عیاش سعودی حکمران

Posted on July 30, 2015



عیاش سعودی حکمران۔۔۔۔۔ ملک ریاست

آج ایک خبر نظروں سے گزری جسے پڑھ کر دل دھک سے رہ گیا۔۔۔۔۔ خبر کچھ یوں ہے کہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان چھٹیاں گزارنے اپنے 1 ہزار افراد کے ساتھ فرانس میں موجود ہیں۔۔۔۔۔۔ وہاں موجود اخراجات کی تفصیلات پڑھیں تو عقل دھنگ رہ گئی۔۔۔ اور میں محو حیرت میں ڈوبا یہ سوچتا رہا کہ ہمارے حکمران عوام کو روز کیڑوں مگوڑوں کی طرح مرتا دیکھتے ہیں پر پر ان کے کان پر جوں تک نہیں رہینگتی ۔۔۔۔۔۔ انھیں یہ گمان ہے کہ شائد انھوں نے ہمیشہ اس عیاشی میں رہنا ہے۔۔۔۔۔۔۔
عمر کے اس حصے میں شاہ سلمان کو اللہ کی عبادت اور اپنے منصف کے مطابق عوام کی خدمت کرنی چاہیے نہ کہ عیاشی۔۔۔۔
اب جب یمن کے ساتھ لڑائی شروع ہوئی تو سب سے پہلے میں نے تحریں لکھیں کے پاکستان کو سعودیہ کی مدد کرنی چاہیے۔۔۔۔ بیشک پاکستان کو سعودیہ کی مدد کرنی چاہیے ۔ کیوںکہ حرم کی حفاظت اور اس کا تحفظ ہمارا فرض ہے۔۔۔ ضرورت پڑھنے پر ہم حرم کے لیے اپنی جان کی قربانی بھی دے سکتے ہیں۔۔۔۔ کیونکہ ایک مسلمان کو حرم کی پاسبانی سے زیادہ کوئی چیز عزیز نہیں۔۔۔۔۔
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر
سب باتیں اپنی جگہ درست پر کیا کچھ ذمہ داریاں سعودی حکمرانوں کی بھی نہیں بنتی ۔۔۔۔ کہ وہ خود بھی کچھ کام کریں۔۔۔ انھیں نہیں چاہیے کہ وہ اپنی ایک خود مختار فوج بنائیں ۔۔۔۔۔ جو ہر مشکل وقت میں دوسروں سے مدد مانگنے کے بجائے خود اپنا دفاع کرے۔۔۔۔۔۔۔۔
میں کہنے میں حق بجانب ہوں کہ جتنے وسائل اللہ نے عرب ممالک کو دیئے ہیں اگر یہ عرب حکمران عیاش نہ ہوتے تو اس وقت عالم اسلام کا یہ حال نہ ہوتا۔۔۔۔۔ یہ اپنی دولت عیاشیوں میں نہ صرف کرتے تو اس وقت مسلمان سر اٹھا کے جینے کے قابل ہوتے۔۔۔۔ اور پوری دنیا میں یہ مسلمانوں کی ترحمان ہوتے ۔۔۔۔ پر کاش ؟