تجدید عہد وفا کا دن

Posted on September 7, 2015



“6 ستمبر 1965 کا دن وطن سے تجدید عہد وفا کا دن ”
آج دن ہم خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اپنے شہیدوں ۔
اے راہ حق کے شہیدو وطن ہوائیں سلام کہتیں ہیں ۔
آج ہم دفاع وطن کا دن جوش و جذبہ سے مانا رہے ہیں ۔آج کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اگر دشمن میلی آنکھ سے دیکھے تو اس کی آنکھ نکال دو ۔ اگر کوہی ہاتھ اس کی طرف بڑھے تو اس کاٹ دو ۔ اگر کوہی سر اس کی آزادی کو للکارے تو اسے تن سے جدا کر دو ۔ اگر دشمن جارہیت کرے تو اسے وہ عبرت ناک شکست دو کہ رہتی دنیا تک وہ نشان عبرت بن جاے ۔جب جب وطن پکارے اس کی آزادی کے لیے اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہا دو اپنی جان قربان کر دو مگر وطن کی عزت وعزمت حرمت اور آزادی پر حرف نہ آے ۔
اب دشمن نہی چال کے ساتھ حملہ آور ہے اب وہ پاکستان کو ہر طرف سے گھیرنے کا اردہ رکھتا ہے ۔ اب وہ مشرق و مغرب اور اندر سے ہر طرف سے حملہ آور ہے اور پاکستان کو مٹانے کے لیے صرف آنڈیا نیں بلکہ پوری دنیا کے دشمن اس پاکستان کو گھیرنے کے لیے تیار ہیں ۔
یہ ” لا الہ الا الللہ محمد رسول الللہ ”
پر وجود میں آنے والا پاکستان ہر طرف سے طوفان میں گھیرا ہوا ہے ۔ دشمن اب اسے دنیا سے مٹانا چاہتے ہیں مگر نادان نیں جانتے کہ یہ قوم خالد بن ولید ، صلح دین ایوبی ، طارق بن زیاد اور محمد بن قاسم کے وارث ہیں یہ موت سے نیں ڈرتے بلکہ موت ان سے ڈرتی ہے ۔
یہ ہر وقت لا الہ الا الللہ کے جذبے سے سرشار اور محمد رسول الللہ کے عشق کی قوت سے لبرز ہیں ۔ یہ وہ ہیں کہ ہر وقت جن کے جسموں میں عشق رسول خون بن کے دوڑتا ہے ۔ یہ تو وہ ہیں جو موت کو بھی شکست سے دوچار کر دیں ۔ ان سے ٹکرانا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے ۔
دشمن اب اس آخری جنگ کی تیاری کر رہا ہے کہ جس کے بعد شاید کسی جنگ کی ضرورت باقی نہ بحچے مگر اس آخری جنگ کا مقدر یہ ہے کہ اس جنگ کے نتیجے میں پاکستان نہ صرف عالم اسلام بلکہ دنیا کا لیڈر بنانے والا ہے ۔ آج کی نوجوان نسل ضرور یہ جنگ دیکھے گی اور لڑے گی بھی فتح پاکستان کا مقدر ہوگی اور شکست دشمن کا مقدر ۔
آیے آج کے دن یہ عہد وفا کریں کہ اے وطن جب تو پکارے تو حاضر لہو ہمارا ہے ۔ اگر کوہی تیری طرف بری نظر ڈالے تو اس آنکھ کو نکالیں دیں گے ۔ اگر کوہی بازو تیری حرمت کی طرف لپکے تو اس کاٹ ڈالیں گے۔ تیری آزادی اور بقاہ کے لیے جان ہر وقت ہتھیلی پر لیے حاضر ہیں ہم ۔ آج کے دن ہم تجھ سے یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم ہر جنگ کے لیے تیار ہیں اور تیری بقاہ کے لیے جسطرح 1965 میں بے مثال قربانیاں دیں تھیں اب کی بار اس سے بڑھ کر قربانیاں دیں گے اور اب تو 1971 کا بدلہ بھی لیں گے ۔اور ہمشہ ہمشہ کے لیے دشمن کا نام و نشان دنیا کے نقشے سے مٹا دیں گے ۔
” قسم اس وقت کی جب تو ہمیں پکارے ”
قسم اس وقت کی جب تو ہمیں آزمائے
ہم ہر وقت تیار اور شوق شہادت لیے حاضر ہیں ۔
از محمد خلیفہ