” دل کی پکار”

Posted on August 12, 2015



“دل کی پکار ”
( غریب کی بھی کوہی عزت ہوتی ہے کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ )
ابھی قصور واقعے پر جو رویہ حکومت کا دیکھا تو دل خون کے آنسو رویا ۔
پہلے حکومت نے اس واقعے کو دبانے کی کوشش کی مگر جب لوگ اپنا سب کچھ برباد کرکے سڑکوں پر نکلے میڈیا نے ادھر کا روخ کیا تو عوام پاکستان کی آنکھیں کھلیں۔
بے غیرت ، بے شرم ، بے حیاء حکومت کے دالالوں نے ان درندوں کا دفاع کرنا شروع کردیا جنہوں نے معصوم فرشتوں کی عزتوں کو نیلام کیا ۔
قومی اسمبلی نے کہا کہ اس جمہوریت میں ، قانون میں اور اسمبلی میں صرف ہماری بات ہوگی غریب کی عزت کی نیں ۔
عدالت نے کہا کہ ہم بوتل پر ، سموسے پر، شلوار پر تو سُومو ٹو لیں گے مگر غریب کی عزت کے لیے قانون میں جگہ نیں ۔
پولیس نے کہا ہمیں تو علم نیں یہ کہاں ہوا کس نے کیا ، ہاں یہ ہوا کہ ہم نے لاکھوں روپے لیے ، جو FIR کے لیے آیا اسکو زلیل کرکے سمجھایا کہ پنجاب کے قانون میں غریب کے لیے کوہی شق نیں ۔اور ہم نے شریفوں کی نمک حلالی بھی تو کرنی ہے ۔
آرمی دیکھ رہی ہے کہ ان غریبوں میں کوہی آرمی والے کا بچہ تو نیں ، کیونکہ یہی جموریت شریفعہ رہے گی تو ملک ترقی کرے گا ۔
رانا ، طلال اور دوسرے بے غیرت اسطرح دفاع کر رہے ہیں جسے وہ ملوث ہوں ، دفاع کیوں نہ کریں قصور سے جو نواز اور شہباز کو روپے ملتے ہیں وہ ان غریب لوگوں کی عزت نیلام کرکے تو آے ہیں ۔ جسے ان بے غیرتوں کی اپنی اولاد ہی نیں ۔ان کے لیے قانون ہے ، حکومت ہے ، پولیس ہے مگر غریب کے لیے صرف موت اور خود کشی ۔
پاکستان کے سیاست دانوں نے ، عدالت نے ، پولیس نے ، اسمبلیوں نے ، آرمی نے ، اور حکومت نے غریبوں سے صرف ایک ہی سوال کیا ہے کہ
“غریب کی بھی کوہی عزت ہوتی ہے کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ ”
سلام ان کو جنھوں نے IG پنجاب کو جوتوں سے سمجھایا کہ ہاں غریب کی بھی عزت ہوتی ہے ۔
اب قوم کو طاہرالقادری اور عمران خان کے دھرنے کی یاد تو آتی ہوگی جب وہ اس ظلم کے نظام کو گرانا چاہتے تھے ۔تو قوم خاموش رہی ۔ کہا دیکھو کون آیا کون آیا شیر آیا شیر آیا ۔
اب شیر آیا تو جنگل کا قانون بھی لے آیا کہ قانون اسکا جس کی طاقت ۔
طاہرالقادری ٹھیک کہتے تھے کہ یہ صرف جوتوں کی بات سمجھتے ہیں انہیں ان کی زبان میں سمجھاؤ کہ ہاں غریب کی بھی عزت ہوتی ہے ۔
“لوگوں اب بھی وقت ہے ان کو جوتوں سے سمجھا دو کہ ہاں غریب کی بھی عزت ہے اور اب کسی نے ان کی عزتوں سے کھیلنے کی کوشش کی تو اسکی مرمت جوتوں سے کی جاے گی۔