شہدا کے خون کی پکار

Posted on August 31, 2015 Articles



“شہدا انقلاب کے خون کی پکار”
30 اگست 2015 کو عوامی تحریک نے 30اگست 2014 کے شہدا کی یاد میں دھرنا دیا اور ریلی نکالی مگر میڈیا کی بے حسی بھی قابل دید تھی ۔ وہ لوگ جنھوں نے اپنی جان اس قوم کی خاطر دی ان کا زکر نہ قوم کو یاد رہا اور نہ میڈیا کو ۔ شہدا کا خون پکار کر کہ رہا ہے کہ اے ہماری قوم ہم نے اپنی جان اس پاکستان کی بقاہ اور تماری عزت ،تماری جان اور مال ، گھر بار کی حفاظت کے لیے قربان کی ۔ تہمیں ان چور ، ڈاکو غاصبوں حکمرانوں کے چنگل سے نجات دینے کے لیے اپنی جان کی بازی لگای تھی ۔جنھوں نے تمارے کاروبار ، تجارت ، عدالت ،انصاف ،معیشت ، معاشرت ، صحت ، تعلیم ، سیاست اور حکومت ہر چیز پر قبضہ کیا ہوا ہے ۔اے عوام پاکستان اگر تم اسی طرح بے حس رہے ،سوتے رہے تو یہ حکمران تمیں مسل کر رکھ دیں گے اور تمارے لیے پھر کوہی گھروں سے نکل کر اپنی جان قربان نیں کرے گا ۔خدارا اپنی آنے والی نسلوں کے لیے جاگ جاؤ ۔اور اس ظالم نظام کا خاتمہ کر دو اگر اپنی بقاہ چاہتے ہو۔
عوامی تحریک کی مرکزی قیادت اس احتجاج میں تھی مگر اگر قادری صاحب کے صاحبزادے ہوتے تو زیادہ بہتر تھا ۔میڈیا اور عوام کو بھی اس بے حسی کے حصار سے نکلنا ہوگا اور اپنے حق کے لیے آواز اٹھنا ہوگی۔
میڈیا کو پیسے کے علاوہ اس ملک کے لیے بھی کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔
“شہدا کی اروح آج بھی یہی کہ رہیں ہیں کہ اے ہماری قوم ہم تمیں جاگتے جاگتے خود ابدی نید سو گے ہیں خدا کے لیے اب تو جاگ جاؤ ”

از محمد خلیفہ