جاگ اے پاکستانی قوم کہ اب وقت آخر ہے

Posted on August 13, 2015



“اے پاکستانی قوم جاگ کہ اب وقت آخر ہے ” دل کی پکار
اس پر لکھنے کو دل نیں کر رہا تھا مگر کیا کرتا آخر انسان ہوں ،یہ واقعہ بھی تو انسانیت سوز ہے اور ضبط بھی جواب دے گیا ۔
قصور کا واقعہ پکار پکار کر کہ رہا ہے کہ ملک اب غریب کے لیے نہیں یہ صرف امیر کا مسکن ہے ۔ یہاں غریب پیدا ہی مرنے ،لوٹنے ، اور نیلام ہونے کے لیے ہوتیں ہیں ۔
یہ فرشتے جن کی عزتیں تار تار ہوئیں ہیں یہ انصاف کے لیے تڑپتے اور مرتے رہیں گے یا پر خود کشی کر لیں گے مگر ان کو انصاف نیں ملے گا ۔
یہ پولیس ، قانون ، حکومت ، اور عدالت سب ان کے گھر کی لونڈی ہے ۔
ویسے بھی قوم کو تو ماڈل ٹاون کا انصاف یاد ہی ہو گا ۔جہاں ریاست کے سارے ادارے ناکام ہوگے ۔
وہ عدالت جو ایک بوتل پر اور دھرنے کے دوران ایک غریب کے شلوار عدالت کے گیٹ پر ڈالنے سے حرکت میں آہی تھی پورا قانون جوش میں آیا تھا ایک قیامت برپا ہوئی کہ غریب نے قانون کی فلاں فلاں شق بلکہ پورے قانون کے مطابق گناہ عظیم کردیا ۔
مگر ان غریب کے بچوں کے لیے پورے ملک کی عدالتوں نے قانون کا بہ غور مطالہ کیا مگر افسوس کہ کوہی شق غریب کے لیے نہ ملی اور نہ ملے گی ۔عدالتوں میں اب مجرا ہی اچھا لگتا ہے وہ بھی غریب کی عزت کا ۔
حکومت کے لیے یہ اس لیے مسلۂ نیں کیوں کہ PMLN کو جو قصور کے MNA,MPA نے پارٹی فنڈ میں جو پیسے دیں تھے وہ تو ان غریبوں کی عزت کی عالمی منڈی میں نیلامی کے تھے۔ویسے بھی نون لیگ میں نہ تو شرم ، نہ غیرت ، نہ حیاء نام کی کوہی چیز ہے ۔پولیس ، قانون ، عدالت تو ان کی لونڈی ہے ۔
اگر ان غریب بچوں کی جگہ نواز شریف، شہباز شریف، زرداری ، اسفندیار ولی، فضل الرحمان ، اچکزئی ،رانا ، طللال، نجم سیھٹی کوہی جاگیردار ، کوہی سرمایہ دار ، پولیس آفیسر ، آرمی افیسر ،کسی جج اور ساسیت دان کی اولاد ہوتی تو اب تک پورے ملک میں قیامت برپا ہوتی ، پولیس ، قانون، عدالت ہاتھ باند کر کتے کی طرح دم ہلتے کھڑے ہوتے۔
غریب کے لیے پورے قانون میں جن کو ایک شق نہ ملی وہ پورا قانون امیر شہر قدموں میں لے آتے ۔
دل کہتا ہے کاش ان غریبوں میں امیر شہر کا بھی کوہی ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔کاش۔
اے لوگوں ان کو کوہی ثبوت غریب کے لیے نیں ملے گا ۔مجرم تماری عزتوں سے کھیل کر باعزت بری ہوجاے گے اور غریب کی عزت یوں ہی نیلام ہوتی رہے گی۔
اٹھو ان ظلم کی سب زنجیروں کو توڑ دو ۔ اس ظالم نظام کو اکھاڑ پھنکو ۔
جاگ جاؤ کہ اس سے پہلے آسمان سے آگ اور پھتر برسیں ۔خدا کے لیے اب تو جاگو ورنہ یہ اسی طرح عزتیں نیلام کرتے رہیں گے۔
جرنل صاحب جمہوریت آپ اور ان کے لیے یقیناً اچھی ہوگی مگر غریب کے لیے نیں ، خدا کے لیے ان غریب کے بچوں کو بھی آرمی پپلک اسکول کے بچے سمجھ لو۔
لوگوں باہر نکلوں اور ان مجرموں کو سر عام پھانسی پر لٹکا دو۔
“از محمد خلیفہ”