شیعہ سنی اختلاف پاکستان میں۔۔

Posted on September 10, 2015



شیعہ سنی اختلاف پاکستان میں۔۔۔۔۔۔۔ ملک ریاست
1979ء میں رضا شاہ پہلوی کی حکومت کے بعد جب ایران میں خمینی کے انقلاب کا آغاز ہوا۔۔۔ تو اس کا اثرات پاکستان میں بھی دکھائی دینے لگے۔۔۔۔ انقلاب ہر زبان زد عام تھا۔۔۔۔ وجہ یہ تھی انقلاب کے بعد پورے ایران میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کا اغاز ہوا۔۔۔۔ مجرموں کا سزاوں سمت ہر قسم کے اقدامات کیے جانے لگے۔۔
پاکستان کے پسے ہوئے اور غریب لوگوں نے جب ایران میں اصلاحات دیکھیں تو ان کا دل میں مچلنے لگا کہ کاش پاکستان میں بھی ایک ایسا انقلاب آئے اور ہماری تقدیر بدل جائے۔۔
اس کا اثر یہ ہوا کہ وہاں سے انقلاب کی ہوائیں تو پاکستان میں داخل نہ ہو سکیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ اور بہت کچھ پاکستان میں داخل کروا دیا گیا۔۔۔۔۔ جس میں نفرت انگیز لٹریچر ، کیٹس، اور کتابوں کی صورت میں پاکستان آ گیا۔۔۔ جس میں صحابہ و صحابیات اور پوری امت کی ماں اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کی شان میں انتہائی گستاخانہ الفاظ ، توہین امیز کلمات کے علاوہ شامل تھے۔۔۔
جب یہ نفرت انگیز لٹریچر عوام کی نظروں سے گزرہ تو ان میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔۔۔ جب حالات سنگینی کی طرف بڑھے تو علماء کی ایک جماعت کی طرف سے ان کی سرکوبی کی گئی۔۔۔۔ انھوں نے گلی محلے میں جا جا کر اگاہی مہم کا اغاز کیا۔۔۔۔اور عوام الناس کو ان سے دور رہنے کا مشورہ دیا اور اپنے عقائد و نظریات کی حفاظت کی تلقین کی۔۔۔۔
یہ دعوت و تقریر کا سلسہ چلتا رہا یہاں تک کہ ان میں شدت آ گئی۔۔۔ بات دلیل سے نکل سے بندوق تک چلی گئی ۔۔۔۔پھر اس طرح “ایران ” کی طرف سے پاکستان میں جس فرقہ پرستی کا اغاز کیا گیا تھا اس فرقہ پرستی میں ابھی تک دونوں طرف سے سینکڑوں قیمتی قیمتی جانیں ضائع ہو گئی اور ابھی تک یہ سلسلہ رکا نہیں ۔روز ہی کسی نہ کسی گلی کونے اور چوراہے پر کوئی معصوم قتل ہو رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔نہ قتل کرنے والے کو معلوم ہے کہ وہ کس جرم میں قتل کر رہا ہےاور نہ قتل ہونے والے کو معلوم ہے کہ بالاخر وہ کس جرم میں قتل ہو رہا ہے۔۔۔ کیونکہ میں پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ ان دونوں فریقوں میں اختلاف کی آڑ میں تیسرا فریق کرائے کے قاتلوں سے یہ کام کرواتا ہے۔۔۔۔۔ اور نہ ہی آج تک کی حکومتوں نے اس نازک مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی ہے۔۔۔۔
میں سمجھتاہوں پاکستان میں شیعہ سنی اختلاف کی بنیاد “انقلاب ایران” کے بعد شروع ہوئی اور اس ساری لڑائی میں ایران کا ہاتھ ہے۔۔۔۔۔ اس لیے بیرونی فنڈنک اور لٹیریچر کو اب ہر صورت روکنا ہو گا۔۔۔ ورنہ یہ لڑائی چلتی رہے گی ۔۔۔ اور لوگ مرتے رہے گے۔۔۔شکریہ