ملا محمد عمر

Posted on July 31, 2015 Articles



ملا محمد عمر ۔۔۔۔۔۔ ملک ریاست
افغان طلبان کے سپریم کمانڈر ملا محمد عمر اب اس دنیا میں نہیں رہے ۔۔۔ اور اس بات کی تصدیق طلبان نے کر دی ہے۔۔۔۔
ایک بات غور طلب ہے کہ جب بھی افغان طلبان کے بارے میں کوئی پیش رفت ہوتی ہے تو بیچ میں کوئی نہ کوئی مسئلہ آن ٹپکتا ہے۔۔۔۔ اب جب مزاکرات کے بارے میں سب کا خیال تھا کہ اس میں پیش رفت ہو سکتی ہے تو ملا عمر کی ہلاکت کی خبر آ گئی۔۔۔۔۔ اب ملا عمر کےبعد ان مزاکرات کا کیا مستقبل ہے ۔۔۔۔۔۔ یہ ایک سوالیہ نشان ہے؟
دشمن طاق لگائے بیٹھا ہمہ وقت سازش میں مصروف عمل ہے کہ کسی طرح بھی امن ممکن نہ ہو سکے۔۔۔۔۔۔۔
اب آتے ہیں ملا عمر کی طرف۔۔۔۔۔۔
ملا عمر کو کچھ لوگ دہشت گرد کہتے ہیں۔۔۔ اور کچھ کرائے کا قاتل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پر حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک عظیم مجاہد ہونے کے ساتھ عالم اسلام کا ایک بہترین لیڈر تھا ۔۔۔۔۔۔۔
اس نے 5 سال افغانستان میں مثالی حکومت کرکے دینا کو دکھایا کہ اس دور میں بھی اسلامی قوانین پر عمل کر کے حکومت کی جاسکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ اس نے اپنے دور حکومت میں ایسی اصلاحات کی کہ آج تک ایسے کام کوئی اور نہ کرسکا۔۔۔۔۔ اس نے اپنے ملک سے اسلحے کا کاتمہ کیا۔۔۔۔ پورے ملک سے سودی نظام کا خاتم کیا۔۔۔۔۔۔ شرعی سزائیں نافذ کیں ۔۔۔ اور ان پر عمل کر کے خلافت راشدہ کی یاد تازہ کی ۔۔۔۔ ہیروئن اور افیون کی کاشت پر پابندی لگا کہ افغانستان کو ہر قسم کے گند سے پاک کیا ۔۔۔۔۔۔
دنیا کچھ بھی کہے مگر وہ استعماری۔ سامراحی قوتوں اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف تھا۔۔۔ اس لیے وہ ان شیطانی طاقوں کو ایک انکھ نہ بہاتا تھا۔۔۔ اور پھر جب خالصتا اسلامی حکومت کفر سے برداشت نہ ہوئَی تو طرح طرح کے پروپیگنڈے کر کے امارات اسلامی پر چڑھ دوڑے۔۔۔۔۔۔
اپنی طاقت اور بموں پر ناز کرنے والوں کا خیال تھا کہ 24 گنھٹوں میں افغانشان کو کلیئر کر لیا جائے گا ۔۔۔۔ پر اس دفعہ ان کا واسطہ پڑا تھا “ملا عمر مجاہد” سے۔۔۔۔۔۔۔۔
جس کی اولوالعزم، بے لوث اور عزمِ جلیل قیادت نے 42 ملکوں کو 12 سال تک افغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں میں تگنی کا ناچ نچا کر رکھا۔۔۔۔
میرے پاس الفاظ نہیں کہ میں اسلام کے اس ہیرو کو خراج تحسن پیش کروں پر اتنا کہتا ہوں جب تک سورج چاند رہے گا ۔۔۔۔ ملا عمر تیرا نام رہے گا۔۔۔
آج سے سیکھ لیا ہے یہ قرینہ ہم نے
بجھ بھی جانا تو بڑی دیر سلگتے رہنا