“کیا ہم آزاد ہیں”

Posted on August 14, 2015



“کیا ہم آزاد ہیں ؟”
“آزادی مبارک”
آج پاکستان کا 68 یوم آزادی ہے سب کو مبارک ہو۔ آج 68 سال بعد قائداعظم اور علامہ اقبال کی اروح تڑپ رہی ہوں گی کہ یہ وہ پاکستان ہے جو ہم نے بنایا تھا۔
یہ پاکستان بڑی قربانیوں کے بعد حاصل ہوا ہے ۔ کروڑوں لوگوں نے اپنا گھر بار چھوڑا اپنی جان کی قربانی دی اور اپنی عزتوں کو قربان کیا تاکہ وہ انگریز اور ہندوں کی غلامی سے آزاد ہو کر اسلام کے مطابق اپنی زندگیاں گزار سکیں ۔
پاکستان کا مطلب کیا “لا الہ الا الللہ محمد رسول الللہ”
پر سب کچھ قربان کردیا اور 14 اگست 1947 کو مسلمانوں کو ایک آزاد ملک اسلامی جہموریہ پاکستان وجود میں آیا ۔ لیکن آج 68 سال بعد بھی عوام پاکستان آزادی کے متلاشی ہے ۔ وطن تو آزاد ہوگیا مگر ہم عوام غلام ہوگے فرق صرف یہ ہوا کہ اب غیروں کی جگہ اپنوں کی غلامی ہے ۔ صرف چند ہزار خاندانوں نے پاکستان پر قبضہ کر لیا ہے وہ پاکستان کی ہر چیز پر قابض ہیں ۔ پاکستان کا آہین و قانون ، اسمبلیاں ، معشیت ، معاشرت ،ادارے ،مذہب ،سیاست ،حکومت ،فوج ، عدالت یہاں تک کہ ہر چیز پر ان کے قبضہ ہے ۔
آج عوام غلاموں کی طرح کبھی ایک آقا کو منتخب کرتے ہیں تو کبھی دوسرے آقا کو منتخب کرتے ہیں یہ سلسلہ پچھلے 68 برس سے چلا آرہا ہے ۔ ہر طرف کبھی مذہب و مسلک کے نام پر قتل و غارت کبھی قومیت پر اور کبھی زات پات پر ہر طرف خون ہی خون ۔ نہ زندگی محفوظ نہ عزت محفوظ ۔نہ تعلیم ،نہ صحت ،نہ روزگار ،نہ گھر ،نہ پانی ،نہ بجلی ، نہ گیس۔ نہ انصاف ہر چیز سے محروم اور قابض اشرافیہ کو ہر سہولت ۔ کیا یہ پاکستان صرف اپنوں کی غلامی کے لیے بنایا گیا تھا ۔اگر ہم نے غلام ہی رہنا تھا تو اتنی قربانیاں کیوں ؟۔ کیا قانون ، آہین و انصاف پر ہمارا کوہی حق نیں ۔ کیا کبھی عوام کے لیے آہین میں کوہی ترمیم ہوئی؟ ۔ کیا جہموریت کا کوہی فائدہ ہیمں بھی ہے کیا ؟۔ کیا مارشل لا کا ہمیں کوہی فائدہ ؟۔ ہر چیز کا فائدہ صرف اشرافیہ کو ۔ آج 68 سال بعد عوام حکمرانوں سے یہ سوال کرتی ہے کیا تعلیم ہمارا حق نہیں ؟ کیا صحت ہمارا حق نیں ؟ کیا گھر ہمارا حق نیں ؟ روزگار ہمارا حق نیں ؟ کیا انصاف ہمارا حق نیں ؟ کیا عزت ہمارا حق نیں ؟ کیا زندگی ہمارا حق نہیں ؟۔
قربانیاں عوام دیں اور فائدہ اشرافیہ کو ۔ آج قائد اعظم اور علامہ اقبال کی روحیں یہ سوال پوچھتں ہوں گیں کہ اس لیے ہم نے اس پاکستان کا خواب دیکھا تھا اور اس لیے یہ پاکستان بنایا تھا ۔ نیں لوگوں یہ پاکستان تمارے لیے بنایا تھا ، یہ تمارا پاکستان ہے ، یہ تماری قربانیوں سے بنا ہے، اس پر تمارا حق ہے ، تم ہی ہو اس کے پاسبان ۔
آج قائد و علامہ کی روحیں پکار پکار کر کہ رہیں ہیں کہ اے لوگوں آٹھو پھر آزادی کا علم لے کر اٹھو جسے پہلے اٹھے تھے آج وہی جذبہ پیدا کرو اور ان غاصبوں کے خلاف علم بغاوت بلند کرو اور پاکستان کو آزاد کرو۔ آج قوم کو ایک آزاد وطن تو مل گیا مگر آزاد قوم نیں ملی ۔
آؤ جسے غیروں سے آزادی حاصل کی تھی اسطرح اپنوں سے بھی آزادی حاصل کریں ۔ آؤ ان سے اپنی ساسیت، حکومت ، عدالت ، قانون ، فوج ، تعلیم ، صحت اور اپنے مذاہب کو آزاد کر ویں ۔
آؤ ان غلامی کی زنجیروں کو توڑایں اور حقیقی آزادی حاصل کریں ۔
آؤ ایک آزاد پاکستان میں ایک آزاد قوم کی طرح رہیں ۔
آج ایک آزاد پاکستان کو ایک آزاد قوم کی ضرورت ہے ۔
از محمد خلیفہ