیفوں نے بھی اس بارود کی شدت کی تصدیق کی اور کہا کہ اگر یہ دھماکہ خیز مواد استعمال کیا جاتا ہے تو منامہ کی اینٹ سے اینٹ بج جاتی۔

ایران کے متنازع جوہری پروگرام پر تہران اور عالمی برادری کے درمیان طے پائے سمجھوتے کے بارے میں بات کرتے ہوئے بحرینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ “معاہدے سے ایران کے ساتھ ہماری کشیدگی کے تمام ذرائع کا سدباب نہیں ہوتا۔ اگر ایران اپنی سابقہ پالیسی پر قائم رہتا ہے تو خلیجی ممالک کو اس سمجھوتے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔”

الشیخ خالد بن حمد آل خلیفہ نے ایران پر زور دیا کہ وہ پڑوسی ملکوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے بجائے ایک اچھے پڑوسی کی طرح ہمسایہ ملکوں سے تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کرے۔

خیال رہے کہ 13 اگست کو بحرینی وزارت داخلہ نے پانچ انتہائی خطرناک دہشت گردوں کو حراست میں لے کر ان کے قبضے سے تباہ کن دھماکہ خیز مواد قبضے میں لیا تھا۔ حراست میں لیے گئے دہشت گردوں نے جولائی میں ملک میں دہشت گردی کی ایک کارروائی میں ملوث ہونے کا بھی اعتراف کیا۔ اس کارروائی میں دو سیکیورٹی اہلکار ہلاک اور چھ زخمی ہوگئے تھے۔ بحرینی حکام کا دعویٰ تھا کہ کارروائی میں ملوث عناصر ایرانی #پاسداران_انقلاب کے ایجنٹ تھے۔

بعد ازاں دہشت گردوں قبضے میں لیے گئے بارودی مواد کی تحقیقات کی گئیں توپتا چلا کہ وہ C4 نامی ایک انتہائی مہلک بارود ہے۔ بحرین نے یہی مواد 15 جولائی 2015ء کو بھی سمندر کے راستے بحرین لانے کی ایک کوشش ناکام بنادی تھی۔