“اب وقت شہادت ہے “

Posted on September 6, 2015



“اب وقت شہادت ہے ”
جب 6 ستمبر 1965 کو پاکستان گہری نید سو رہا تھا تب بھارت نے سمجھا کہ پاکستان سو رہا ہے لہٰزا وہ اپنے 600 ٹینک لے کر پاکستان کو فتح کرنے اور انڈین جنرل لاہور میں چاے پینے کے اردہ لیے حملہ آور ہوا۔ جنرل نے اعلان کیا کہ صبح کی چاہے لاہور جا کر پینی ہے اسے اپنی طاقت پر پورا یقین تھا ۔جب دشمن سرحد پر آیا تو جنرل نے دیکھا کہ اس کے 600 سو ٹنکیوں کے سامنے ” لا الہ الا الللہ محمد رسول الللہ صلی الللہ علیہ والہ وسلم ” پڑھتے اور عشق رسول میں سرشار اپنی جانیں لیے ٹنکیوں کے سامنے چند لوگ کھڑے ہیں .جنرل نے غرور اور طاقت کے نشے میں چور ہو کر حکم دیا کہ ان کلمہ پڑھتے خالی ہاتھ مسلمانوں کے جسموں کو ان ٹینکوں کے نیچے کچہل دو اور ان کا نام و نشان مٹا دو ۔ فتح کے انداز میں اس نے اشارہ کیا اور بھارت کے ٹینک لوگوں پر چڑ دوڑے ۔ لوگ نعرہ تکبر لگاتے ٹینکوں کی نیچے لیٹ گے پھر کیا تھا کہ تاریخ نے وہ نظارہ دیکھا کہ دنیا حیران رہ گی دنیا نے ٹینک ہوا میں آڑتےہوے دیکھے ۔ اور پھر انڈین جنرل کو سمجھ آیا کہ یہ لوگ شہادت کے جذبے سے سرشار اپنے جسموں پر بم باندھ کر ٹینکوں کے نیچے لیٹ گے ہیں ۔ پاکستانیوں نے ٹینکوں کا قبرستان بنا دیا ۔دشمن کی طاقت کو ، غرور کو اس قبرستان میں دفن کردیا ۔ اتنے ٹینکوں کو دیکھ کر BBC لاہور کی فتح کی خبر نشر کرچکا تھا مگر پھر ان ٹینکوں کا قبرستان دیکھ کر معافی بھی مانگنی پڑھی ۔ یہ دنیا کی ٹینکوں کی سب سے بڑی یلغار تھی جسے ایمان کی طاقت کے آگے منہ کی کھانی پڑھی ۔ اس جنگ میں پاک فضائیہ کے پاس خود اتنے جہاز نہ تھے جتنے انھوں نے آنڈیا کے مار گراے ۔پاکستان کی فوج اور عوام ہر محاز پر ایمان کی طاقت سے اس بے جگری سے لڑے کہ دشمن تو کیا دنیا بھی ورطہ حیرات رہ گی ۔ اس وقت پاکستان کے پاس ہتھیاروں سے زیادہ ایمان کی طاقت تھی تو وہ اپنے سے کئ گناہ بڑے دشمن سے ٹکرا گیا ۔ اور اسے شکست سے دو چار کردیا ۔
یہ 1965 کی جنگ دفاع وطن کی جنگ تھی یہ بڑی قربانیاں دے کر جیتی گی ۔ ہر جگہ آرمی ، فضائیہ اور نیوی کی بہادری کی ہزاروں مثالیں ملیں گیں ۔ ہزاروں اور لازوال قربانیوں کے بعد یہ فتح نصیب ہوئی ۔
آج پاکستان پھر اسی دوہرے پر گھڑا ہے آج پھر دشمن نہ صرف باہر سے حملہ آور ہے بلکہ اب تو اندر سے بھی حملہ آور ہے ۔
آج پھر وہ جذبہ چاہیے اور وہی شوق شہادت کہ اب وقت ہے وطن پر مر مٹنے کا ہے ۔
آج الللہ کے فضل سے 65 کے مقابلے میں سامان جنگ بہت زیادہ ہے مگر اب صرف جذبہ ایمان چاہیے ۔
آب آخری جنگ کی آمد آمد ہے کہ جس کے بعد کوہی جنگ نیں ہوگی اور یہ ہی جنگ محمد مصطفی صلی الللہ علیہ والہ وسلم کے فرمان کے مطابق غزوہ ہند ہوگی ۔ اور اس میں لڑنے والوں کے لیے بشارت ہے یہی لوگ کامیاب و کامران ہوگے دنیا اور آخرت میں ۔
لہٰزا دوستوں تیار ہو جاؤ کہ غزوہ ہند کا وقت آن پہنچا ۔
کہ
” اب وقت شہادت ہے ”
از محمد خلیفہ