شامی حکومت جنگی جرائم کی مرتکب :ایمنسٹی

Posted on August 13, 2015



دمشق ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ ،ایجنسیاں

شام کے دارالحکومت دمشق کے نزدیک واقع علاقے مشرقی غوطہ میں فوج کے فضائی حملوں میں اکتیس شہری ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے صدربشارالاسد کی حکومت پر مشرقی غوطہ میں جنگی جرائم کے مرتکب ہونے کا الزام عاید کیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ مشرقی غوطہ میں موجود باغیوں نے پہلے دمشق پر ایک راکٹ فائرکیا تھا جس میں چار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔اس کے بعد شامی فوج کے طیاروں نے باغیوں کے متعدد ٹھکانوں کو بمباری میں نشانہ بنایا ہے۔

درایں اثناء ایمنسی انٹرنیشنل نے بدھ کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ شامی حکومت نے مشرقی غوطہ میں شہریوں کا محاصرہ کررکھا ہے اور وہ ان پر شدید بمباری کررہی ہے جس کی وجہ سے ناکا بندی کا شکار شہریوں کے لیے مشکلات بڑھتی جارہی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ علاقے میں اس وقت مقیم قریباً ایک لاکھ تریسٹھ ہزار افراد جسم اور روح کا رشتہ برقرار رکھنے کے لیے نان جویں کو ترس رہے ہیں۔ایمنسٹی نے اس رپورٹ میں شامی حکومت کی چیرہ دستیوں ہی کو اجاگر نہیں کیا بلکہ علاقے میں موجود باغی گروپ جیش الاسلام کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بھی نشان دہی کی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ اس گروپ نے خوراک کو ذخیرہ کررکھا ہے،اس کے جنگجوؤں نے لوگوں کی پکڑ دھکڑ جاری رکھی ہوئی ہے اور وہ بلا امتیاز شہریوں پر حملے کرتے رہتے ہیں۔

شامی فورسز نے گذشتہ دو سال سے مشرقی غوطہ کا محاصرہ کررکھا ہے اور انھوں نے حالیہ مہینوں کے دوران ناکا بندی مزید سخت کردی ہے۔اس کی وجہ سے مقامی لوگوں کو خوراک اور ادویہ کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ برسرزمین ان جکڑبندیوں کے علاوہ مشرقی غوطہ پر شامی فضائیہ کے طیارے آئے دن بمباری کرتے رہتے ہیں۔

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ اس کے پاس شامی حکومت کے مشرقی غوطہ میں جنگی جرائم کے مرتکب ہونے کے شواہد موجود ہیں اور اس کی جانب سے علاقے کی ناکا بندی اور محاصرہ زدہ شہریوں کی غیر قانونی ہلاکتیں انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔

ایمنسٹی کے مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقا پروگرام کے قائم مقام ڈائریکٹر سعید بوم الضحیٰ کا کہنا ہے کہ ”مشرقی غوطہ میں زندگی بہت سے لوگوں کے لیے مصائب اور مشکلات کا ایک طویل تجربہ بن کر رہ گئی ہے”۔

انھوں نے رپورٹ میں کہا ہے کہ ”شامی فوج نے بظاہر جان بوجھ کر اس علاقے پر فضائی حملوں میں ایسے اہداف اور مقامات کا انتخاب کیا جن سے زیادہ سے زیادہ جانی نقصان ہو تاکہ دوسرے شہریوں کو خوف زدہ کیا جاسکے”۔

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ اس نے 2015ء کی پہلی ششماہی کے دوران مشرقی غوطہ پر کم سے کم ساٹھ فضائی حملوں کا دستاویزی ریکارڈ فراہم کیا ہے۔ان حملوں میں قریباً پانچ سو شہری ہلاک ہوگئے تھے۔رپورٹ میں شامی حکومت پر الزام عاید کیا گیا ہے کہ وہ علاقے کے محاصرے کے ذریعے لوگوں کو بھوک کا شکار کررہی ہے اور اس طرح ”قحط کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کررہی ہے”۔

تنظیم نے اپنے ماضی کے اس مطالبے کا اعادہ کیا ہے کہ شام میں جنگ سے متاثرہ تمام افراد تک انسانی امداد کی رسائی ممکن بنائی جائے اور اس تنازعے میں جنگی جرائم اور انسانیت مخالف جرائم کے مرتکب حکام اور باغی جنگجوؤں کا معاملہ قانونی چارہ جوئی کے لیے ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کو بھیجا جائے۔