دہشت گردی پر ایران کے اربوں ڈالر خرچ

Posted on September 8, 2015



دبئی ۔ غادہ شکری

اسلامی جمہوریہ ایران پر مشرق وسطیٰ میں دہشت گردوں کی مالی سرپرستی کا بار ہا الزام عاید کیا جاتا رہا ہے۔ ایک تازہ رپورٹ میں ایران کے مشرق وسطیٰ کے عرب ممالک میں دہشت گردی کے فروغ پر ہونے والے اخراجات کے چشم کشا اعدادو شمار سامنے آئے ہیں۔ امریکی اخبار “واشنگٹن ٹائمز” نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ یمن، شام، لبنان اور غزہ کی پٹی میں ایران اپنے حامی جنگجوئوں کو سالانہ کھربوں ڈالر کی امداد مہیا کرتا ہے۔ امریکی اخبار نے یہ اعدادو شمار اپنی جانب سے جاری نہیں کیے بلکہ یہ تمام حقائق حال ہی میں امریکی سینٹر مارک کیرک کی تیار کردہ ایک رپورٹ میں بیان کیے جا چکے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی وزارت دفاع کا سالانہ بجٹ 14 سے 30 ارب ڈالر کے درمیان ہے جس کا ایک بڑا حصہ بیرون ملک مسلح دہشت گرد گروپوں بالخصوص مشرق وسطیٰ میں سرگرم تنظیموں کو پہنچایا جاتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شام میں بشارالاسد کی حمایت میں لڑنے والے اجرتی قاتلوں کو ماہانہ 500 سے ایک ہزار ڈالر اجرت ایران کی جانب سے ادا کی جاتی ہے۔ ان میں سے بیشتر جنگجوئوں کا تعلق افغانستان اور دوسرے ملکوں سے ہے۔ پہلے ان کی ایران ہی میں عسکری تربیت کی جاتی ہے۔ اس پربھی لاکھوں ڈالر کے اخراجات آتے ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ امریکی رپورٹ میں مشرق وسطیٰ میں ایران کے مالی اخراجات بالخصوص شام میں بشارالاسد کی حمایت میں لڑنے والے جنگجوئوں کو دی جانے والی رقم اس سے کہیں زیادہ ہو جو امریکی سینٹر کی جانب سے بتائی گئی ہے، کیونکہ بہت سے اخراجات ایسے بھی ہیں جن کا کوئی ریکارڈ نہیں رکھا جاتا ہے۔

بعض علاقائی مبصرین کا خیال ہے کہ ایرانی وزارت دفاع کے تیس ارب ڈالر کے بجٹ میں بیرون ملک سرگرم ایران نواز گروپوں کی انٹیلی جنس سرگرمیوں پر ہونے والے اخراجات شامل نہیں۔ حکومت کے علاوہ ایران کی نجی تنظیمیں اور این جی اوز بھی مسلح گروپوں کی مالی مدد کرتی ہیں۔ ان اداروں کی جانب سے مدد کی رقم بھی شامل کی جائے ایران کی جانب سے سالانہ مشرق وسطیٰ میں خرچ ہونے والی رقوم تیس ارب ڈالر سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہیں۔

مثال کے طور پر ایرانی پاسدران انقلاب وزارت دفاع سے ہٹ کراپنے طورپر بھی بجٹ بناتا اور بیرون ملک تنظیموں پر خرچ کرتا ہے۔ حزب اللہ کو ایران کی جانب سے سالانہ 100 سے 200 ملین ڈالر کی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ بشارالاسد کو سالانہ 3.5 ارب ڈالر سے 15 ارب ڈالر تک امداد ملتی ہے، شام اور عراق میں شیعہ ملیشیا کو 12 سے 26 ارب ڈالر کی امداد جاری کی جاتی ہے۔ یمن میں ایران کی جانب سے حوثیوں کو 10 سے 20 ملین ڈالر اور بیسیوں ملین ڈالر اسرائیل کے خلاف سرگرم فلسطینی تنظیم ‘حماس’ کو دیے جاتے ہیں۔

امریکی رکن کانگریس کی جانب سے ایران کی مشرق وسطیٰ میں مالی معاونت سے متعلق یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر باراک اوباما تہران کے ساتھ کیے گئے سمجھوتے پر کانگریس کی حمایت کے حصول کی کوششیں کررہے ہیں۔ اگرچہ صدر کو کانگریس کی طرف سے حمایت می مثبت اشارے ملے ہیں مگر اس طرح کی رپورٹس ایک نیا تنازع پیدا کرسکتی ہیں۔