شامی تارکین وطن

Posted on September 8, 2015



شامی تارکین وطن۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ملک ریاست
آج کل شامی تارکین وطن کا مماملہ ہرجگہ زیر بحث ہے۔۔۔ “ایلان” ایک بچہ تھا جس کی سمندر کے کنارے پڑی نعش کودیکھ کر ہر درد دل رکھنے والے انسان نے اس بچے اوراس کے خاندان کے درد کو محسوس کیا۔۔۔۔ پھر اس پر بہت بحث ہوئی تو جرمنی، آسڑیا اور برطانیہ نے ان تارکین وطن کو پناہ دینے کا اعلان کیا۔۔۔
یقینا ان ممالک نے بڑا اقدام کیا جو ان تارکین وطن کو اپنے ملک میں پناہ دینے کا اعلان کیا۔۔۔۔ لیکن ایک طرف یہ پناہ دے رہے ہیں اور دوسری طرف بشالااسد کی فوج کو اسلحہ اور سازوسامان بھی فراہم کر رہے ہیں۔۔۔ اور بشاالاسد کی پشت پناہی بھی کر رہے ہیں۔۔۔۔۔اقوام متحدہ اور دوسرے تمام ممالک مل کر بشاالاسد سے کیوں نہیں کہتے کہ یہ مظالم بند کرے۔۔۔۔ یورپ ہمیشہ سے دوغلی پالیسی چلتا ہے۔۔۔ ابھی ابھی جب “برما ” میں رونگیا مسلمان برمی فوج کے مظالم سے تنگ آ کر کھلے سمندر میں زندگیاں گزار رہے تھے تو اس وقت کہاں گم تھے یہ ممالک۔۔؟
اب جب ان ممالک نے مہاجرین کو پناہ دینے کا اعلان کیا تو کچھ نادان دوست خواہ مخواہ سعودی عرب اور عرب ممالک پر تنقید کے نشر چلا رہے ہیں۔۔ حالاں کہ وہ بچارے حقیقت سے واقف نہیں ہیں۔۔۔۔ آپ کو بتاتا چلوں کہ تقریبا 40 لاکھ شامی لوگ “بشار الاسد” کے مظالم سے تنگ ہو کر عرب ممالک میں ہجرت کر گئے ہیں.۔۔۔سعودی عرب نے سارے یورپ سے زیادہ مہاجرین کو پناہ دی ہے لیکن وہ ان کو مہاجرین نہیں مانتے اپنے شہری سمجهتے ہیں. نہ ہی اقوام متحدہ سے کسی قسم کی امداد لی ہے.بلکہ سعودی عرب خود اقوام متحدہ کو امداد دے رھاھے ان شامی مہاجرین کیلئے۔۔۔. سعودی شہزادہ”ولید بن طلال” بہ نفس نفیس اردن اور ترکی گیا مہاجرین سے ملنے.۔۔۔
عرب ممالک پر تنقید کا سلسلہ بندہونا چاہیے۔۔۔ اگر آج ان ممالک نے مہاجرین کو پناہ دی تو اس کو سراہانا چاہیے ۔ لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ماضی میں سب زیادہ یورپیوں کو مسلمانوں نے پناہ دی ہے۔۔۔ شکریہ