“کل کی نیکی آج کا گناہ ، مقدر پاکستان کا “

Posted on August 17, 2015



“کل کی نیکی آج کا گناہ، مقدر پاکستان کا ”
پاکستان جب سے وجود میں آیا ہے تب سے ایک خاص قسم کا گروہ اسے جہاد عظیم کے لیے تیار کر رہا ہے اور ان کی خواش ہے کہ دنیا میں جہاں بھی جہاد برپا ہو اسکا مرکز پاکستان ہی ہو۔یہ الگ بات ہے کہ پاکستان بنانے کے گناہ عظیم وہ شریک نیں ہوے۔پہلے تو انھوں نے پاکستان بنانے کی آخری حد تک مخالفت کی مگر جب پاکستان بن گیا تو پاکستان کے پالیسی ساز اداروں پر قبضہ کرلیا اور اپنی مرضی کی شریعت اور اسلام کے نافذ کرنے کی قسم آٹھا لی ۔ساری دنیا سے اسلام اور جہاد کے نام پر روپے اگھٹے کیں اور پاکستان کے غریب اور علم سے لا تعلق لوگوں کو الللہ اور قبر کے عذاب سے ڈرا کر اور کبھی جنت کی حوروں کا لالچ دے کر ہاتھ میں بندوق تھما دی ۔ اور ان کم عمر بچوں کو بتایا کہ جو تماری طرح نماز نہ پڑھے وہ واجب القتل ہے ۔ جو داڑھی نہ رکھے وہ بھی واجب القتل ہے ۔اور جو تمارے اسلام سے اختلاف کرے وہ بھی واجب القتل ہے ۔ اسلام صرف وہ ہے جو تم کو ہم نے سکھایا ہے ۔ دلیل سے جو بات کرے اسکو گولی سے جواب دو ۔مگر اپنے اسلام کو ہی نافذ کرو۔ روس افغانستان میں داخل ہوا تو ان اسلام پسندوں نے اس جہاد کی قیادت امریکہ کو سونپی اور غریب اور سادہ لو عوام کو اس جنگ میں جھوک دیا مگر اپنی اولادوں کو جہاد کی اعلی تعلیم و تربیت حاصل کرنے کے لیے امریکہ بھج دیا ۔ الللہ الللہ کرکے روس ٹوٹا اور جہاد کو کچھ دنوں کے لیے رخصت ملی ۔ مگر جب بے روزگاری بڑہی تو یہ حکم صادر کیا کہ پاکستان ایک امریکی غلام ہے اور یہ کفر کا محافظ ہے اور اسکی عوام کافر ہونے کے قریب ہے لہزا پاکستان کی فوج جہان ملے قتل کر دو ، ریاست کا جو بھی رکن ملے اسکو مار ڈالو ۔عوام پاکستان کو اسلام میں داخل کرنے کے لیے بازاروں میں ، مسجدوں میں ، امام بارگہوں میں ، چرچ میں ، مندر میں ہسپتالوں میں ،گھروں میں ،گلی محلوں میں ،جہاں ملیں خود کشش حملے کرو یہاں تک عوام جہنم اور تم جنت میں نہ چلے جاؤ ۔ سنی ، دیوبندی ، بریلوی ، اہل تشیع جو ملے سب ایک دوسرے کا گلہ کاٹ ڈالو۔ یہاں تک کہ کوہی سنی کے نام پر مرا، کوہی شیعہ کے نام پر مرا ، کوہی سندھی کے نام پر مرا ، کوہی بلوچ کے نام پر مرا ، پھٹان کے نام پر مرا ، کوہی پنجابی کے نام پر مرا اور کوہی مہاجر کے نام پر مرا ۔
پاکستان لہو لہو ہوا ہر طرف خون ہی خون لاکھوں لوگوں کو خون میں نہلا دیا مگر جہاد کی آگ ٹھنڈی نہ ہوئی ۔
نادان یہ نیں جانتے کہ دین مصطفی صل الللہ علیہ والہ وسلم تو یہ کہتا ہے کہ کسی مشرک کو بھی قتل نہ کرو ، درخت نہ کاٹو، عورتیں بچے اور بزرگ ان کو قتل نہ کرو ، جو تم سے نہ لڑے اسے نہ مارو ۔ پھر فرمایا
“ہر مسلمان کی جان ، مال ، عزت اور خون دوسرے مسلمان پر حرام ہے ”
مگر شاید یہ اسلام انھوں نے پڑا ہی نیں یا پھر اس اسلام میں مال دولت اور جہاد کا کاروبار ان کے لیے نیں ۔
پاکستان میں قیامت برپا ہوئی جو ملک اسلام کے نام پر بنا اسکو اسلام کا نام لینے والوں نے ہی خون میں نہلا دیا نہ بازر ، نہ سکول ، نہ مسجد کوہی جگہ محفوظ نہ رہی ۔ ہر طرف خون کا دریا رواں ہوا ۔
یہ نیکی پاکستان کے ساتھ حکومتوں ، ریاست ، اسٹلپشمنٹ ، نام نہاد مولویوں اور آرمی نے ہی خود کی تھی ۔ ان کو کہا کہ یہ ہمارے اپنے بچے ہیں اور ان کی پرورش بچوں کی طرح کی ان کو جہاد کے لیے استعمال کیا پوری دنیا میں جہاد برپا کیا ۔ ان کو زہر کی صورت میں دوھ ود پلایا پھر جب وہ ناگ بن کے اپنے ہی مالک کو ڈسنے لگے تو سمجھ آہی کہ یہ جہاد نہیں فساد ہے ۔
قوم روتی رہی پکارتی رہی مرتی رہی مگر کسی کو خیال نہ ایا مگر جب پشاور میں اپنے بچے مارے گے تو ریاست میں اعلان جنگ ہوا اور پاکستان کو اس جہاد سے پاک کرنے آغاز ہوا۔
لاکھوں لوگوں کی شہادت کے بعد، ہزاروں فوجیوں کی شہادت کے بعد آخر پاکستان کی ریاست کو یہ سمجھ آہی گی ۔
“کہ جو کام وہ نیکی سمجھ کر کر رہے تھے وہ حقیقت میں گناہ عظیم تھا جو آج پاکستان کا مقدر بنا”
جب دین کا علم رکھنے والے بھی اس نیکی کو گناہ نہ کہ سکے تو اس وقت ایک آواز جو پاکستان میں گونجی وہ طاہرالقادری کی تھی جو بغیر کس خوف کہ رہی تھی کہ یہ جہاد نہں فساد ہے ۔ یہ نیکی نیں گناہ عظیم ہے ۔اگرچہ آپ کو طاہرالقادری سے کتنے ہی اختلاف ہوں مگر بات سچ یہی ہے ۔
آج وزیر داخلہ پنجاب کی شہادت اور لاکھوں لوگوں کی عظیم قربانی کے بعد یہی درخواست ہے آرمی چیف سے کہ جو بھی اسلام کے نام پر یا کسی بھی نام پر قتل عام میں ملوث ہے اسے نشان عبرت بنا دیں ۔اگرچے وہ طالبان ،لشکرجنھگوی ، سپاہ صحابہ ،کوہی مجاہدین ، MQM یا کوہی اور مذہبی و مسلکی تنظیم ہو یا کیوں نہ کوہی سیاسی جعمت ہو سب کو ان کی اس نیکی کا صلہ ضرور دیں جو وہ پاکستان کے ساتھ کررہے ہیں ۔
کیونکہ جہاں حکومت اور مذہبی جماعتیں ملوث ہیں وہاں یہ نیکی مکمل آپ کی مرضی اور تعاون سے ہی ہوتی رہی ہے ۔
وگرنہ عوام یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ اپ بھی انہی نیکوں میں تو شامل نیں جن کی نیکیوں نے آج پاکستان کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے ۔۔۔۔۔۔؟
خدا کے واسطے اب یہ پاکستان کسی ایسی نیکی کا متعمل نیں ہو سکتا ۔
پاکستان زندہ باد
از محمد خلیفہ