“شاید ہی کوہی زندہ رہے دیکھنے کے لیے”

Posted on September 3, 2015



“جنگ کے بعد کا منظر شاید ہی کوئی دیکھے ”
آج کل پاکستان اور انڈیا کی جنگ کا شور ہے ۔ پاکستان کو جارحیت کا سامنا ہے اور انڈیا دن بہ دن جنگ کے لیے مزید پاگل ہورہا ہے ۔ انڈیا میں تو طبل جنگ بج چکا ہے ۔ مودی کو یہ سوچنا چاہیے کہ مسلمان تو پیدا ہی مرنے کے لیے ہوتا ہے اور ہر کی شہادت آرزو ہوتی ہے ۔اگر جنگ ہوگی تو یہ محدود نیں ہوگی یہ پھر آخر اٹامک جنگ ہوگی ۔ اگر پاکستان ختم بھی ہوگیا تو بھی اسلام باقی رہے گا کیونکہ 57 اسلامی ملک ہیں ۔مگر اگر انڈیا تباہ ہوا تو کوہی ہندو باقی نیں رہے گا کیونکہ ایک ہی ہندو مذہب کا ملک ہے وہ انڈیا ہے پھر نہ کوہی بھگوان بچے گا نہ کوہی دیوی ۔
جنگ میں دونوں کا نقصان ہے دونوں طرف کچھ نیں بچے گا ۔ ہر طرف تباہی ہوگی ۔ اگر مودی نے جنگ مسلط کی تو پاکستان کو مجبوراً جواب دینا پڑھے گا اور پھر کچھ نیں بچے گا زیادہ تر انڈیا اور پاکستان ویران ہوجاے گا لہٰزا ہوش کے ناخن لے مودی ۔
ہر کسی کو جنگ کا شوق بھی بڑا ہے ۔
ہم روز TV اور اخبار میں پڑھتے ہیں کہ ہم انڈیا کے ہر شہر کو 5 بار ختم کرسکتے ہیں اور ہم اسی خوشی میں ناچ رہےہیں ۔ مگر کھبی سوچا کہ کیا ہمارا کوہی شہر سلامت بچے گا یہ تو کوہی نیں بتاتا ۔اگر انڈیا کا ہر شہر تباہ کریں گے تو ہمارا بھی کوہی شہر نیں بچے گا ۔
لہٰزا سوچنے کی ضرورت ہے کہ جنگ حل نیں مگر یہ آخری حل ضرور ہے ۔
اگر ہم اٹیم بم سے حملہ کریں گے تو وہ بھی جواب میں اٹیم بم ہی چلیں گے ۔ ویسے بھی یہ حقیقت ہے کوہی مانے یا نہ مانے اب ہم لوگوں میں 1965 کی جنگ والا جذبہ نیں ۔ اس وقت سامان کم تھا اور جذبہ زیادہ مگر اب جنگ کا ہر سامان ہے مگر جذبہ نیں ہم تو خود اپنے ہاتھوں سے پاکستان کو لوٹ رہے ہیں اسکو کھوکھلا کر رہیں ہیں ۔ ہم تو اپنے پاکستانیوں پر ظلم وستم ہوتا دیکھ کر خاموش تماشائی ہیں ۔ یہ جو سیاستدان اور حکمران ہیں اگر آج جنگ شروع ہو تو سب سے پہلے یہ اور ان کی اولادیں آپ کو امریکہ اور برطانیہ میں ملیں گے یہ سب پاکستان سے بھاگ جائیں گے۔
آنڈیا اور مودی کو سوچنا ہوگا کہ جنگ کسی مسلے کا حل نیں ہے اور وہ اپنی حرکتوں سے باز آجایں وگرنہ جنگ مسائل کا حل نیں مگر آخری حل ضرور ہے ۔
اور پھر اس کے بعد کا منظر دیکھنے کے لیے ” شاہد ہی کوہی زندہ بجے ”
از محمد خلیفہ